وقاص احمد

وطن عزیز میں نیو ریاست میڈونا کی کھڑکی توڑ ناکامی کے بعد ریاست میڈونا کے خلیفوں اور خلیفوں کے ہرکاروں کو پھر تبدیلی کی بدہضمی ہونے کا احتمال ہے۔ اس ”تبدیلی در تبدیلی“ کے نشانات آہستہ آہستہ واضح ہونا شروع ہو رہے ہیں، مثلاً طارق جمیل صاحب پر خاں صاحب کے باطنی فضائل یکدم منکشف ہونا بند ہوگئے ہیں، تبدیلی کے بھانڈ، طبلچی اور ڈھولچی صحافی بھی ”آہستہ آہستہ خاں ایماندار بھی ہے اور مخلص بھی“  سے تبدیل ہوکر ”یہ تو ویسے ہی ہیں جیسے پچھلے تھے“ اور پھر مزید تبدیل ہوکر ”جیسے بھی تھے کم از کم پچھلے والے ان سے تو بہتر ہی تھے“  میں تبدیل ہوتے جارہے ہیں۔ ”اسٹیبلشمنٹ“ کے ریٹائرڈ اور ”ریٹارڈ“ جرنیل ٹاک شوز میں منہ بھر بھر کر عمران خاں صاحب کو کوسنے دے رہے ہیں (ان کا کوسنا بنتا بھی ہے کہ انہوں نے تو اپنی ساری انوسٹمنٹ گھڑ دوڑ کے مقابلے میں ایک گدھے پر کر دی تھی) لیکن ابھی بھی کوئی ریٹائرڈ یا ریٹارڈ جرنیل یہ ماننے کو تیار نہیں کہ اس فساد اور تباہی کی ذمہ داری خاں صاحب سے پہلے خود ان کے کندھوں پر ہے۔ اردو میں اس رویے کے لیئے دو محاورے موجود ہیں جو ”رسی جلنے اور بل نہ جانے“ اور دوسرا ایک ایسے جانور کی دم کے تذکرے پر مشتمل ہے جس کی دم باوجود کوشش ”بیس سال میں بھی سیدھی نہیں ہوسکتی“۔ بعد از خرابی بسیار اور عوامی لعنت و ملامت بیشمار ”اسٹیبلشمنٹ“ کے سرکردہ لوگوں نے ڈاکٹرائن والے انکل سے گھبرا کر پوچھا کہ آپ کی ڈاکٹرائن کے اس صفحے   جس پر ہم خاں صاحب کے ساتھ کھیل کود تماشے اور مستیاں کر رہے ہیں، کے بعد اگلے صفحات پر کوئی پلان بی یا پلان سی بھی تو ہوگا ناں؟ جواب میں انکل ڈاکٹرائن نے خاموشی سے کتاب کے اگلے صفحات پلٹ کر دکھا دیئے، جو سبھی خالی تھے۔

عجب تماشہ ہے، جائے عبرت ہے کہ یہی لوگ پچھلی حکومتوں کو ان کے صحفے سے ادھیڑ کر اپنے صفحے پر لانے کے لیئے ان کی حکومتیں تک پلٹا دیتے تھے اور اب یہ حال ہے کہ خاں صاحب جو بخوشی ان کے اپنے صفحے پر ہیں، سے جان چھڑا کر یہ کسی دوسرے صفحے پر منتقل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن خاں صاحب ان کو کمبل کی طرح چمٹ گئے ہیں۔ حالات حاضرہ یہ ہیں کہ اس ڈاکٹرائن کے ترجمان، جو پہلے سب کو لائن میں بٹھا کر ”صرف مثبت رپورٹنگ کیجئے“  کی دھمکی آمیز تنبیہہ کیا کرتے تھے، اب وہ ”جو بھی کیجیے بس ہمارے نام ناں لیجیے“  جیسی شرائط پیش کر رہے ہیں۔ بے وثوق ذرائع کے مطابق شنید ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کو ”اعتماد سازی“ کے لیئے جنوبی پنجاب کے بھیڈو اور میانوالی کے بوبکرے کی قربانی کی پیش کش کی گئی ہے لیکن اپوزیشن والے کہتے ہیں کہ قوم نے مٹن چانپیں اور کڑاہیاں بہت کھا لیں اب ذرا پنڈی کی گائے کے sirloin steaks کھانے کا من ہے۔

