مہناز اختر

یہ بالکل جھوٹ ہوگا کہ میں کہوں کہ کراچی کے سابقہ میڈیا ورکر بعد ازاں رکشہ ڈرائیور فہیم مغل کی خودکشی نے مجھے جھنجھوڑا یا چونکا دیا کیونکہ پاکستان میں مالی مصائب سے تنگ آکر کی جانے والی یہ پہلی خودکشی نہیں تھی اور نہ آخری ہوگی۔ ہاں لیکن فہیم مغل کی خودکشی کی خبر نے میرے قلم کو ایک زور دار دھکا ضرور لگایا۔ وہ لکھنے کے لیئے جو میں چند مہینوں سے دیکھ رہی اور محسوس کررہی تھی۔ 

میں بذات خود ایک کامرس گریجویٹ ہوں لیکن طالب علموں کی اکثریت کی طرح میں نے بھی یہ تعلیمی سال کوفت اور بیزاری میں صرف ڈگری کے حصول کے لیئے صرف کیئے۔ ہم نے نہ معیشت کو سمجھا اور نہ کاروبار کو، نہ محنت کو نہ معاوضے کو۔ کامرسی کے چار سالوں کے درمیان کاروبار اور پیسے کے بارے میں پڑھانے والی درسگاہیں ہمیں یہ نہ بتا سکیں کہ ہم پیسہ کس طرح سے کما اور بچا سکتے ہیں۔ کالج میں داخلے کے وقت والد صاحب نے سمجھا دیا تھا کہ میں عام سا سفید پوش انسان ہوں اور میں تمہارے پسند کا شعبہ یا تعلیم افورڈ نہیں کرسکتا البتہ مشورہ دے رہا ہوں کہ کامرس میں داخلہ لے لو۔ اس میں اکاؤنٹنگ پڑھائی جاتی ہے اور دفاتر میں  ایک سفید پوش مزدوری کا حصول نسبتاً آسان ہو جاتا ہے کیونکہ ہمارے شہر میں دفتری مزدور کی ڈیمانڈ نسبتاً زیادہ ہے۔ والد صاحب خود ایک منجھے ہوئے کمیونسٹ تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس ڈگری کی مدد سے نہ تو میں ایک اچھی ”نوکری“ حاصل کرپائی اور نہ ہی اس ڈگری نے معیشت اور ”سیاسی معیشت“ کو سمجھنے میری مدد کی۔ معیشت اور ”سیاسی معیشت“ کے فرق کو جاننے کے لیئے یہ بالکل بھی ضروری نہیں ہے کہ آپ نے مارکس اور فریڈرک کو گہرائی سے پڑھا ہو یا فلسفے کی خاک چھانی ہوں۔ بلکہ معاشرے میں موجود واضح تفاوت اور کلاس کے لائف اسٹائل کا عمیق مشاہدہ بھی آپ پر وہ راز آشکار کرسکتا ہے جو سیاسی معیشت کے بڑے بڑے نقادوں پر کبھی ہوا ہوگا۔

”سروائیول آف دا فٹسٹ“ یہ جملہ میں نے بینک کے ایک انتہائی اعلیٰ عہدیدار کی زبان سے سنا۔ چند ہفتوں قبل اسی قسم کی گفتگو میں نے ایک سرمایہ دار انڈسٹرلسٹ کی زبان سے بھی سنی تھی۔ تذکرہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کا ہورہا تھا۔ میں اس گفتگو کا براہ راست حصہ نہیں تھی لیکن اس جملے ”سروائیول آف دا فٹسٹ“ نے مجھے چونکا کر رکھ دیا کہ سرمایہ دار طبقہ اور ان کے مفادات کا تحفظ کرنے والے بینکاری نظام کا اعلیٰ عہدیدار اگر بڑھتی ہوئی مہنگائی اور تشویشناک صورت حال پر بے نیازی سے مذکورہ جملہ ادا کرے تو یہ انتہائی خوفناک بات ہے۔ ”سروائیول آف دا فٹسٹ“ سے مراد یہ ہے کہ ارتقائی اور سنگین ماحولیاتی تغیر سے ہم آہنگ ہونے والا جاندار اور اس کی نسل بقا کا سلسلہ جاری رکھ سکتے ہیں، کمزور کی تقدیر صفحہ ہستی سے مٹ جانا ہے۔ اب تصور کریں کہ یہی بات معاشی حوالے سے انسانوں کے متعلق کی جائے تو اس سرمایہ داری سوچ اور نظام کی سفاکی کا احساس آپ کے رونگٹے کھڑے کر دینے کو کافی ہے۔ 

