شہزاد فرید

انتخابی نتائج نے ایک بات تو واضح کردی کہ اس ملک میں کسی کو جنت نہیں چاہئے ۔اکثریت مذہب کے نام پہ بکنے والی نہیں ہاں البتہ پیسوں کے لیے خود کو بیچنے پر رضامند ہوجاتے ہیں تو براہِ کرم مذہبی شدپ پسندی کا ڈھول اس ملک کے ہر شہری کے گلے میں باندھنے کی تحریری ضد کی ضد بنیں ۔دوسری بات مارخور کی ہے۔

2008 میں عوام کا مینڈیٹ تھا، مارخور سوئی ہوئی تھی، 2013میں بھی ووٹ کو عزت دی گئی ، مارخور خوابِ خرگوش کے مزے لوٹ رہی تھی۔کچھ لوگ یہ سچ فرمارہے ہیں کہ انتخابات کے پیچھے وردی ہےجو عوام کو جیپ میں بٹھا کر سیدھا جنت لےکے جائے گی!جی جناب یہ حق ہے ست ہے کہ وردی ہے، اسی لئے مارخور تحریکِ لبیک جیت گئی، مارخور پاک سرزمین جماعت نے کراچی کے سارے مخالفین کو چاروں شانے چِت کردیا ، مارخور جماعتِ اسلامی نے پورے پاکستان میں سادہ اکثریت حاصل کرلی، مارخور جیپ نے عوامی مینڈیٹ کو روند دیا۔بلو چستان میں مارخور کی سادہ اکثریت منظرِ عام پر آگئی، انتخابات کے خشک پہاڑوں پر عوام کا مینڈیٹ کندھوں پر لادے ہمیں مارخور کی قطاریں دکھائی دے رہی ہیں۔

لیکن افسوس اس بات کا ہےکہ بلاول جیتے تو مینڈیٹ ، زرداری جیتے تو عوامی رائے، خورشید شاہ کو ووٹ ملے تو جمہوریت اور عمران پانچ نشستو ں پر برتری حاصل کرے تو ہمیں اس کی عوامی پذیرائی میں فوج دکھائی دیتی ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی صوبائی اکثریت حاصل کرتی ہے تو وہ عوامی مینڈیٹ ہے، پنجاب میں ن لیگ سو سےزائدصوبائی نشستوں پر جیت جاتی ہے تو وہ بھی عوامی مینڈیٹ ہے، لیکن اگر پختونخواہ کی عوام، جنہوں نے کبھی کسی جماعت کو دوبارہ مینڈیٹ نہیں دیا ، دوبارہ تحریکِ انصاف کو منتخب کرتی ہے تو وہ فوج کرا رہی ہے، مینڈیٹ نہیں ہے۔ ن لیگ نے پچاس سے زائد قومی نشستیں جیتی وہ فوج نہیں کرا رہی، پیپلز پارٹی نے تقریباً40 نشستوں پر کامیابی حاصل کی وہ بھی فوج نے نہیں کروایا، ہاں البتہ اگر لوگوں نے تحریکِ انصاف کو سو سے زائد قومی نشستوں پر برتری دلوائی تو ووٹ ڈلوانے کے لئے معصوم عوام کو فوج گاڑیوں میں بھر بھر لے جارہی تھی۔ہم یہ ماننے کو تو تیار ہیں کہ شہباز شریف نظریاتی ہونے کی وجہ سے جیتے، حمزہ شہباز کو عوام نے بزورِ جمہور ووٹ دیا لیکن یاسمین راشد کی ہار کے پیچھے فوج نہیں، ابرالحق کی ہار احسن اقبال کی شاندار کمپین کی وجہ سے ہوئی ہے،علیم خان کی جیت بھی جناب مارخور کو منظور نہیں تھی۔

ہم یہ قبول کرنے میں بھی ذرا عار محسوس نہیں کرتے کہ چوہدری نثار کی اب مارخور کو ضرورت نہیں، مولانا فصل الرحمٰن بھی فوج کی نظروں سے گر گئے، سراج الحق بھی ان کے شانے سہلانے سے عاری ہیں، سرفراز بگٹی ان کے کام کے نہیں رہے،کیونکہ یہ ہار گئے ہیں ہاں البتہ یہ ماننے کو تیا ر نہیں کہ بلاول کو فوج استعمال کرنا چاہتی ہے اس لئے جیت گیا، زردادی کی مفاہمت سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے اس لئے برتری پائی، خورشید شاہ کی متقابل صلاحتیں انہیں خان کو قابو میں رکھنے کے لیے درکا ہیں،اس سبب سرخرو ٹھہرے، شہباز شریف ، حمزہ شہباز، ایاز صادق وغیرہ کی حزبِ اختلا ف کی اس لئے ضرورت ہے کہ اپنی پالیسی نافذکر سکیں ، اس لئےانہیں فتح دلوائی ، نہیں جناب نہیں۔ بالکل نہیں، یہ سارے کا سار ووٹوں کا پلندا تو عوامی مینڈیٹ ہے، ووٹ کی عزت ہے، بی بی کا وعدہ نبھانے کی تابہ مقدور سعی ہے، جوئے شیر لانے کی علت ہے! کیا سندھ اور پنجاب میں فوج کا کوئی عمل دخل نہیں ہے؟ یہ یورپ کے علاقے ہیں!

ہمیں نتائج تب ہی قبول ہیں جب گیلانی خاندان کو فتح نصیب ہو، ہمیں نتائج تب ہی قبول ہیں جب شریف فیملی سادہ اکثریت حاصل کرے، ہمیں نتائج تب ہی قبول ہیں جب بھٹو نما زرداری خاندان کو شاہی کرسی نصیب ہواس لئے نہیں کہ ہم جمہوری ہیں اس لئے کہ ہمیں ایسی جمہوریت کی عادت ہو گئے ہے، اور سیانے کہتے ہیں کہ “عادتاں سِراں ناجاندیاں نے”!