عابد حسین

اس وقت ملک سیکیورٹی، سیاسی و معاشی عدم استحکام سے گزر رہا ہے۔ افراتفری کا ماحول ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں باالعموم اور پنجاب میں باالخصوص تحریک لبیک کے سپورٹرز مظاہرے کررہے ہیں۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہاتھا پائی، لاٹھی چارج، آنسو گیس اور فائرنگ کے کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں۔ ہفتہ بھر کے مظاہروں میں تحریک لبیک کے تین جب کہ پنجاب پولیس کے دو اہلکار جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ ابھی بھی پنجاب کے مختلف علاقوں میں ٹینشن برقرار ہے۔ جبکہ تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی نے کارکنان کو پیغام بھیجا ہے کہ احتجاج ختم کیا جائے۔

تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پاکستانی مذہبی  سیاسی جماعت ہے۔ جو تحریک لبیک یا رسول اللہ نامی جماعت کے سربراہ خادم حسین رضوی کی زیر قیادت 2015 میں وجود میں آئی۔ جولائی 2017ء کو الیکشن کمیشن پاکستان نے اسے رجسٹر کیا اور اس تنظیم کو کرین کا نشان دیا گیا۔ موجودہ امیر جانشین سعد حسین رضوی صاحب ہیں۔ 14 اپریل 2021، تحریک لبیک جماعت کو حکومت پاکستان نے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 رول 11 کے تحت 15 اپریل 2021 کو تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کردی۔ سعد رضوی اور تحریک لبیک کے تمام اثاثے اور اکاونٹس منجمد کردیئے گئے، تمام جائیداد ضبط کرلی گئی اور اس جماعت کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا گیا ہے۔ سعد رضوی اور تحریک لبیک کے کئی کارکنان پابند سلاسل رہے۔

یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ یہ وہی تحریک لبیک ہے کہ جس نے سال 2017 میں بھی احتجاج کیا تھا تب موجودہ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر داخلہ شیخ رشید، خادم رضوی مرحوم اور تحریک لبیک کے سپورٹرز تھے بلکہ حکمران جماعت تحریک انصاف کے پنجاب سے تعلق رکھنے والے منتخب اراکین نے تحریک لبیک، عاشق رسول، مجاہد ختم نبوت جیسے سلوگنز کو اپنے انتخابی مہم کا حصہ بنایا تھا۔ 2017 میں جب تحریک لبیک احتجاج پر نکلی تھی،  تب موجودہ حکمران اس تحریک کے ساتھی یا اتحادی تھے۔ تحریک لبیک اگرچہ ایک مذہبی سیاسی تنظیم ہے لیکن اس کے پیچھے کون ہے، کون سی قوتیں اسے فنڈ کرتی آرہی ہیں، پس پردہ کون سی طاقتیں انہیں سپورٹ کررہی ہے؟ اس جیسے بہت سارے سوالات اذہان میں موجود ہیں۔ ان سوالات نے 2017 سے ہی جنم لے لیا تھا جب عسکری محکمے کے اعلیٰ افسران نے تحریک لبیک کے فیض آباد دھرنے میں شامل ہوکر خادم رضوی کو منا کر ان کے کارکنان سے دھرنا ختم کروایا تھا اور واپسی پر انہیں پیسے بھی دیئے گئے تھے۔ بالکل اسی طرح اس بار بھی جب تحریک لبیک کے موجودہ  سربراہ سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد کارکنان نے احتجاج شروع کیا تو حکومت کے بجائے ایک فوجی آفیسر نے تحریک لبیک کے ساتھ مذاکرات کیئے اور انہیں احتجاج ختم کرنے کی درخواست کی۔ اسی رات فوجی گاڑی میں سوار اہلکاروں نے احتجاج میں شامل ہوکر نعرے لگائے۔ ایک فوجی سپاہی نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ اگر تحریک لبیک کے مطالبات نہیں مانے گئے تو وہ بھی میدان میں نکلیں گے۔ فرانس نے جب گستاخانہ خاکے شائع کیئے تو ساری مسلم دنیا کی طرح پاکستان میں بھی عوام نے فرانس کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروایا۔ تب تحریک لبیک پاکستان نے حکومت کے سامنے فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس وقت تحریک لبیک کے ساتھ حکومت نے معاہدہ کیا تھا اور ان کے مطالبات ماننے پر آمادگی ظاہر کی گئی تھی۔ جس میں 20 اپریل تک کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی کہ 20 اپریل تک فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کردیا جائے اور فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کیئے جائیں۔ جس پر حکومت نے آمادگی ظاہر کی تھی بلکہ خود وزیر اعظم نے اپنے تقریر میں کہا تھا کہ ملک کے لیئے خوشخبری ہے کہ تحریک لبیک کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں۔