ظاہر ہے دونوں اطراف ابھی تک اپنے اپنے ”اصولی اور مکمل متضاد موقف“ پر ڈٹی ہوئی ہیں تو معاملہ مزید بگاڑ کی طرف جانے کے امکانات اور بھی زیادہ ہیں۔ ایک فریق کے مطابق ”ہمارا کبھی کوئی قصور نہیں ہوتا“ اور دوسرے فریق کے مطابق ”اصل قصور ہی تمہارا ہے“  اس تو تو میں میں کا نتیجہ کیا نکلے گا، یہ تو کوئی اندر کی خبر والا صحافی بتا سکتا ہے یا کوئی نجومی۔ جو میں آپ کو بتا سکتا ہوں، وہ یہ سبق ہے جو میں نے پاکستانی تاریخ کے مطالعے سے سیکھا۔ سبق یہ ہے پاکستان میں جب کسی سیاسی حکومت کو فارغ کرنا ہوتا ہے تو اچانک کچھ مخصوص لوگوں کو یاد آتا ہے کہ پاکستان کی بھلائی ”قومی حکومت“، ”صدارتی نظام“ یا پھر ”ٹیکنوکریٹ حکومت“ میں ہے۔ بیچ بیچ میں کچھ خلافت کے علمبردار بھی نظر آتے ہیں۔ (برسبیل تذکرہ، اہلیان یوتھ کی معلومات کے لیئے عرض ہے کہ پاکستان میں فی الحال پارلیمانی جمہوریت کا نظام قائم ہے)۔ ایسی درفنطنیوں کا مقصد حقیقت میں کوئی نظام کی تبدیلی نہیں بلکہ ویلی عوام کو جگالی کرنے اور آپس میں اختلافی سرپھٹول کرنے کے لیئے ایک مزید موضوع دینا ہوتا ہے۔ آئیے ذرا! تینوں سسٹمز کا جائزہ لیتے ہیں!

1- قومی حکومت:- مطلب ایسی حکومت جس میں ہر پارٹی کا حصہ بقدر جثہ متعین ہو اور کوئی اپوزیشن نہ ہو (کیونکہ یہ فریضہ یہاں بھی اسٹیبلشمنٹ نے اپنے ذمہ لیا ہوتا ہے)۔ یہ ناقابل عمل تجویز اس لیئے ہے کہ اگر تو ملک میں پہلے ہی ترقی کے چوکے چھکے لگ رہے ہوں تو مقتدر پارٹی کسی کو اپنی کامیابی کا کریڈٹ شئیر نہیں کرتی اور جب ملک میں آج کی طرح تباہی و بربادی کا لامتناہی سلسلہ چل رہا ہو تو کوئی بھی سیاسی پارٹی کسی دوسرے کی نااہلی اور نالائقی کی ذمہ داری اپنے سر نہیں لینا چاہتی۔

2- صدارتی نظام:- آپ میں سے کتنے لوگوں کو علم ہے کہ پاکستان میں صدارتی نظام ایک دفعہ نہیں، دو دفعہ نہیں، تین دفعہ نہیں بلکہ چار دفعہ نافذ العمل رہا ہے؟ اگر اس سسٹم نے کچھ ڈیلیور کرنا ہوتا تو ہر دفعہ اس سسٹم کی خرابیوں کا ازالہ کرنے کے لیئے واپس پارلیمانی سسٹم پر جانے کی حاجت نہ ہوتی۔ صدارتی سسٹم کا واحد فائدہ صرف ایک ہے اور وہ بھی عوام کو نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کو۔ اور وہ فائدہ یہ ہے کہ اس سسٹم کو ہائی جیک کرنا بہت ہی آسان ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں یہ سسٹم صرف اور صرف جمہوریت کے خلاف آمریت کا ہتھیار بن سکتا ہے اور شدید اندیشہ ہے کہ یہ سسٹم اسی طرح پاکستان کی وحدت کو تار تار کر دے گا جیسے پہلے ایک دفعہ ایوب اور یحییٰ کے ”صدارتی“ دور میں اس نظام نے پاکستان کے دو ٹکڑے کیئے تھے۔ سو یہ ناقابلِ قبول ہے۔

