وقاراحمدصدیقی

خاکسار کو مغربی معاشرے کے مطالعے و مشاہدے سے علم  میں آنے والی جس بات نے ایک احساس فخر دلایا وہ یہ کہ یہ معاشرے حب الوطنی کے اس درجہ کو پا ہی نہیں سکتے جہاں پاکستانی معاشرہ فائز ہے۔ یہاں وطن پرستی سے محروم سوسائٹی ریاست سے ایک غیر جذباتی تعلق رکھتی ہے۔ یہ بلاشبہ ایک اعلی درجے کے شہری ہیں جو ریاست کے ہر قانون و ضابطے کی پابندی پورے اخلاص اور ایمانداری سے کرتے ہیں لیکن جہاں دیش بھگتی کا حوالہ آئے گا وہاں یہ ہمارے جوتے کی خاک نہیں پا سکتے۔ اس کے مقابلے میں ہم بدترین شہری ہیں۔ ریاست کے دیگر ضابطے قاعدے ایک طرف ہم تو ٹریفک قوانین ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ ٹیکس چوری سے کام چوری تک، سب ہمارا پیدائشی و ازلی حق ہے لیکن مملکت سے ایک انتہائی جذباتی رشتہ رکھتے ہیں اور اس پر اپنا تن، من، دھن و دیگر ہم وزن و ہم قافیہ قربان کرنے کو ہمہ وقت تیار بیٹھے ہیں۔

یہ حال محض رعایا کا نہیں، حکمران طبقے کا بھی ہے۔ اس ملک کے “حقیقی حکمران” ریاست کی سب سے مقدس دستاویز آئینِ پاکستان کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں باوجود اس کے دنیا میں نمبر ون ہیں۔ یہاں مغرب میں کسی شہری سے سوال کیجیے کہ وہ اس ریاست کا دفاع کرنا چاہتا ہے؟ اس کا جواب ہوگا “یہ میرا کام نہیں، ریاست کی حفاظت میری ذمہ داری نہیں ہے اگرچہ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ میری جان ومال کی حفاظت کا بندوبست کرے” دوسری جانب زید حامد مارکہ تجزیہ نگار ہمیں بتاتے ہیں کہ ملک کا بچہ بچہ ملک کے دفاع کے لیئے کٹ مرے گا۔ یعنی جس بچے کا تعلیم و صحت کا بجٹ، دفاعی اخراجات کی مد میں جھونکا جا رہا ہے، وہ بیمار و ان پڑھ بچہ اب ملکی دفاع کے لیئے  فوج کے ساتھ بیرونی جارحیت سے بھی لڑے گا۔ اس ادارے کے ساتھ جو 73 سال سے اس کی تعلیم و صحت کا بجٹ کھا رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ یہ کرنے کے لیئے تیار بھی ہے۔ آپ اسے اس کام سے باز رکھنے کی کوشش کر کے دیکھیے! سات سے ستر سال کے یہ جسمانی و ذہنی بیمار ان پڑھ بچے جانور کی طرف غرّاہ کر آپ کو نوچ کھانے کے لیئے جھپٹیں گے۔ آپ کو سالہا سال کی محنت سے حب الوطنی کی اس پٹری پر چڑھایا گیا ہے۔ محبت تو قربانی مانگتی ہے، اور یکطرفہ بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس و برخلاف شہریت ایک دو طرفہ معاہدہ ہے کہ میں نے ایمانداری سے ٹیکس ادا کر دیا، ریاست کے ہر قانون کی پاسداری کرتا ہوں اور اب میں آگاہی چاہتا ہوں کہ میرے لیئے سفری سہولیات کیا کیا ہیں؟ میرے اور میرے بچوں کی صحت اور دیکھ بھال کا کیا انتظام ہے؟ میرے بچوں کی تعلیم کا کیا بندوبست ہے؟ سڑکوں اور شاہراہوں کا کیا حال ہے؟ پانی، بجلی، ڈرینج سسٹم، نکاسی آب و صفائی کا کیا منصوبہ ترتیب دیا ہے؟

ان مغربی معاشروں کیلئے کسی ریاست کا شہری ہونا محض ایک عام روایتی و غیر جذباتی دو طرفہ معاہدہ ہے۔ ایک سروس ایگریمینٹ ہے۔ انہیں علم ہی نہیں کہ حب الوطنی اور وطن پرستی کا ایک چٹ پٹا اچار بھی ڈالا جا سکتا ہے؟

Previous articleحضور والا! ایک جرنیل ادھر بھی
Next articleجانور بھی درد محسوس کرتے ہیں