سرمایہ دارانہ سوچ اور ناسمجھی میں اس کی پیروی کرنے والے مہنگائی اور بے روزگاری کی ابتر صورتحال پر آپ کو یہ دلیلیں دیتے نظر آتے ہیں کہ کہاں ہے مہنگائی؟ دیکھیں شاپنگ مالز میں کتنا رش ہے، نئے نئے برانڈز کے فون اور گاڑیاں یوں چٹکیوں میں بک رہے ہیں، برانڈڈ ملبوسات کی آؤٹ لیٹ کا رش دیکھیں اور مہنگے برانڈڈ بازاری کھانوں کی سپلائی دیکھیں، مہنگائی بڑھ رہی ہوتی تو یہ سب کیسے بکتا؟

اب ذرا تحمل سے میری بات پر غور کریں۔ دیکھیں کسی بھی معاشرے میں امیر اور غریب طبقے کے درمیان مڈل کلاس طبقہ ہوتا ہے۔ یہی مڈل کلاس طبقہ اس سرمایہ داری نظام کا نشانہ بن رہا ہے کیونکہ سرمایہ دار کسی نہ کسی ترغیب کے ذریعے پھر چاہے وہ مہنگے ریسٹورینٹ ہوں یا ملبوسات، یا ناجائز مفادات کا جھانسہ دے کر آپ کی محنت کی کمائی آپ کی جیب سے نکال لیتا ہے۔ دوسری طرف ریاست آپ کو سیکورٹی کی صورتحال سے ڈرا کر  ای بینکنگ کے جال میں پھنسا رہی ہے۔ یوں آپ غیر محسوس طریقے سے سہولیات کے نام پر اپنی محنت کے براہ راست معاوضے سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ تو سرمایہ دارانہ نظام میں مڈل کلاس کے جو لوگ معیشت کے ”سروائیول آف دا فٹسٹ“ میں ناکام ہوجاتے ہیں ان کا مقدر غربت اور بھیانک غربت ٹہرتی ہے اور بقول شخصے یہی عین مقدر اور منظور خدا ہے۔ تو میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جس تناسب سے ملک میں شاپنگ مالز میں اضافہ ہورہا ہے، اسی تناسب سے مہنگائی، غربت، بے روزگاری اور جرائم میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ تو برائے مہربانی معیشت کے دونوں اشاریوں پر نظر رکھیں۔

ہماری ریاست براہ راست سرمایہ دار کا تحفظ کرتی ہے۔ یا یوں کہہ لیں کہ یہ سرمایہ دار ہی ہیں جو ریاست اور معیشت کی سمت طے کررہے ہیں۔ سرمایہ دار سیاستدان بن کر ایوانوں میں بیٹھا عوام دشمن پالیسیاں بنا رہا ہے جب کہ جرنیل، ججز اور ملا سرمایہ داروں کی تلچھٹ کھا کر ان کی نمک خواری میں لگے ہیں۔ جرنیل کاروبار کررہے ہیں جبکہ ججز سرمایہ داروں کے تحفظ کو یقینی بنا رہے ہیں۔ میری دلیل کے ثبوت کے طور پر نسلہ ٹاور کا معاملہ دیکھ لیں۔ نقصان کس کا ہوا، عوام کا یا سرمایہ دار کا؟ بلوچستان کی عوام کا بنیادی مسئلہ ہی بلوچستان کے وسائل کی بلوچ عوام میں منصفانہ تقسیم ہے۔ بلوچستان کے وسائل بلوچ عوام کے بجائے غریب دشمن سرمایہ دار دوست ریاست کے ہاتھ میں ہیں۔ جب کرپٹ جرنیلز اور سرمایہ دار سیاستدان ریاستی پالیسیاں ترتیب دیں گے تو عوام کا بھلا کیسے ہوگا؟ ملک ریاض سمیت رئیل اسٹیٹ کے بڑے بڑے دیو اپنی مرضی سے عوام کے ساتھ گھناؤنے فراڈ کرر رہے ہیں مگر ججز عوام کے گھر بارود سے اڑانے کا فیصلہ دے رہے ہیں۔ دوسری طرف بینکار ہیں۔ کیا آپ نے کبھی سنا ہے کہ کسی بینک نے عام انسان کی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بینک قرضے کو سہل بنانے کی پالیسی بنائی ہو۔ جرنیلوں کا کاروبار کرنا اور ججز کا پلاٹوں پر رال ٹپکانا اس بات کا اشاریہ ہے کہ ہم ایک بدترین کیپیٹیلسٹ اکانومی کے نرغے میں ہیں۔ بجلی کے نرخ، روز مرہ کے استعمال کی اشیاء اور ادویات کی قیمتوں میں آئے دن اضافہ بتا رہا ہے کہ ریاستی معاشی پالیسی عوام دشمنی پر مبنی ہے۔ توازن سے مبرا بڑھتی ہوئی امارت اس بات کا اشارہ کررہی ہے کہ اسی سماج میں کہیں غربت بھی سطح غربت سے نیچے سسک سسک کر سانس لے رہی ہے۔

