مہناز اختر

حنا خواجہ بیات کا انڈین ویب چینل پر چلنے والے  ڈرامے ”چڑیل“ کا ڈائیلاگ ہے، جہاں وہ نہایت پرعزم  مگر سرد وتلخ تاثر کے ساتھ سامنے کھڑی لڑکی کو اپنی زندگی کے تلخ ترین تجربات گنوانے کے بعد کہتی ہیں ” ۔۔۔۔۔لیکن اس پہلے ”ہینڈ جاب“ کی قسم! تم مجھے یہاں  سے ہلا نہیں سکو گی!“ 

کچھ یاد آیا کہ یہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پاکستان میں کس قدر طوفان آیا تھا؟ ہر طرف ”اسلام خطرے میں ہے“، ”ہماری اقدار خطرے میں ہے“ کا طوفان آگیا تھا۔ اس وقت حنا خواجہ نے اپنے ایک ڈائیلاگ اور کمال اداکاری سے تقدیس کے کئی بت گرادئیے تھے۔ کیا اداکار، کیا اداکارہ، کیا کہانی نویس اور کیا صحافی سب نے آکر حنا خواجہ کی مذمت کو رکن اعظم سمجھ کر ادا کیا کہ گویا مذمت نا کی تو ہمیں بھی فاعل یا مفعول کی فہرست میں شامل کرلیا جائے گا۔ حالانکہ ایمانداری سے دیکھا جائے تو اس کردار میں حنا خواجہ قوم کو ہینڈ جاب کی ترغیب نہیں دے رہی تھیں بلکہ یہ بتا رہیں تھیں کہ ایک عام انسان کو اس معاشرے میں مقام بنانے کے لیئے کبھی کبھی کس قدر ذلیل و خوار ہونا  پڑتا ہے۔ کتنی بار اپنی عزت نفس کو پامال کروانے کے بعد ہی کامیابی آپ کے قدم چومتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا حنا خواجہ والے ہینڈ جاب اور مفتی عزیز الرحمن والے ہینڈ جاب میں کوئی فرق تھا؟ حنا خواجہ نے بھی اس کردار میں اسی جنسی استحصال کو بے نقاب کیا جو مفتی صاحب کرتے پائے گئے۔

اس کے بعد ایک اور اداکارہ صبا قمر نے اپنے ڈرامے کی عکس بندی کے لیئے سین کی ڈیمانڈ کے مطابق نکاح کے فوری بعد دولہے کا ہاتھ پکڑ کر خوشی کے اظہار کے لیئے ایک چکر کاٹ لیا تو تب بھی اس معاشرے کے تقدس کے بت دھڑام سے منہ کے بل گر پڑے اور چاروں طرف سے شور وغل مچ گیا کہ اسلام کو خطرہ ہے۔ ڈائریکٹر پروڈیوسر اور اداکارہ لاکھ  صفائیاں دیتے رہے کہ بھئی ہم نے مسجد میں کوئی فحش یا اخلاق باختہ سین فلم بند نہیں کیا، وہ تو بس مسجد میں نکاح کا سین تھا لیکن مجال ہے کہ کوئی مانے۔ پھر ایک اور واقعہ جس نے اسلام کے اس قلعے کی بنیادیں ہلادیں وہ یہ تھا کہ لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی میں ایک لڑکا اور لڑکی نے خوشی خوشی ایک دوسرے کو ذرا ماڈرن انداز میں شادی کا پیغام دے دیا اور قبول کرلیا تو پھر سے سارے محبان اسلام نیزے بھالے تیز کرکے باہر نکل آئے کہ پاکستانی روایات اور اسلام کو ان دو نوجوانوں کی حرکات سے شدید خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ اور حال ہی میں ملالہ یوسف زئی کے بیان پر جو ہنگامہ مچا وہ تو ہم سب کو اچھی طرح سے یاد ہی ہے کہ کس طرح سے شادی کے حوالے سے ملالہ کہ ذاتی خیالات و نظریات پر تھو تھو کی گئی۔ کوئی اسے فاحشہ کہتا تو کوئی رنڈی اور کفار کی ایجنٹ والا الزام تو اب زبان زدعام و خاص ہے۔ جواب دیں کہ جو دین صبا قمر، یونیورسٹی کے ان طالب علموں اور ملالہ پر اتنا سخت ہے و مفتی عبدالقوی پر اس قدر آسان و مہربان کیوں ہے؟ اس کا صرف اور صرف ایک جواب ہے کہ ہمارا دین اور خدا ان مولویوں اور مفتیان کے حرم میں کئی عشروں سے محبوس ہے۔

