وقاص احمد

یہ کیا ہے؟
یہ ایک ملک ہے۔
کباڑ خانہ سا کیوں لگ رہا ہے؟
اپنے صاحبانِ اقتدارِ دائمی و عارضی کی وجہ سے۔
کیوں؟
کیونکہ وہ منافق اور بے شرم ہیں۔
وہ کیسے؟
بتاتا ہوں، یہ دیکھو۔
یہ کون ہے؟
یہ ظاہری و باطنی حکمرانوں کے وظیفہ خور ہیں۔
ان کا کام کیا ہے؟
ان کا کام “رفو گر” والا ہے۔۔۔تم نے وہ حکایت سنی؟
ہاں سنی ہے مگر یہ کیا کرتے ہیں؟ کوئی مثال

مثلاً اگر ان کے مخالفین کی کوئی پراپرٹی ملک سے باہر ہو تو یہ اسے کرپشن سے تعبیر دیتے ہیں، اگر اپنے کی ہی نکل آئے تو اسے محنت اور حق حلال۔
اور؟
مثلاً یہ مخالفین کے ادوار میں سول نا فرمانیوں اور ہنڈی کے ذریعے پیسے بھیجنے کی ترغیب دیتے ہیں اور اپنے ادوار میں حکومت کی اتھارٹی چیلنج ہونے کا رونا روتے ہیں؟
اور؟
مثلاً یہ مخالفین کے دور میں لیے گئے غیر ملکی قرضوں کو “بھیک” کہتے ہیں اور اپنے دور میں اسے خوشخبری کہتے ہیں۔
اور؟
یہ مخالفین کے پارٹی میں موجود کسی کرپٹ فرد واحد کو مخالف کا فرنٹ مین، کرپشن کا ساتھی اور مخالف گروہ کی اصل نمائندگی کہتے ہیں جبکہ اپنے دور میں اپنے کسی کرپٹ بندے کو اس کا ذاتی فعل۔
اور؟
یہ مخالفین کے دور میں ان کو کہتے ہیں کہ اگر ہم میں کوئی کرپٹ ہے تو پکڑتے کیوں نہیں اور اپنے دور میں اسی کرپٹ کے لیے کہتے ہیں کہ قانون ہی موجود نہیں پکڑنے کے لئے
اور؟
یہ اتنے بے شرم ہیں کہ ایک ہی سانس میں اپنے ہیلی کاپٹر کے سفر کو چند روپے فی کلومیٹر کا خرچ بتا کر دفاع کرتے ہیں اور ساتھ ہے پچھلی حکومت کو “کروڑوں” روپے ہیلی کاپٹر کے سفر پر اڑا دینے کا الزام لگاتے ہیں۔

واقعی بہت بے شرم ہیں۔ اور؟
یہ مخالفین کے دور حکومت میں مہنگائی کی وجہ حکمرانوں کی کرپشن بتاتے ہیں اور اپنے دور میں کہتے ہیں کہ پچھلی حکومت نے “غیر ضروری سبسڈی” دی تھی جس کو ختم کرنے پر مہنگائی ہوئی۔