پہلے تو یہ کہ اگر حکومت نے اب پابندی لگانی تھی تو پہلے ان کے ساتھ مذاکرات ہی کیوں کیئے اور ان کے مطالبات کیوں مانے گئے اور اگر اب ان کو دہشت گرد قرار دینا تھا تو پہلے کیوں پابندی نہیں لگائی گئی۔ دوسری منافقت یہ ہے کہ موجودہ حکومت خود ماڈل ٹاؤن والے واقعہ کا رونا روتی تھی لیکن خود اسی طرز کی کاروائی کی۔ ایک تو آپ نے پابندی لگا دی، ٹھیک ہے! لیکن کسی کی ذاتی جائیداد کو ضبط کرنا، سیدھی گولیاں چلانا، مظاہرین پر تیزاب بہانا کونسا انصاف، کون سا قانون ہے؟ سوال یہ بھی بنتا ہے کہ تحریک لبیک کو فنڈز دینے والوں، سپورٹرز، اور ان کے دھرنوں میں باوردی شرکت کرنے والوں کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کی جارہی، ان کے خلاف تحقیقات کیوں نہیں ہورہی، ان کو جواب دہ کیوں نہیں ٹہرایا جارہا؟ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کون سا طاقتور طبقہ تحریک لبیک کے پشت پر کھڑا ہے۔ اگر ایسے پس پردہ سپورٹر کے خلاف تحقیقات نہیں ہورہی ہے تو یہ بات بھی بعید از قیاس نہیں کہ نواز دور میں موجودہ وزیر اعظم بھی تحریک لبیک کو ان ہی طاقتور طبقے کے کہنے پر سپورٹ کررہاتھا۔

ایک قیاس آرائی یہ بھی ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کو مطمئن کرنے کے لیئے بھی ایسا ڈرامہ رچایا جاسکتا ہے کہ دیکھیے ہم دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کو کیسے ڈیل کررہے ہیں۔ جب کہ سب سے مضبوط اور زیادہ معتبر سمجھی جانی والے رائے یہ ہے کہ دانستہ طور پر ملک کو سیاسی عدم استحکام، افراتفری اور ایمرجنسی کی جانب دھکیلا جارہا ہے تاکہ عوام اور دنیا کی نظروں میں پاکستانی سیاستدانوں کو نا اہل، نکمے، غیر فعال اور بے کار ثابت کیا جاسکے۔ جس کا فائدہ ایک ہی طاقتور طبقے کو ہوگا اور ان کا راستہ صاف ھوگا۔ ضیاء دور اور افغان جنگ کے زمانے کے مذہبی رہنماء جو سول ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے پے رول پر تھے آج پھر چوکس نظر آرہے ہیں۔ سیاسی مذہبی قیادتیں اور مذہبی رہنماؤں نے تحریک لبیک کو حکومت کے مقابلے میں سپورٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جمیعت علماء اسلام ف کے سربراہ فضل الرحمان، بریلوی رہنماء مفتی منیب، جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق نے بھی تحریک لبیک کو صحیح قرار دیا ہے۔ یہ بات ملکی سکیورٹی حالات کی ابتری کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ جب مولانا فضل الرحمان سے تحریک لبیک کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے عجیب سا جواب دیا کہ اگر اس ملک میں پشتون تحفظ موومنٹ کی طرح قوم پرست انتہاپسند اور دہشت گرد تنظیمیں پنپ سکتی ہیں تو تحریک لبیک کو بھی اجازت ہونی چاہیے۔ مولانا نے ایک طرف تو تحریک لبیک کو سپورٹ کیا تو دوسری جانب پی ٹی ایم جیسی عدم تشدد کے پیروکار تنظیم کو دہشت گردوں سے تشبیہہ دی جو کہ افسوس کی بات ہے۔ اس بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ مولانا فضل الرحمان کو پشتون تحفظ موومنٹ سے کیا مسئلہ ہے؟