غور فرمائیے کہ اس منجمد اور متعفن ذہنیت کو دو باتوں سے مسئلہ ہے۔ یا یوں کہہ لیں کہ ان کے نزدیک فساد کی جڑ ہی دو چیزیں ہیں یعنی خواتین اور انسانوں کی خوشی و باہمی رضامندی۔ میں اکثر و بیشتر اپنے مضامین میں اسلامی یا مسلمانوں کی پدر شاہی کی اصطلاح استعمال کرتی ہوں جہاں وینا ملک اور رابی پیر زادہ کو تو تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ اس پدر شاہی کی آشیرواد حاصل ہے کیونکہ یہ سوال نہیں اٹھاتیں بلکہ اس نظام کی مبلغ ہیں لیکن ہر سوال کرنے والی خاتون و مرد اس نظام کے داعیوں کی نظر میں گناہ گار ہے وہ چاہے میں ہوں یا آپ، یا ”عورت مارچ والیاں “ یہ لوگ ہمیں کبھی کفار کا ایجنٹ کہتے ہیں تو کبھی لبرل آنٹیاں اور لنڈے کے لبرل اور کبھی کبھی تو یہ ہم جنس پسندی کا سرٹیفیکیٹ ہمیں یوں تھماتے ہیں کہ جیسے ہمارے کفر اور جنسی رجحان کی خبر ہم سے پہلے ان تک پہنچ چکی ہو۔ لعنت بھیجنا اور گندی گالیاں دینا ان کا محبوب مشغلہ ہے۔ پھر خود چاہے یہ کسی مولوی مفتی کی ویڈیو لیک ہونے پر ہم جنس پرستی یا خود لذتی پر کوئی نا کوئی شرعی جواز ڈھونڈ لائیں لیکن دوسروں کی معمولی لغزشوں پر بھی یہ سنگساری یا دائرہ اسلام سے اخراج سے کم  پر راضی ہی نہیں ہوتے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ جے یو آئی کے مفتی عبدالعزیز کا معاملہ باہمی رضا مندی سے قائم ہونے والے ہم جنس پسندانہ تعلق کا نہیں بلکہ پاور کرائم کا ہے اور اس سے پہلے ایسی سینکڑوں ویڈیوز اور واقعات میں ہم مدارس میں لڑکوں کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتیوں کی خبریں سن اور دیکھ رہے ہیں لیکن معاشرہ اور روایت پسند طبقہ بجائے کسی انکوائری کا مطالبہ کرنے کے لوگوں سے توقع کررہا ہے کہ اس معاملے کو مفتی صاحب کا ذاتی یا نجی معاملہ سمجھ کر اس پر بات نہ کی جائے اور ان کی پردہ پوشی کی جائے۔ اوریا مقبول جان اور انصار عباسی جیسے صحافی جہاں ایک طرف ویڈیوز والے مفتیوں کی پردہ پوشی کا مطالبہ کررہے ہیں وہیں وزیراعظم کے حالیہ بیان کے بعد پھر سے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں کہ کس طرح پاکستانی خواتین کو مائل بہ فحاشی ثابت کرسکیں۔

کل اوریا مقبول جان کا حالیہ واقعات کے تناظر میں ایک تازہ کالم  ”ہمارا معاشرتی زوال“  پڑھنے کو ملا جس میں موصوف لکھتے ہیں ”مولوی مخالف دانشور یا اینکرپرسن کے ہاتھ میں کسی عالم دین کے ذاتی گناہ کا ثبوت آجائے تو پھر دیکھئے اس کے ذوق و شوق کی پروازیں۔ کیا ہمارا یہ بدترین، عیب جو، غیبت گو اور بہتان تراش معاشرہ ایک دن میں وجود پا گیا ہے۔ ہرگز نہیں ۔غیبت ہماری سماجی زندگی کا سب سے بڑا ’’ٹائم پاس‘‘ (Time pass)ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’بدگمانی قائم کرنے سے اجتناب کرو کیونکہ بدگمانی کا سب سے بدتر جھوٹ ہے۔ ٹوہ میں نہ رہو، کسی کی جاسوسی نہ کرو، کسی کے سودے نہ بگاڑو، آپس میں حسد نہ کرو، آپس میں حرص نہ کرو‘‘ (بخاری، مسلم)۔ لوگوں کے عیب ڈھونڈنے ، ٹوہ میں لگے رہنے، ان کے عیب اچھالنے، غیبت کرنے کے اس ماحول کے مقابلے میں کھڑے ہونے کا جو انعام اللہ عطا کرتا ہے اس سے بڑا انعام، اس سے بڑا وعدہ اللہ نے شاید کسی اور عمل کے بدلے میں نہیں کیا۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا، ’’جو شخص کسی مسلمان کی عیب پوشی کرے گا، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی عیب پوشی کرے گا‘‘ (بخاری)۔ جس شخص کی اللہ دنیا و آخرت میں عیب پوشی کا ذمہ لے رہا ہو، اسے دنیا و آخرت میں کون ذلیل و رسوا کرسکتا ہے۔ اس سے بڑا انعام، وعدہ اور اللہ کی رحمت کوئی ہو سکتی ہے“

