ڈاکٹر راحت جبیں

صبح جب میں اٹھی تو رات بارش کی پہلی بوند کے ساتھ غائب ہونے والی بجلی ابھی تک غائب تھی۔ میں نے گیس کے کم پریشر پر بمشکل چائے بنائی۔ ہیٹر کے ساتھ چپک کر بیٹھ گئی اور چائے پیتے ہوئے اخبار کا مطالعہ شروع کیا۔ ”پاکستان میں معاشی استحکام واپس آرہا اور معیشت اوپر جارہی ہے“، فواد چودہری۔ یہ ایسی خبر ہے جو ہر تین چار ماہ بعد وقتا فوقتاً سننے کو ملتی ہے۔ مگر آج تک سمجھ  نہیں آیا کہ یہ اوپر جاتی معیشت اتنی اونچائی پر کیوں جاتی ہے کہ عوام کو نظر نہیں آتی۔  شاید اوپر بھی کوئی برمودہ ٹرائینگل جیسی چیز ہے جہاں جاکر معیشت نظروں سے اوجھل ہوجاتی ہے اور اس کے اثرات زمین پر نظر نہیں آتے۔ یہ برمودہ ٹرائینگل شاید پاکستان کے اوپر ہے کیوں کہ باقی ممالک میں اوپر جاتی معیشت کے اثرات نظر آتے ہیں جب کہ پاکستان سمیت چند ممالک ہی اس کے حسین جلوؤں سے محروم ہیں۔

  2022 کا سورج کب کا طلوع ہوچکا ہے۔ شاید اس سال یہ معیشت اوپر جاکر واپس ملک کا چکر لگا لے۔ کیوں کہ نئے سال کا تقاضا ہے کہ نئی امیدیں رکھیں اور اچھا سوچیں۔ ویسے ”معیشت اوپر جارہی ہے“  کے ساتھ  ”سب اچھا ہے“ بھی ہر دور کے برسراقتدار حکمرانوں کی جانب سے بڑا دلکش اور امید افزا جملہ رہا ہے۔  اس لیے نئے سال کی امیدوں کو مدنظر رکھ کر سوچا کہ اس بار تلخی کو چھوڑ کر کچھ مثبت لکھنا چاہیے۔ ویسے بھی  سب کو گلہ ہے کہ میں ہمیشہ منفی اور تلخ لکھتی ہوں۔ تو سوچا جب چوہتر سالوں سے حکمران، سرکاری ٹی وی اور اخبارات کہہ رہے ہیں کہ سب اچھا ہے اور معیشت مستحکم ہے تو ایسا ہی ہوگا۔

ویسے ایک بات تو مسلمہ حقیقت ہے کہ جغرافیائی لحاظ سے ہمارا ملک خوبصورت اور منفرد ہے۔ کشمیر کی خوبصورت اور حسین وادیاں اور ہرے بھرے اور برف پوش دلکش پہاڑ ، پنجاب اور سندھ کے میدان، سرسبز لہلہاتے کھیت اور دریا، کراچی کا ساحل سمندر جو گڈانی سونمیانی، جیونی اور پسنی سے ہوتا ہوا گوادر تک جاتا ہے اور اس کی تاحد نگاہ پھیلی خوبصورتی اور لہروں کا  شور انسان کو مدہوش کرنے اور غم بھلانے کے لیے کافی ہیں۔ گوادر میں کوہ باتل کی بے انتہاء خوبصورتی اور سورج غروب ہونے کا دلفریب منظر ایک الگ ہی سحر میں گرفتار کرلیتا ہے۔ بلوچستان کے دیگر علاقوں میں خزانوں کے انبار لیے خشک پہاڑ بھی ایک انوکھی کشش رکھتے ہیں۔ خاص کر جیونی کے نزدیک پہاڑوں کے مناظر دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ کسی ماہر مجسمہ ساز نے انہیں تراشا ہو یا یہ پرانے زمانے کے کسی  بادشاہ کے عالی شان محل کے کھنڈرات ہوں۔ ایک طرف امید کی شہزادی کا مجسمہ ہے جو علاقے کے مکینوں کی امیدوں کو مرنے نہیں دیتی اور دوسری جانب ایک شیر اپنی طاقت کے غرور میں بیٹھا ہے۔ جیسے اسے خاص اس محل کی حفاظت کے لیے معمور کیا گیا ہو۔ ساتھ ہی قلات، کوئٹہ اور زیارت کی خوبصورت  وادیاں ہیں جو ہر سال برف باری سے  پورے علاقے میں انسانوں کی پھیلائی ہوئی گندگی پر  سفید چادر ڈھانپ دیتی ہیں اور علاقے کا حسن دوبالا ہو جاتا ہے. موسم کی بات کریں تو اس علاقے کو رب کائنات نے چاروں موسموں سے نوازا ہے جو ہمارے حکمرانوں کو بارہ نظر آتے ہیں۔ گرمیوں کا جوبن، سردیوں کی رومانیت، بہار کے خوش نما رنگ، خزاں کی سوگواریت۔