پی ٹی ایم تو عدم تشدد، آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر، آئین و قانون کی بالادستی، احتساب، انصاف، بنیادی انسانی حقوق کی بات کرتی ہے۔ پی ٹی ایم کے ساتھیوں پر آئے روز پرچے کٹ رہے ہیں۔ درجنوں دوست اب بھی جیلوں میں مقید ہیں۔ ہر زبان، رنگ، نسل، علاقے اور سیاسی جماعتوں کے کارکن پی ٹی ایم کے سپورٹرز ہیں۔ یہ کسی بھی مذہبی یا سیکولر سیاسی جماعت کی حامی یا مخالف نہیں ہے۔ ہاں! ریاستی اداروں کی جانب سے گڈ طالبان کی پرورش پر تنقید ضرور کرتی رہتی ہے۔ مولانا صاحب کو یاد رکھنا چاہیئے کہ تحریک لبیک نواز دور میں بھی احتجاج پر نکلی تھی۔ موجودہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ بھی تحریک لبیک کے سپورٹرز تھے۔ اس وقت آپ نے   تحریک لبیک کو سپورٹ کیوں نہیں کیا؟ کیا اس وقت آپ نواز شریف کے اتحادی تھے یا عمران خان کے مخالف تھے؟ خیر چھوڑیں! اس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں کہ مولانا صاحب تحریک لبیک کو سپورٹ کرتے ہیں یا نہیں لیکن بس سوال یہی رہے گا کہ مولانا صاحب کو پشتون تحفظ موومنٹ سے کیا مسئلہ ہے؟ مولانا صاحب اگر آپ نے تحریک لبیک کو سپورٹ کرنا ہے، حکومت پر تنقید کرنی ہے، کسی سے اختلاف کرنا ہے وہ آپ کا حق ہے لیکن یہ کہنا کہ  ”پی ٹی ایم دہشت گرد تنظیم ہے تو تحریک لبیک کو بھی اجازت ہونی چاہیے“ بلکل بے تکی بات ہے۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پی ٹی ایم کے بیانیے کہ ”گڈ طالبان، دہشت گرد تنظیموں  پابندی، اسٹیبلشمنٹ اور عسکری اداروں سے جواب طلبی ہونی چاہیے“ اس بیانیے سے آپ کو تکلیف ہے۔ کیونکہ خان کی حکومت تو بہترین کارکردگی دکھارہی ہے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر حکمران جماعت کی غیر اعلانیہ اتحادی بن چکی ہے۔ خان کی حکومت کے بعد ہوسکتا ہے کہ پی پی پی کو مرکز میں اتحادی حکومت بنانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہوگی۔ تب شاید آپ بھی پی پی پی والوں کی اتحادی حکومت میں کوئی وفاقی وزیر یا مشیر لگ جائیں گے۔ اگر موجودہ ملکی حالات ایمرجنسی کی جانب جاتے ہیں یا کہیں گورنر راج لگتا ہے  تو پھر تو صدارتی نظام اور عبوری باوردی صدر کے لیئے راہ ہموار ہوگی۔ پھرعمران خان کی مخالفت میں آپ پنڈی بوائز کے حمایتی ہوں گے۔ پنڈی بوائز کو پی ٹی ایم سے بڑی تکلیف رہتی ہے۔ تب تو مولانا صاحب آپ کی پی ٹی ایم پر تنقید سمجھ میں آتی ہے۔

