عاطف توقیر

کل سے کوئی سو ایسے پیغامات تھے، ٹوئیٹس تھے اور تبصرے تھے کہ مریم نواز نے ووٹ کو عزت دو کے بیانیے کو توڑتے ہوئے فوج سے بات چیت کا کر دیا ہے۔ مریم نواز نے کہہ دیا ہے کہ فوج عمران خان حکومت کا خاتمہ کرے۔ مریم نواز نے فوج سے رابطے کا اعتراف کرلیا ہے۔

پاکستان بھرمیں اب یہ ایک طرح سے ٹرینڈ سا بن گیا ہے کہ سوشل میڈیا سیلز پر کوئی ٹرینڈ چلایا جاتا ہے اور پھر تمام سیاسی جماعتوں خصوصاً پی ٹی آئی کے حامی اس بیانیے کو دنیا کے واحد سچ کے طور پر پھیلانا شروع کر دیتے ہیں۔ ایک نوجوان نے لکھا تو میں نے پوچھا جناب آپ نے انٹرویو سنا ہے؟ اس کے جواب میں اس نوجوان نے ایک مقامی ٹی وی چینل کے ایک ٹیکر کا ٹوئیٹ پیسٹ کر دیا، میں نے پھر کہا سرکار آپ نے یہ انٹرویو دیکھا ہے؟ جواب آیا، ”نہیں انٹرویو تو نہیں دیکھا“ مجھے معلوم نہیں کہ کسی بات کو سنے بغیر ہم اتنے تیقن سے رائے کیسے دے دیتے ہیں؟

ہم چھوٹے تھے تو ہمیں بتایا گیا تھا کہ یقین کی تین قسمیں ہیں: ایک علم الیقین، ایک عین الیقین اور ایک حق الیقین۔ یعنی ایک وہ یقین جو جان لینے کے بعد ہو، دوسرا وہ جو آنکھ سے مشاہدہ کر لینے پر ہو اور تیسرا جو خود اس تجربے سے گزرنے کے بعد ہو۔ ہمارے ہاں تاہم ان دنوں وٹس ایپ الیقین، ٹیکر الیقین اور پارٹی الیقین رائج ہیں۔ میرے لیئے زیادہ حیرت ناک بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی جس کی اپنی تاریخ دوسری جماعتوں کی ہی طرح جرنیلوں کی گود سے جڑی ہوئی ہے۔ بلکہ دور کیا جانا، ابھی دھرنے کے دنوں میں عمران خان اپنے طاہرالقادری صاحب کے ہمراہ راحیل شریف کی زیارت فرماتے پائے گئے تھے۔ وہ کندھے پر ہاتھ رکھ کر ”انہوں نے کہا ہے“  فرماتے تھے، اور امپائر کی انگلی اٹھ جائے گی، جیسی دھمکیاں دیا کرتے تھے۔ تازہ ترین حالت میں اپنی حکومت کو ہائبرڈ رجیم اور فوج کے ساتھ صفحہ بانٹنے والی اس جماعت سے آپ جمہوریت اور سیاست میں فوج کی مداخلت پر رائے سنیں تو پھر حیرانی نہ ہو تو اور کیا ہو۔

ہماری رائے اور مؤقف تو سادہ سا  ہے۔ عمران خان کی حکومت کو کسی بھی صورت کسی بھی غیرآئینی طریقے سے ختم کرنا ناقابل قبول ہو گا اور فوج کے ساتھ کوئی بھی گفتگو صرف اور صرف دستور میں موجود دائرہ کار کے تحت ممکن ہے اور اتنی ہی ممکن ہے۔ ہم جیسا کوئی شخص فوج کی سیاست میں مداخلت پر بات کرے، تو اسے اصولی اور دستوری رائے کہتے ہیں۔ عمران خان اور پی ٹی آئی کی جماعت یہ بات کرے، تو لگتا ہے، جیسے کوئی تین سالہ بچہ  کہہ رہا ہو ”ابو صرف میرے ہیں۔“ لوگوں کی اعتراضات اور سوشل میڈیا پر ٹرینڈ اتنا واضح تھا کہ میں خود اس ساڑھے نو منٹ کے انٹرویو کو سننے پر مجبور ہوا۔ مجھے معلوم نہیں کہ یہ انٹرویو کس طرح یوں غلط رپورٹ ہوا۔ اس سے قبل بلاول کا انٹرویو بھی غلط رپورٹ ہوا تھا، تاہم وہاں آرٹیکیولیشن کی خامی سے کوئی گنجائش نکل سکتی تھی۔ یہاں تو مجھ جیسے سخت ترین اور اصولی آدمی کو بھی کوئی ایسا لفظ دکھائی نہیں دیا، جس پر  تنقید کی جا سکتی۔