اب یاد کریں 2019  کے عورت مارچ میں ایک لڑکی نے ایک بینر اٹھا رکھا تھا جس میں اس نے خواتین کے انباکسز میں ڈک پکس بھیجنے والے  بیمار مردوں کی ذہنیت عیاں کرنے کے لیئے لکھا تھا ”اپنی ڈک پکس اپنے پاس رکھو“ تو یہی اوریا مقبول جان اور ہمنوا کئی دن منہ سے آگ اگلتے رہے تھے لیکن آج ایک مرد مفتی کے جنسی جرائم کو اس کا ذاتی معاملہ قرار دے کر پردہ پوشی کی نصیحت کررہے ہیں۔ کیا ان منظم جنسی جرائم سے اسلام خطرے کی زد میں نہیں ہے؟ کیا وقت نہیں آیا کہ ہم بہ حیثیت مجموعی یہ سوال کریں کہ مدارس میں ہونیوالے ایسے جنسی جرائم اور استحصال کی باقاعدہ جوڈیشل انکوائری کروائی جائے اور رپورٹ منظرعام پر لائی جائے۔

محترم وزیراعظم ہمیشہ کی طرح اپنے غیر محتاط بیان میں خواتین پر ہونے والی جنسی زیادتیوں کی وجہ خود خواتین کو ہی ٹہراتے ہیں لیکن کیا وہ مدارس میں مولوی اور مفتیان کے ہاتھوں جنسی درندگی کے واقعات کی وجوہات پر لب کشائی کریں گے۔ پاکستان ہیڈن شیم نامی ڈاکیومنٹری میں آج کے وزیراعظم اور ماضی کے ابھرتے ہوئے سیاستدان جناب عمران خان نے پاکستان خصوصاً خیبرپختونخوا میں بچہ بازی کے کلچر کا اعتراف کیا تھا اور اس پر شرمندگی کے ساتھ ساتھ تشویش کا اظہار بھی کیا تھا، تو پھر اب کیا ہوا؟ کیا وزیراعظم پاکستان کو پاکستانی خواتین کے لباس اور مردوں کی فطرت کے بارے میں ایسا غیر محتاط بیان دینا چاہیے تھا۔ کیا انہیں نہیں لگتا کہ ان کے اس بیان کے بعد ہر ریپسٹ اور پوٹینشل ریپسٹ کو ریپ کا ایک تگڑا جواز مل جائے گا۔

جمیعت علمائے اسلام کے مفتی منظور مینگل نے تو یوں بھی ”عورت مارچ والیوں“ کو زانی اور بے حیا قرار دے کر اپنے پیروکاروں کو ان پر چڑھنے کی کھلم کھلا چھوٹ دے رکھی ہے۔ میری پوری زندگی کراچی جیسے شہر میں گزری ہے جہاں عوامی مقامات پر خواتین کی موجودگی پاکستان کے تمام شہروں سے زیادہ ہے اور خواتین کا لباس بھی مناسب ہوتا ہے لیکن شمالی اور قبائلی علاقوں کے افراد سے انتہائی معذرت کے ساتھ ایک مشاہدہ پیش کرنے جارہی ہوں کہ آپ ان علاقوں سے آئے مہاجرین بشمول افغان مہاجرین کی نظر میں مقامی خواتین کے لیئے ایک عجیب سی حقارت دیکھیں گے کہ جیسے یہ تمام شہری خواتین خدانخواستہ فاحشہ ہوں یا اخلاق باختگی میں مبتلا ہوں کیونکہ ان کے نزدیک تو افغان برقعے میں خیمہ زن خاتون ہی حیا اور پاکدامنی کے معیار پر پوری اترتی ہے۔

میرے خیال سے اب وہ وقت آگیا ہے کہ ہم ان حساس سماجی مسائل کو خوب صورت اسلامی قالین کے نیچے چھپانے کے بجائے بہ حیثیت مجموعی ریاست اور داعیان دین سے یہ سوال کریں کہ ہم اپنی خواتین، مرد اور بچوں کو ان جنسی جرائم سے کیسے بچائیں؟ کس طرح ہم ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کریں جہاں ایک عام انسان کو بھی شریعت میں اتنی ہی گنجائش ملے جتنی کہ آج کل ویڈیوز والے مولوی اور مفتیان کو مل رہی ہے؟ اور سب سے اہم بات، کیا یہ درست وقت نہیں ہے کہ ہم جدت پسند اور عصری علوم سے مالامال علماء اور ماہرین کو اجتہاد کی دعوت دیں تاکہ آج کے جنسی اور سماجی مسائل کے حل کے لیئے قرون اولی اور وسطیٰ میں پیش کیئے جانے والے جوابات کے بجائے نئے جوابات تلاش کیئے جائیں؟ نئے سوالات نئے جوابات کا تقاضہ کرتے ہیں اور میرے خیال سے یہی بہترین وقت ہے جب ہمیں مفتی اور مولوی نام کے اس مقدس بت کو گرا کر آگے بڑھنا چاہیے تاکہ ہم اپنا دین اور خدا ان کے چنگل سے چھڑا سکیں۔