کاشت کاری کے حوالے سے دیکھا جائے تو پاکستان کی سرزمین ایک بہترین زرعی زمین ہے یہاں انواع و اقسام کی اشیاء کاشت ہوتی ہیں۔ جن میں قسم قسم کے پھل، پھول، سبزیاں، گنا، گندم اور چاول وغیرہ شامل ہیں اور اب تو حکمرانوں کی عقل مندی کی بدولت ”بھنگ“ بھی کاشت ہونے لگی ہے۔ اللہ کے فضل سے یہاں کا ہر پھل خوش ذائقہ ہوتا ہے اور یہ خاصیت دوسرے کئی ممالک کے پھلوں میں ناپید ہے۔

یہ تمام خصوصیات اللہ تعالی نے اس ملک کو اپنی قدرت سے نوازی ہیں۔  اگر صرف ان نعمتوں کو ذریعہ بنایا جائے تو معیشت کاغذات میں مستحکم ہونے کے بجائے حقیقت میں مستحکم ہوگی اور ہماری درآمدات بھی بڑھ جائیں گے اور سب واقعی میں اچھا ہو جائے گا۔ فواد چودہری کی مستحکم معیشت والی خبر پڑھ کر میں نے اخبار میز پر رکھا اور دفتر کے لیے نکلی۔ باہر بارش کی رم جھم نے میرے امیدوں کو جلا بخشی۔ مگر تھوڑا آگے چل کر امید کے قدم ڈگمگانے لگے کیونکہ بارش کی وجہ سے نالیاں بند تھیں اور سڑکیں گندگی کے سیلاب کا منظر پیش کر رہی تھیں۔ اوپر سے گاڑیوں کا رش اور ٹریفک لائٹ ناپید ہونے کی وجہ سے ٹریفک جام تھا اور ہر کوئی جلدی کے چکر میں ٹریفک قوانین توڑ رہا تھا۔ رش میں گداگروں کا ایک ٹولہ بھیک مانگنے میں  مصروف تھا۔ ویسے تو ہمارا پورا ملک کشکول کی وجہ سے چل رہا ہے۔ مگر کوئی بات نہیں معیشت مستحکم ہوگی تو دونوں کے کشکول ٹوٹ جائیں گے۔ سڑک کے کنارے ایک کتا سفید رنگ کا بڑا تھیلا منہ میں دبائے اپنے ٹھکانے کی جانب جا رہا تھا۔

رش سے نکلے تو اللہ کا شکر ادا کیا اور ارد گرد نظر دوڑائی۔ آگے جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر نظر آئے. ایک بوڑھا شخص کچرے کے ڈھیر پر بیٹھا ایک تھیلی میں سے کچھ نکال کر کھا رہا تھا اور دو چھوٹے بچے اسکول کے بستے کی جگہ بڑی بڑی تھیلیاں کندھوں پر لٹکائے ان کچروں سے کچھ چن رہے تھے۔ مجھے اس کتے اور ان لوگوں میں فرق نظر نہیں آیا۔ کتا کچروں سے اپنا رزق لے جا رہا تھا۔ یہ بچے کچروں کی شکل میں اپنا روزگار اور بہتر مستقبل تلاش کر رہے تھے۔ کیونکہ یہ بچے گورنمنٹ کی ذمہ داری نہیں ہیں تو جنہوں نے پیدا کیا ہے وہی جانیں۔ کچرے کے ڈھیر سڑک کے دونوں اطراف اس طرح جم چکے تھے کہ فٹ پاتھ نظر نہیں آرہا تھا۔ مزید آگے بڑھے تو ایک چوک کی گولائی میں  بیلچہ اٹھائے بوڑھے مزدور آس بھری نظروں سے آتی جاتی گاڑیوں کو دیکھ رہے تھے۔ سڑک کے دوسری جانب ریلوے لائن کے ساتھ ہی خانہ بدوشوں کی جھونپڑیاں تھیں جو تقریباً مکمل بھیگ چکی تھی۔ سردیوں اور بارش میں  مشکل سے ہی ان غریبوں کا چولہا جلتا ہے۔ مگر کوئی بات نہیں اب تو سب اچھا ہونے جارہا ہے۔ ان کا حال بھی بدل جائے گا۔

سیکٹریٹ میں کام کی وجہ سے گئی تو وہاں ہماری فائل فائلوں کے انبار تلے دب چکی تھی۔ جس کو شاید ”چائے پانی“ ہی باہر نکال سکتا ہے ورنہ تو کئی لوگوں کے امید اور خواب ان فائلوں میں دبے تھے۔ ہم وہاں سے نامراد لوٹے مگر نا امید نہیں ہوئے کیونکہ امید کا دیا ابھی جل رہا تھا۔