اور بھی کچھ ہے؟
ہاں بھئی۔ ان کے مخالفین اگر اپنی دور حکومت میں جہاز پر سفر کریں تو “باپ کا مال سمجھا ہے” کا طعنہ مارتے ہیں اور اپنے دور میں اسے وزیراعظم کا استحقاق کہتے ہیں۔ اور بھی کچھ بتاؤں؟؟
ارے نہیں نہیں۔ چھوڑو انہیں۔ یہ بتاؤ کہ یہ کون ہے؟
یہ چیپ جسٹس آف المنافقستان بے شرمستان ہے۔
تمہارا مطلب “چیف” جسٹس ہے؟
نہیں چیف جسٹس دوسرے ملکوں میں ہوتے ہیں۔ ادھر چیپ جسٹس ہی ہوتے ہیں۔
یہ “چیپ” کیوں ہے؟
کیونکہ یہ بھی منافقت کا شاہکار ہے۔
اچھا؟ وہ کیسے؟
کہتا تھا غیر قانونی تعمیرات گرا کر زمین واگزار کروائی جائے اور حکومت اسے قبضہ میں لے لے۔
لیکن یہ تو بہت اچھی بات ہے، اس میں برائی کیسی؟
ہاں، بات تو اچھی ہے۔ مگر غیر قانونی تعمیرات میں بیواؤں، غریبوں اور یتیموں تک کے مکانات بلا امتیاز گرا دیے گئے لیکن اپنے ایک لاڈلے کا مکان آیا تو اسے کہا کہ اپنی مرضی کا جرمانہ ادا کر کے قانونی کروا لو۔
واقعی یہ تو بے شرمی ہے، اور بھی کچھ؟
ہاں نا، ایک مقدمے میں فیصلہ کرتے ہوئے لکھا کہ ہمیں شک ہے کہ فلاں دستاویز جعلی ہے۔ اس کی تفتیش کرواؤ اور جعلی نکلنے پر 7 سال قید کی سزا دو۔

تو پھر؟
وہ کاغذ تو جعلی ثابت نا ہوا لیکن اسی غیر قانونی مکان والے لاڈلے نے اسی کی عدالت میں ایک جعلی کاغذ جمع بھی کروایا اور بعد میں اعتراف بھی کر لیا۔ مگر اس کو “کوئی گل نئیں، غلطی ہو جاتی ہے” کہہ کر چھوڑ دیا۔
یہ واقعی چیپ جسٹس ہے۔ اور کیا؟
یہ چیپ پچھلی حکومت کو صرف زچ کرنے کے لیے حکومتی کاموں میں ٹانگ اڑاتا تھا۔ کہتا تھا ڈیم بھی بناؤں گا۔ اپنے لاڈلے کی حکومت آئی تو کہتا ہے یہ ہمارے کرنے کے تو کام نہیں۔
ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔یار یہ تو واقعی انتہائی بے شرم ہے۔ اور کچھ؟

ہاں بونگیاں بھی بہت مارتا ہے۔ کہتا ہے پڑوسی ملک نے ہمارا ڈیم بند کر دیا میں ان کے ٹی وی چینل بند کر دوں گا۔ ہاہاہاہاہاہاہا۔۔
چند دن پہلے اسی پڑوسی ملک کی کسی فلم کا حوالہ دیکر کہہ رہا تھا کہ سب اسے ضرور دیکھیں۔
ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔یہ کارٹون کہاں سے ڈھونڈا؟
ہم نے نہیں ڈھونڈا۔ کچھ نااہل اور نالائق لوگ پڑے پڑے سینئر ہوجاتے ہیں اور پھر ایسے عہدوں پر بیٹھ کر اپنے آپ کو عقل کل سمجھتے ہیں۔
اچھا چھوڑو یہ کون ہے؟
ششش۔۔۔اس کے بارے زرا دھیرے سے بات کرو۔ کوئی سن نا لے۔
کیوں؟
یہ بھی ایک چیپ ہے۔۔۔مگر کسی اور ادارے کا.
اچھا؟؟ یہ بھی منافق ہے؟
ہاں بھئی۔ یہیں سے تو منافقت کے سرچشمے پھوٹتے ہیں۔
یہ کیا کرتا ہے؟
یہ خود کچھ نہیں کرتا، یہ کرواتا ہے۔