3- ٹیکنوکریٹ حکومت:- میری کوشش ہوتی ہے کہ اپنی تحاریر میں سب سے مزاحیہ پیراگراف سب سے آخر میں رکھوں تاکہ میرے قاری کا مطالعہ ہنستے مسکراتے ختم ہو۔ اس لیئے ٹیکنوکریٹ سسٹم پر تبصرے کو سب سے آخر میں جگہ دی۔ میرا سنجیدگی سے سوال ہے! آخر کار ہمارے ملک کے سنجیدہ لوگوں کو اتنی چھوٹی سی بات کیوں سمجھ نہیں آتی کہ ٹیکنوکریٹ سسٹم کا نعرہ کوئی سنجیدہ نعرہ نہیں بلکہ ایک میٹھا ”لولی پاپ“ ہے جسے انہیں ہر چند سال بعد چوسنے کو تھما دیا جاتا ہے۔ یہ تو اللہ کا لاکھ لاکھ کرم ہوا اور خاں صاحب کی حکومت قائم ہوگئی جس نے اس سسٹم پر ہمیشہ کے لیئے اتمام حجت کردیا۔ ذرا ایک منٹ کو ٹھنڈے مزاج سے سوچیے! یہ شہباز گل، شہزاد اکبر، ڈاکٹر حفیظ شیخ، شبر زیدی، انیل مسرت، زلفی بخاری، عبدالرزاق داؤد، تانیہ ادریس اور رضا باقر وغیرہ کون لوگ ہیں؟ یہ سب ٹیکنوکریٹس ہیں بھولے بادشاہو! اگلی اہم بات، کیا یہ سب خاں صاحب کے جان پہچان کے لوگ ہیں؟ نہیں حضور والا! وزیروں اور مشیروں کی اس لمبی قطار میں، جو ہمارے خاں اعظم کے اردگرد موجود ہے، چند ایک کو چھوڑ کر سب اہم ”ٹیکنوکریٹس“ وہ ہیں جو خاں صاحب پر ”دیوتاؤں کی طرف سے نازل“ کیئے گئے ہیں۔ پپو کو پاس کروانے کے لیئے، پپو کے پاپا نے دنیا جہاں سے جو کچھ اکھٹا ہو سکتا تھا وہ اکٹھا کر کے کمرہ امتحان میں پپو کے ساتھ بٹھا کر نگران کو کمرے سے باہر نکال دیا۔ لیکن کمرے کے اندر حال یہ ہے کہ پپو ٹیکنوکریٹس کا منہ تک رہا ہے اور ٹیکنوکریٹس پپو کا۔ پاپا بے چارے کو خود کچھ نہیں آتا ورنہ پرچہ خود حل کر دیتے اس لیئے پلان ممتحن کو اغواء کرکے زبردستی نمبر لگوانے کا تھا لیکن مجبوری یہ بن گئی کہ اس دفعہ ممتحن عوام ہے اور غصے میں بھی ہے۔ اس لیئے اگر کسی بھی ہوش مند کے دماغ میں یہ مبہم سی بھی امید ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی پٹاری سے ابھی کسی نئی ٹیکنوکریٹ حکومت کا آپشن نکلنا باقی ہے تو جناب اپنے ذہن کو صاف کر لیجئے۔ اس پٹاری میں جتنے سانپ موجود تھے وہ مداری نے آپ کو دکھا دیئے اور اب اس کے پاس صرف ایک بین ہی ہے جو بجا بجا کر آپ کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ چنانچہ اگر آپ عقلمند ہیں تو ٹیکنوکریٹ حکومت کا ٹنٹنا آپ کے ذہن سے ہمیشہ کے لیے صاف ہوجانا چاہیے۔

اوپر میں نے ”نظام خلافت“ کا ذکر بھی کیا تھا۔ اس پر گفتگو اس لیئے نہیں کی کہ اول تو اس نظام کا نعرہ اسٹیبلشمنٹ کے پروردہ لوگوں کے لیئے صرف ایک فرار کا راستہ ہے۔ مطلب جب ان کے کٹھ پتلی، قومی ،صدارتی اور ٹینکوکریٹی نظام کی ہوا نکل جاتی ہے اور یہ تسلیم کیئے بنا چارہ نہیں رہتا کہ جمہوریت ہی فی الوقت قابلِ عمل نظام ہے اور اقتدار عوام کے نمائندوں کو منتقل کیئے بنا چارہ نہیں تو یہ حسب عادت مذہب کارڈ کھیلنے کی کوشش میں نظام خلافت کے پرچارک بن جاتے ہیں۔ دوم یہ کہ گنتی کے وہ افراد جو خلافت پر واقعی یقین رکھتے ہیں وہ آج تک ان دو سوالوں کے جواب نہیں دے سکے کہ موجودہ دور میں خلافت نافذ کیسے ہوگی، اور اپنی اصل روح میں خلافت اور جمہوریت کے درمیان فرق کیا ہے؟

Previous articleحضور والا! ایک جرنیل ادھر بھی!
Next articleمریم نوازشریف، بیان اور بیانیہ