وقاص احمد

مشرف والی نیب آمروں اور ان کی کٹھ پتلیوں کو کیوں پسند  ہے؟ آئیے! مثالوں سے سمجھتے ہیں۔

نواز شریف

نیب: ” آپ کے پاس لندن فلیٹ کہاں سے آیا؟“

نوازشریف: ”جی یہ میرے والد نے میرے بیٹوں کو وراثت میں دئیے۔ ثبوت کے کاغذات ان کے بزنس پارٹنر قطری شیخ اور میرے بیٹوں کے نام ٹرسٹ ڈیڈ ہے۔“

نیب: ”نہیں جی ہم مطمئن نہیں، رسیداں کڈو“

پرویزمشرف

  نیب: ”پرویز مشرف یہ آپ کے اکاؤنٹ سے جو کروڑوں ڈالر، پاؤنڈز اور ریال برآمد ہوئے ہیں، وہ کہاں سے آئے ہیں؟“

مشرف: ”وہ جی! سعودی عرب کے سابق مرحوم بادشاہ نے مجھے گفٹ کیئے تھے۔ ریکارڈ وغیرہ کوئی نہیں“

نیب:  ”اوکے! واہ !  ہم آپ کی وضاحت سے مکمل مطمئن ہیں۔“

جہانگیرترین

  نیب:  ”جہانگیر ترین لندن والا گھر کہاں سے آیا؟“

ترین:  ”وہ جی! میں تو مالک ہی نہیں ہوں، میرے بچے مالک ہیں۔“

نیب:  ”ہمیں آپ کی وضاحت قبول نہیں لیکن چلیں آپ کو گرفتار نہیں کرتے، موج ماریں!“

عمران خان

   نیب:  ”خاں صاحب! یہ بنی گالا کہاں سے آیا اور اس کا خرچہ کون چلاتا ہے؟“

خاں صاحب:  ”یہ دیکھیں جی! یہ کرکٹر مشتاق احمد کا 1988 کا کنٹریکٹ ہے، میں اس سے زیادہ پیسے لیتا تھا۔ ہوا یوں کہ میرے پاس ایک فلیٹ تھا۔ میں نے وہ فلیٹ بیچا اس کے پیسے طاہر کو دئیے، طاہر نے راشد کو دئیے، راشد نے جمائمہ کو دئیے، جمائمہ نے بنی گالا خریدا، اس نے مجھے بنی گالا گفٹ کردیا۔ پر میں نے کبھی جمائمہ سے گفٹ نہیں لیا۔ میں تو نوکروں کے گھر سے روٹی کھا لیتا ہوں اور بنی گالا کا خرچہ جہانگیر ترین کے ذمے ہے۔“

نیب:  ”واہ واہ! خاں صاحب! کیا خوب منی ٹریل ہے۔ آپ نے ناصرف ہمیں مطمئن کردیا بلکہ ہم آپ کو صادق و امین کا عدالتی ٹھپہ بھی لگا کر دے رہے ہیں، اس اعلیٰ منی ٹریل پر۔“

چوہدری برادران

  نیب:  ”جی جناب! محترمی گجراتی چوہدریو! یہ آپ کے ملازم نے 40 پلاٹ خرید لیئے ہیں۔ کتنی تنخواہ دیتے ہیں آپ انہیں کہ اگلے نے 40 پلاٹ خرید لیے؟“

چوہدری برادران:  ”ایک منٹ!  ذرا میں خاں صاحب کو کال ملاؤں! ہیلو! جی خاں صاحب! ہم آپ کی حکومت کے اتحادی نہیں رہ سکتے۔“

نیب:  ”ارے ارے! چوہدری صاحب رکیے تو سہی! میں تو اصل میں یہ جاننا چاہ رہا تھا کہ اگر آپ مجھے بھی اپنا ملازم رکھ لیں تو مجھ غریب کے بھی کچھ پلاٹ بن جائیں۔ آپ کی منی ٹریل منظور ہے۔“

جنرل عاصم باجوہ صاحب

  نیب:  ”جی جنرل عاصم باجوہ صاحب! سنا ہے کہ آپ ملین ڈالر جائیداد کے مالک ہیں۔ آپ کے ننھے ننھے   بچے امریکہ میں دو گھر خرید چکے ہیں، پاپا جونز کا کاروبار چار ملکوں میں پھیلایا ہے اور آپ خود 6 کروڑ کی لینڈ کروزر 33 لاکھ میں خرید بیٹھے ہیں۔ خیر ہے؟ یہ پیسہ کدھر سے آیا؟“

عاصم باجوہ:  ”جی دیکھیں! ایک تو میں نے بیان جاری کرکے ان الزامات کی سختی سے تردید کردی ہے۔ جو کہ پاکستان کی ہر عدالت کی تسلی کے لیئے کافی ہے لیکن میں نے اپنے وکیل کے ساتھ بیٹھ کر منی ٹریل کا مکمل حساب کتاب بھی لکھ کر رکھ لیا ہے۔ وہ میں آپ کو سمجھا دیتا ہوں۔ ہوا یوں کہ میرے پاس 73000 ڈالر تھے۔ اس 73000 ڈالر کو میں نے 137 سے ضرب دی تو وہ ایک کروڑ ڈالر بن گئے۔ ان ایک کروڑ ڈالر کو میں بینک لے کر گیا تو بینک والوں نے مجھے 7 کروڑ ڈالر اور دے دیا۔ ویسے تو ساری کمپنیاں مسلسل خسارے میں ہیں لیکن اللہ کا فضل ہے کہ پیسے سے پیسہ بنتا ہی چلا آرہا ہے۔“

نیب:  ”واہ جنرل صاحب واہ! آپ کی منی ٹریل سن کر دل کو وہ اطمینان نصیب ہوا، جو مولانا طارق جمیل کا حوروں کا سراپا بیان کرنے والے خطبات کو سن کر نصیب ہوتا ہے۔ آپ کی منی ٹریل منظور کی جاتی ہے۔“

Previous articleخواجہ سراؤں کو حق وارثت دے کر معاشرے کا حصہ بنایا جائے
Next articleچھ سالہ مروہ کی ادھ جلی لاش