دوسری جانب موجودہ حکمران کہ جس کو ہر وقت  ”آل از ویل“ کی رپورٹ ملتی ہے جبکہ حقیقت میں ملک کی سیکیورٹی اور معاشی حالت ہر روز روبہ زوال ہے۔ پنجاب میں پہلے تو تحریک لبیک والوں کو پر امن احتجاج کرنا چاہیے تھا۔ توڑ پھوڑ اور تشدد کا راستہ اپنانے کی وجہ سے آج انہیں خود نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ جبکہ دوسری طرف وہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کہ پچھلے دور میں سیاسی انتقام کی وجہ سے اسی تنظیم کے سپورٹر تھے۔ پہلے حکمران جماعت اور اس کے سربراہ ماڈل ٹاون کو یاد کرکے روتے تھے لیکن آج خود وہی حرکتیں دہرا چکے ہیں۔ وزیر اعظم، حکمران جماعت اور وہ جمہور جو جمہوریت اور انصاف پر یقین رکھتے ہیں پہلے تو مقننہ کی تکریم کو خود بحال کریں۔ تحقیقات کروائیں کہ تحریک لبیک کو پہلے کون لوگ سامنے لائے، کس نے فنڈز دیئے، کس کے کہنے پر یہ نکلتے ہیں، پہلے روز کے مظاہرے میں فوجی افسر کس کے کہنے پر آیا تھا، پھر فوجی گاڑی میں کھڑے سپاہی کس کے کہنے پر احتجاج میں شریک ہوئے تھے۔ جب تک بنانے والوں، فنڈ کرنے والوں سے نہیں پوچھا جاتا تب تک تحریک لبیک پر پابندی، اثاثے منجمد کرنا، دہشت گرد تنظیم قرار دینا بے معنی ہے۔ مملکت خداداد میں کیا سیاسی لوگ کیا مذہبی لوگ  سب جھکتے اور بکتے رہے ہیں۔

دانستہ طور پر سیاستدانوں، جمہوری نظام، پارلیمانی طرز حکمرانی کے خلاف گٹھ جوڑ ہورہا ہے۔ سیاستدانوں کو ایک دوسرے سے کشت و گریباں کرکے کوئی اور ہیرو بنتا جارہا ہے۔ جب جب ان کے اختیارات کو محدود کرنے یا جواب دہ ہونے کی بات سامنے آئے گی تب تب ملک میں سیاسی عدم استحکام، دھرنے اور  پرتشدد مظاہرے سامنے آتے رہیں گے۔ بات مولانا کی ہورہی تھی تو مولانا صاحب پی ٹی ایم کے خلاف جتنا زہر اگل سکتے ہیں اگل لیں۔ پی ٹی ایم پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ پی ٹی ایم اپنی آئینی و قانونی جدوجہد پر امن طریقے سے جاری رکھے گی۔ بس اب آرزو یہی  ہے کہ سیاسی ورکرز، جمہوریت پر یقین رکھنے والوں، مخلص سیاستدانوں، عدلیہ، وکلاء و صحافتی برادری، سول تنظیموں اور معاشرے کے عام فرد کو اس بات کا ادراک ہوجائے اور وہ جمہوریت اور جمہوری نظام کے خلاف اس سازش کو بھانپ سکیں۔ اس کے تدارک کے لیئے کمر کس لیں۔ متحد ہوکر غیر جمہوری قوتوں کا راستہ روکیں  ورنہ بہت دیر ہوجائے گی۔