میری بیٹی ابھی صرف چار ماہ کی ہے اور گھریلو ذمہ داریاں اجازت نہیں دے رہی ہیں کہ میں یہ مضمون مکمل کروں لیکن اس سے پیشتر کہ میں یہ مضمون مکمل کر ہی پاتی کراچی کے ایک اور نوجوان زوہیر نے بے روزگاری سے تنگ آکر ایک شاپنگ مال سے چھلانگ لگا کر خودکشی کرلی ہے۔ یہ معمولی واقعات نہیں ہیں۔ یہ سماج کے  ریکٹر اسکیل پر نمودار ہونے والے وہ چھوٹے چھوٹے جھٹکے ہیں جو بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہونگے۔ یا تو یہ ریاست ایک ناکام ریاست کی طرح اپنے انجام کو پہنچے گی یا پھر سرمایہ دارانہ نظام کو تحفظ دینے والا، جرنیل، جج اور مولوی اکھٹ اپنے انجام کو پہنچے گا۔

کہا گیا ہے کہ غربت سے پناہ مانگو یہ گناہ کو جنم دیتی ہے۔ بات سو آنے درست ہے مگر یقین مانیں اس سے بھی بڑا سچ یہ ہے کہ غربت الحاد کو بھی جنم دیتی ہے۔ جب مہنگائی کسی کی امید اور عزت نفس کو کچل دے تو بڑے سے بڑا مولوی کسی نظریاتی باغی اور ملحد شخص کو جنت اور یوم آخرت کا جھانسہ دے کر خدا پر ایمان پر قائم نہیں رکھ سکتا۔ انسان کا دماغ یہ سوال کرتا ہے کہ خدا کے نمائندے کہلانے والے خود سرمایہ داروں کے مفاد کے تحفظ میں لگے ہیں تاکہ آخرت کی جس جنت کا جھانسہ یہ عوام کو دیتے ہیں اسے خود دنیا میں حاصل کرسکیں۔ جس طرح ریاست عوامی مفادات اور عزت نفس کی حفاظت میں ناکام ہوچکی ہے اسی طرح مذہب بھی جنت، جہنم اور ”خودکشی حرام ہے“ جیسے فلسفوں پر عوام کو قائل کرنے میں ناکام ہورہا ہے۔ ہم مکمل ملحد معاشرے سے صرف چند قدم کی دوری پر ہیں جہاں خدا نام کا دیا بس کسی دیوانے درویش کے دل میں روشن ہو تو ہو، باقی سارے ہی دل ہی دل میں خدا سے شکوہ کناں یا اس کے وجود سے انکاری ہیں۔

انسان حتمی طور پر نہیں کہہ سکتا کہ خدا ہے یا نہیں، جنت اور دوزخ ہیں یا نہیں کیونکہ ان سوالات کے جوابات موت کی تاریکی میں پوشیدہ ہیں۔ مگر کچھ بے باک سوالات اب دماغوں میں دھمال ڈال رہے ہیں کہ کسی عام مجبور اور بے بس انسان کو خدا کی خدائی کے ثبوت میں دنیا میں آکر سسک سسک کر مرنا کیوں ہوتا ہے؟ 

یا پھر یہ کہ کہیں خدا بھی تو سفاک سرمایہ دارانہ نظام اور بے نیاز ریاست جیسا تو نہیں جو ”سروائیول آف دا فٹسٹ“ کی پالیسی پر قائم ہے اور اسے بھی پیچھے رہ جانے والوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری ہے۔)

46 COMMENTS

Comments are closed.