حلوہ پوری کی دکان کے نزدیک ڈرائیور سے گاڑی روکنے کو کہا اور بچوں کے لیے حلوہ پوری لینے کو کہا۔ ڈرائیور نے سڑک کے ایک جانب گاڑی پارک کی اور خود دکان کی جانب چلا گیا۔ جہاں لوگوں کا اتنا ہجوم تھا کہ لگ رہا تھا کہ شاید مفت کی حلوہ پوری بٹ رہی ہو۔ میں نے حلوہ پوری والی دکان سے نظریں ہٹا کر اپنے بائیں جانب دیکھا جہاں ایک شخص لمبے بالوں، داڑھی اور میلے کچیلے کپڑوں میں بے سدھ پڑھا تھا اسے اتنے آرام سے یوں سردی میں لیٹا دیکھ کر حیرت ہوئی۔ پاس ہی دو چادروں کے نیچے کچھ  ہلتا نظر آیا. اسی دوران چار پانچ کچرہ اٹھانے والے بچے آکر وہاں کھڑے ہوگئے ایک لڑکے نے ایک چادر ہٹائی اور دوسرے لڑکے نے دوسری چادر، دونوں چادروں کے نیچے سے دو دو افراد لمبے اور میلے کچیلے بالوں اور حلیے میں اپنی اپنی نشہ آور سگریٹ سلگانے اور کش لگانے میں محو تھے انہیں چادر ہٹنے کا احساس تک نہ ہوا وقتاً فوقتاً وہ سگریٹ سلگانے میں ایک دوسرے کی مدد کر رہے تھے۔ شاید ہوش میں نہیں تھے ورنہ ایسا نہ کرتے۔ کچرہ چننے والے لڑکوں نے ان نشئیوں کو چھیڑنا شروع کیا مگر ناگواری کا ہلکا سا شائبہ بھی ان کے چہروں پر نہیں آیا۔ اتنے میں سامنے سے آتے ہوئے موٹر سائیکل سوار نے پلاسٹک کی ایک تھیلی بچوں کو پکڑائی۔ بچوں نے نشئیوں کو نظر انداز کیا اور آپس میں تھیلی کو حاصل کرنے کے لیے چھینا جھپٹی شروع کی مگر ان میں  سے قدرے رحم دل اور بڑے بچے نے وہ شاپر اپنے ساتھیوں سے چھین کر ایک نشئی کو پکڑائی اس نے وہ تھیلی پکڑی اور باقیوں کو آواز دی۔ ایک بار پھر وہ سب اتحاد کی مورت بن گئے اور اپنی اپنی سگریٹ ایک جانب رکھ کر اس شاپر پر جھک گئے شاید شکم کی بھوک زوروں پر تھی۔ وہ سب تھیلی کے اندر سے چیزیں نکالنے لگے مگر اندر سے جوس کے خالی ڈبے، فروٹ اور پستوں کے چھلکے نکلے۔ اس میں کچھ بھی ایسا نہ تھا کہ جو ان دنیا اور مافیا سے بیگانہ افراد کی بھوک مٹاتا۔ لڑکوں نے اپنی راہ لی اور ایک لڑکے نے جاتے جاتے نیند کی وادی میں گم شخص کو لات ماری اور وہ ہڑبڑا کر اٹھا اور اپنے ملگجے بالوں کے اندر چھپے سر کو کھجاتا سڑک کے کنارے چل پڑا۔ اسی اثناء میں  پولیس کی ایک موٹر سائیکل وہاں آکر رکی اور اس پر سوار دو پولیس اہل کاروں نے نیچے اتر کر چابک دستی سے ان نشئیوں پر ڈنڈے برسانے شروع کئے اور وہ نشئی بغیر احتجاج کئے ڈنڈے کھا کر خاموشی سے وہاں سے کھسک گئے۔ مجھے لگا کہ نشئی ”عوام“ ہیں اور پولیس ”حکمران“ ہیں جو عوام کو ڈنڈے کے زور پر عرصہ دراز سے ہانک رہی ہے۔

اسی دوران ڈرائیور نے گاڑی اسٹارٹ کی تو میں بھی اس منظر کے اثر سے باہر نکلی۔ ”سب اچھا ہے“ اور ”معیشت مستحکم ہورہی ہے“  مجھے دیوانے کا خواب لگنے لگا۔ اگر اس ملک کو ترقی کرتے ہوئے دیکھنا ہے تو  اپنی ذمہ داریاں سمجھ کر اپنا قبلہ درست کرنا پڑے گا اور حکمرانوں کو بھی خواب خرگوش سے جگا کر مشیروں کے کہنے پر ”سب اچھا ہے“ اور ”معیشت مستحکم ہو رہی ہے“ کے اثر سے نکل کر حقیقت میں سب اچھا کرنا پڑے گا تب ہی معشت اوپر جانے کے بجائے زمین پر مثبت اثرات کی شکل میں نظر آئے گی۔ ورنہ معیشت کو مزید اوپر لے جانے کے لیئے پاکستان میں بھنگ کی پہلی فصل کی قانونی کاشت تو گزشتہ سال کے آخری ایام میں ویسے بھی شروع ہوچکی ہے ایسے میں وہ دن دور نہیں جب سب کے سب بند دکانوں کے باہر دنیا اور مافیہا سے بیگانے  بے سدھ ان نشئیوں کی طرح پڑے  ہونگے۔