خیر اہم بات پھر وہی ہے کہ زیادہ بہتر رائے وہی ہوتی ہے، جو کسی بات کو مکمل سمجھنے کے بعد دی جائے اور اندازہ لگانے سے باز رہا جائے۔ اگر اندازے پر بات کرنا بھی پڑے، تو اس کا سب سے بہترین راستہ یہی ہوتا ہے کہ ایسے میں کوئی جذباتی نعرہ لگانے کی بجائے، اصولی بات کی جائے تاکہ بعد میں بھی وہ بات اپنی جگہ قائم رہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ن لیگ کل واقعی فوج سے رابطے کرے تو؟ تو اس کا جواب بہت سیدھا سا ہے۔ ن لیگ ہو یا کوئی بھی جماعت، جو بھی غیردستوری راستہ اختیار کرے گا۔ ہم اس جماعت کے سامنے کھڑے ملیں گے۔ ہم کسی جماعت کے ساتھ نہیں، ملک میں جمہوریت اور دستور کی بالادستی کے ساتھ ہیں۔

اب آئیے بات کرتے ہیں اصولی، بات نہایت سادہ سی ہے۔ اگر آپ پاکستان کو ترقی کی جانب لے جانا چاہتے ہیں، تو اس کا واحد طریقہ ہے کہ اس ریاست کو اس کے دستور کے مطابق چلایا جائے۔ فوج صرف اور صرف وہ کام کرے، جو اس دستور نے اسے دیا ہے۔ وہ اس ملک کی ٹھیکدار نہیں ہے، مافیا نہیں ہے، مسلح گروہ نہیں ہے، بلکہ ایک محکمہ ہے جس کا کام ملک کی سرحدوں کی حفاظت ہے اور اس کے لیئے قوم اپنا پیٹ کاٹ کر اسے پیسے دیتی ہے۔ فوج کا کام سیاست کرنا نہیں ہے، کھاد بنانا نہیں ہے، بینک چلانا نہیں ہے، پانی بیچنا نہیں ہے، ریت فروخت کرنا نہیں ہے، سرحدی تجارت نہیں ہے، سیاسی جماعتوں کو بنانا اور توڑنا نہیں ہے، لوگوں کو اغوا کرنا نہیں ہے، بولنے والوں کو خاموش کرانا نہیں ہے، آئی جی اغوا کرنا نہیں ہے،  جذباتی ہونا نہیں ہے، وزراء اعظم کو ذلیل کرنا نہیں ہے، انتخابات چرانا نہیں ہے، عدالتوں کے ججوں کو دھمکیاں دینا نہیں ہے، قانون نافذ کرنا نہیں ہے۔  اس کا کام دستور میں طے ہے اور اسی میں اس کی عزت ہے۔

حیرت ہوتی ہے کہ یہ سادہ سی بات سمجھنے میں عام لوگوں کو اتنا وقت کیوں لگ رہا ہے؟  یہ ملک پاکستانی قوم کا ہے۔ اس ملک کی قسمت کا فیصلہ چھ لاکھ فوج نہیں بائیس کروڑ انسان کریں گے۔ یہ انسان ٹھیک فیصلہ کریں گے، تو فائدہ اٹھائیں گے، غلط فیصلہ کریں گے، تو بھگتیں گے۔ فوج کو ہر حال میں پاکستانی قوم کا فیصلہ ماننا ہے۔ پاکستانی قوم جسے اپنا رہنما چنے گی، فوج کو اس کو سلام کرنا ہے۔ ووٹ کو عزت دو، دستور پاکستان کا تقاضا ہے۔ یہ کام ہم پہلے کرتے، تو آج نہ مشرقی پاکستان الگ ہوا ہوتا، نہ بلوچستان لہو لہو ہوتا، نہ کشمیر کے ٹوٹے ٹکڑے خون رو رہے ہوتے، نہ قبائلی علاقوں میں لوگ اپنی بربادی کا نوحہ سناتے، نہ پنجاب کے چہرے سے مسکراہٹ اڑتی اور نہ سندھ کے لوگ اپنی تکلیف پر شکایت کرتے ملتے۔

پاکستان کا مستقبل صرف اور صرف جمہوریت میں ہے اور فوج کا مستقبل بھی اسی میں ہے۔ مجھے خوف ہے کہ اگر فوج میں فیصلہ ساز آج اس حقیقت کو نہیں سمجھتے اور قوم کے فیصلے کو عزت نہیں دیتے، تو یہ نہ ہو پاکستان کے گلی کوچوں میں پاکستانی قوم اپنے فیصلے پر خود عمل درآمد کروانا شروع کر دے۔ پھر یہ معاملہ کسی کے بس میں نہیں ہو گا۔ شام، عراق اور لیبیا کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ ان تمام ملکوں میں فوج بہت مضبوط تھی، مگر جمہوریت نہیں تھی۔ اب ان تمام ملکوں میں خاک اڑتی ہے۔

Previous article”لولی پاپ“
Next articleقبضہ مافیا کے ستائے ہوئے ددہوچھہ ڈیم متاثرین کا فوری انصاف کا مطالبہ