مثلاً؟
ایک دفعہ حکومت کے خلاف سکینڈل کھڑا کیا کہ “اعلیٰ سطحی میٹنگ میں ہونے والی خفیہ گفتگو” لیک کی گئی ہے۔ بعد میں اسی میٹنگ کے فرضی اقتباسات کو اتنا اچھلا کہ جن کو نہیں پتہ تھا ان کو بھی پتہ چل گیا؟
واقعی؟ اور؟
ایک دفعہ وزیر خارجہ کو آڑے ہاتھوں لیا کہ اس نے “اپنے گھر کی درستگی” والی بات کیوں کہی؟ چند دن بعد خود اخبار کو انٹرویو دیکر کہہ رہا تھا کہ “غیر ریاستی عناصر ہمارے ریاستی معاملات میں دخل اندازی کی کوشش کر رہے ہیں”.
تو ان دونوں باتوں میں فرق کیا ہے؟
فرق تو ہمیں بھی نہیں پتہ چلا مگر ایک دفعہ تو اس نے حد کر دی جب ایک سابقہ حکمران کے خلاف غداری کا پروپیگنڈا اس بنیاد پر شروع کروایا کہ اس نے یہ کیوں کہا کہ ہماری طرف سے کچھ غیر ریاستی عناصر پڑوسی ملکوں میں در اندازی کرتے ہیں۔ اس بات کے چند دن کے اندر اندر اسی کے ادارے کے ایک ریٹائرڈ سینئر نے پڑوسی ملک کے ہم منصب کے ساتھ مل کر اس معاملے پر بمعہ اعترافات و شواہد پوری کتاب لکھ ماری اور یہ بیچارہ اس کا کچھ نا کر سکا۔

ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔یہ تو کمال ہوگیا۔۔مطلب اپنے ہی بندے؟
ہاں تو اور کیا۔۔۔اور ایک نہیں، اسی ادارے کے کئی بندے یہ باتیں کر چکے۔
اچھا مٹی ڈالو۔۔۔یہ کون ہے؟
اسے ہم سٹیو جابز کہتے ہیں۔
سٹیو جابز تو امریکن تھا یار، مر گیا ہے وہ۔ یہ کون ہے؟
یہ جعلی سٹیو جابز ہے۔
یہ کیا کرتا ہے؟
پہلے تو یہ پھڑیں مارتا تھا، آج کل وزیر خزانہ ہے اور کچھ نہیں کرتا۔
مطلب؟
کہتا تھا کہ ملک کے 200 ارب ڈالر لوٹ کر باہر لے جائے گئے، یہ ان کو واپس لائے گا۔
تو اچھی بات ہے، اب کیا؟
اب یہ ہنس کر کہتا ہے کہ 200 ارب ڈالر تو کوئی غلط فہمی تھی۔
تو جن لوگوں نے ان باتوں پر اسے ووٹ دیا وہ غصہ نہیں ہوئے؟
نہیں، وہ کافی ڈھیٹ ہیں، انہیں فرق نہیں پڑتا۔
اور کیا؟
اور یہ ٹی وی پروگرامز میں بیٹھ کر اپنے پارٹی کے ترجمان کے ساتھ مل کر ملکی معیشت کی بحالی پر لمبے چوڑے بھاشن دیا کرتا تھا۔
اور آج؟
آج کچھ نہیں۔ کہتا ہے کہ پچھلی گورنمنٹ بھی صحیح چلا رہی تھی، ہمیں مشورہ دیں کہ ہم کیا کریں۔
ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔اچھا چھوڑو۔۔۔یہ آخری والا کون ہے؟
یہ؟ He is nobody
ارے یار nobody کیا مطلب؟؟
مطلب یہ کہ اپنے بیان کے مطابق اصولاً تو اسے ابھی تک خود کشی کر لینی چاہیے تھی۔
کیوں؟
یہ کہتا تھا کہ قرض اور بھیک لینے سے بہتر ہے کہ میں خودکشی کر لوں۔
تو پھر؟
پھر یہ کہ امداد بھی لے لی، کہتا ہے مذید بھی لے گا اور اوپر سے تقریر کر کے لوگوں کو بھیک ملنے پر مبارکباد بھی دے رہا ہے۔
تو وہ خود کشی پلان؟
بتایا تو ہے، بے شرم لوگ ہیں اور بے شرموں کی کون سی ایک زبان ہوتی ہے۔
پر یہ ہے کون؟
چھوڑ یار۔ یہ بھی کوئی بندوں میں بندہ ہے۔ اس کا پوچھ کر کیا کرنا؟
نہیں صرف معلومات کے لئے نام جاننا چاہ رہا تھا۔ کیا ہے نام؟
ہم اسے آج کل منگو اعظم کہتے ہیں۔

97 COMMENTS

Comments are closed.