عابدحسین

ویسے تو مملکت خداداد کی تاریخ میں عدالتوں اور ججوں کے ساتھ آمروں نے بہت کچھ کیا ہے اور زبردستی کئی فیصلے منواۓ ہیں، اپنا حکم مسلط کرنے، دھمکیاں دینے اور زدوکوب کرنے کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ چاہے وہ آمریت کے حق میں فیصلہ دینا ہو، کسی آمر کے اقتدار کو دوام بخشنے اور ان کے آمرانہ اقدامات کو صحیح ٹہرانا ہو یا کسی فوجی آمر کو آئین سے مبرا قرار دینا ہو۔ ججوں کو مجبور کرکے یا خرید کر اپنے من پسند فیصلے صادر کروانے ہوں یا نظریہ ضرورت کے تحت فیصلے کرنے ہوں۔ اگر کسی جج نے پی سی او کے تحت حلف لینے سے انکار کیا، کسی آمر کے سامنے جھکا یا بکا نہیں تو اس پر طرح طرح کے الزامات لگا کر، دھمکیاں دے کر، اٹھوا کر اپنا کام نکلوا لیا گیا۔جنرل ایوب خان سے لیکر جنرل پرویزمشرف تک کسی کے بھی ہاتھ صاف نہیں ہیں۔ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کو غدار ٹہرانا ہو یا ذوالفقارعلی بھٹو کو قتل کروانا ہو یا کسی سیاست دان یا جمہوریت پسند شاعر یا صحافی کو ملک بدر کرنا ہو یا غدار ٹہرانا ہو یا سچ بولنے اور لکھنے والوں کو کوڑے مارنے ہوں، مسجد اور مدرسے کے بچوں کو زندہ جلانا ہو یا ججوں اور وکیلوں کو پابند سلاسل کروانا ہو، بے نظیر دور میں آپریشن مڈ نائٹ جیکل ہو یا نواز شریف کی جلاوطنی کہنے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں آمر اقتدار پر قبضہ جمانے کے لیئے ہر دور میں ہرحد تک جاچکے ہیں۔ 

آئین غداری کیس میں جسٹس وقار سیٹھ صاحب نے جو ججمنٹ دی ہے اس میں سابق فوجی آمر پرویزمشرف کو پھانسی کی سزا تجویز کی ہے۔ عدالت کے تحریری فیصلے کے پیراگراف میں لکھا گیا ہے کہ  “اگر پرویز مشرف پھانسی ہونے سے پہلے فوت ہوجاۓ تو اسکی لاش کو گھسیٹ کر ڈی چوک میں لٹکایا جائے” یہ فیصلہ آنے کے فوراً بعد مختلف لوگوں اور اداروں کی طرف سے مختلف قسم کے ردعمل سامنے آۓ۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ معزز جج صاحب نے ذاتی عناد پر ایسے الفاظ کا استعمال کیا ہے۔ تو کسی نے فیصلے کو غیر منصفانہ قرار دیا۔ فیصلہ آنے کے تھوڑی ہی دیر بعد پاک فوج کے ترجمان جنرل آصف غفور نے ہنگامی پریس کانفرنس بلائی اور متعلقہ فیصلے پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ  “یہ فیصلہ تہذیب، مذہب، اور اخلاقیات کے برخلاف ہے جو ذاتیات پر مبنی لگتا ہے “جنرل آصف غفور نے مذید کہا کہ  “پرویز مشرف نے تین جنگیں لڑی ہیں، وہ ہمارے ہیرو ہیں، ہم ادارے کی عزت کا اور اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں” اگلے روز حکومتی ارکان نے پریس کانفرنس کی اور کہا کہ جج  وقارسیٹھ کا فیصلہ انصاف پر مبنی نہیں ہے اور سپریم جوڈیشل کونسل میں مراسلہ ارسال کرنے کا کہا کہ جج صاحب کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کاروائی کرے۔ دوسرے لفظوں میں جج صاحب کو معطل کریں یا نوکری سے برخاست کریں۔ اسکے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے مختلف قسم کے نکات اٹھائے گئے۔ کوئی جج اور عدالتی فیصلے کو انصاف پر مبنی کہہ رہا ہے تو کوئی اس فیصلے کو غیر منصفانہ قرار دے رہا ہے اور کوئی کہتا ہے کہ معزز عدالت کے جج کو ایسے الفاظ کا استعمال زیب نہیں دیتا۔ 

 ریٹائرڈ جنرل پرویزمشرف دبئی میں ہیں اور سخت بیمار ہیں۔ انہوں  نے اس فیصلے کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے “میں بیمار ہوں، ملک میں موجود نہیں ہوں، مجھے دفاع کا موقع نہیں دیا گیا”  وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انہیں بیماری کی وجہ سے اور ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے استثناء دیا گیا تھا اور ان کا وکیل بھرپور طریقے سے ان کا کیس لڑ رہا تھا اور اپنے مؤکل  کا دفاع کررہا تھا۔ وکلاء برادری اور بعض سیاسی رہنماؤں نے اس فیصلے کو منصفانہ قرار دیا ہے کیونکہ مشرف نے آئین توڑا اور آئین کی رو سے یہ عمل غداری ہے۔ آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت مشرف غدار ہے ۔ آئین میں ملک سے غداری کی سزا  “سزائے موت” ہے۔ تحریک انصاف جو اس وقت حکمران جماعت ہے اور آئین غداری کیس جو ریاست پاکستان کا کیس ہے اور ریاست کی نمائندگی اس وقت تحریک انصاف ہی کررہی ہے۔ جس کی رو سے موجودہ حکومت ریاست کی طرف سے مشرف کیس میں ایک فریق ہے لیکن حکومتی وزراء کو اس وقت سانپ سونگھ گیا جب فوجی ترجمان نے پریس کانفرنس میں فیصلے کو غیر منصفانہ قرار دیا۔

ملک کے وزیر اعظم جناب عمران خان نے خود کہا تھا کہ پرویز مشرف نے آئین توڑا ہے اور اس پر آرٹیکل 6 لاگو ہوتا ہے۔ اگر میں وزیر اعظم بنتا ہوں تو میں مشرف کو ضرور سزا دلاؤنگا مگر اب جب وہ وقت آیا ہے تو ایک طرف وزیر اعظم صاحب کی زبان سے کوئی لفظ نہیں نکل رہا تو دوسری جانب حکومتی وزراء کے بیانات سے ایسا تاثر ملتا ہے کہ جیسے آئین غداری کیس جسٹس وقار اور پرویز مشرف کا ذاتی مسئلہ ہے یا جسٹس وقار نے ظلم کیا ہے جو ایسا فیصلہ لکھ دیا۔ حکومت پرویزمشرف کو بچانے کی تگ و دو میں نظر آرہی ہے۔

اب ان دنوں وفاقی دارالحکومت میں پرویز مشرف کے حق میں بینرز آویزاں کیئے گئے ہیں اور قومی ہیرو کا خطاب دے دیا گیا ہے جبکہ دوسری جانب آئین غداری کیس کے پراسیکیوٹر اکرم شیخ صاحب کے گھر پر باوردی نامعلوم افراد کا چھاپہ پڑا اور ان سے کیس سے متعلق مختلف دستاویزات کے متعلق پوچھ گچھ کی گئی اور انہیں زدوکوب کیاگیا۔ کل بیرسٹر اکرم شیخ صاحب نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس وقارسیٹھ صاحب کی جان کو خطرہ ہے۔ انہیں دھمکیاں مل رہی ہیں اور وہ جسٹس وقار صاحب کے مسئلے کو اقوام متحدہ  میں لیں کر جائیں گے۔ اکرم شیخ صاحب نے واشگاف الفاظ میں یہ بھی کہا کہ پاک فوج کے ترجمان جنرل آصف غفور کھلے عام دھمکیوں پر اتر آۓ ہیں۔ ان کو یا ادارے کو اس معاملے میں بولنے کا کوئی حق نہیں ہے پر ان کے لب و لہجے سے دھمکی اور حکم مسلط کرنے کا اظہار ہورہا ہے۔ اکرم شیخ کے مطابق کوئی پوچھنے والا نہیں ہے حکومت طاقتور کے سامنے بے بس ہے۔ خود آصف غفور صاحب نے بھی یہ کہا تھا کہ مشرف کے مارشل لاء کا فیصلہ ایک فرد واحد کا فیصلہ تھا لیکن آج وہی شخص ایک فوجی آمر کو بچانے کے لیئے میدان میں اترچکا ہے۔بیرسٹر اکرم شیخ صاحب کا کہنا تھا کہ پہلے جسٹس شوکت صدیقی صاحب کو دھمکایا گیا تھا جب انہوں نے آئی ایس آئی کے عدالتی فیصلے پر اثرانداز ہونے کی بات کی اور جسٹس فائز عیسٰی صاحب کو بھی دھمکیاں مل رہی تھیں اور اب جب جسٹس وقارسیٹھ صاحب نے ایک فوجی آمر کے خلاف فیصلہ دیا ہے تو انہیں بھی مختلف طریقوں سے دھمکایا جارہا ہے۔ بلکہ کردارکشی کی جارہی ہے اور ان کے خلاف بھی وہی سازشیں ہورہی ہیں۔

بدقسمتی سے ہمارے ملک کا المیہ یہ ہے کہ یہاں قانون کی بالادستی، انصاف اور حق کا ساتھ دینے کی بات تو ہوتی ہے لیکن حقیقت میں یہاں پر طاقتور کے لیئے الگ قانون جبکہ عام آدمی اور غریب کے لیئے الگ قانون موجود ہے۔ یہاں  کسی کی بھی حکومت ہو، چاہے جتنے بھی انتخابات منعقد ہوجائیں یا جتنی بھی برائے نام جمہوری حکومتیں منتخب ہوجائیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ کئی دہائیوں سے یہاں غیراعلانیہ مارشل لاء لگا ہوا ہے۔ عسکری ادارے صرف الفاظ کی حد تک  آئین و قانون کو بالاتر سمجھتے ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ فوجی ترجمان سیاسی معاملات میں ٹانگ اڑاتا ہے، معیشت پر بولتا ہے، یہ ادارہ زمینوں پر قبضے کرتا ہے، اپنے کاروبار چلاتا ہے۔ میڈیا اور صحافیوں پر ان کے کہنے سے قدغن لگائی جاتی ہے۔ عدالتی فیصلوں پر برہمی کا اظہار کیا جاتا ہے۔

جج اور عدالتیں انکے سامنے جھکنے سے انکار کریں تو ان کو زیر عتاب لایا جاتا ہے، دھمکیاں ملتی ہیں، نامعلوم افراد اٹھا لے جاتے ہیں یا ان کو نااہل قرار دلواکر گھر بھیج دیا جاتا ہے۔ جس مملکت خداداد میں اعلیٰ عدلیہ کے جج تک آزادانہ اور آئینی فیصلے لکھنے پر زیر عتاب آجائیں تو تصور کریں کہ وہاں عام انسان انصاف کا صرف اور صرف خواب ہی دیکھ سکتا ہے کیونکہ  انصاف کے حصول کے لیئے مملکت “فوجستان” میں بس خواب ہی دیکھا جاسکتا ہے۔