حسن مسعود

الف صاحب پر قسمت کی دیوی بہت مہربان ہے۔آپ ایک بڑے کاروباری ادارے کے سربراہ ہیں۔ دولت آپ کے گھر کی باندی ہے۔ آپ کا محل نما گھر آرائش و زیبائش میں یکتا ہے۔ دولت کی فراوانی نے آپ کو اللہ کے قریب کر دیا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ آپ کی نمازیں طویل سے طویل تر ہوتی جا رہی ہیں۔ سال میں ایک بار آپ روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حاضری ضرور دیتے ہیں، لیکن! آپ کی ذات کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جو کہ لوگوں سے پوشیدہ ہے۔ آپ کے ادارے میں کام کرنے والے ملازمین آپ سے ناخوش ہیں۔ مزدور طبقے کے استحصال میں آپ کے ادارے کا کوئی ثانی نہیں۔ مزدوروں سے ان کی سکت سے زیادہ کام لے کر جائز مزدوری نہ دینا آپ کا وطیرہ ہے۔ معاشرے کے نچلے طبقات سے ان کا حق حلال کا نوالہ چھین کر آپ ہر سال حرمین شریفین کی زیارت کے لیئے جاتے ہیں۔

یہ صرف صاحب الف کی کہانی نہیں، یہ ہمارے معاشرے کی منافقت کو آشکار کرتی ایک الف لیلوی داستان ہے۔ ہم راست بازی اور ایماندادی کا پیکر ہیں۔ نیکی کا جذبہ ہم میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہے، لیکن وہی نیکی ہمارے دنیاوی مفادات سے ٹکرا جاۓ تو ہماری شرافت اور پارسائی دھری کی دھری رہ جاتی ہے اور بھیڑ کا روپ دھارے بھیڑیا شکار نوچنے کو تیار نظر آتا ہے۔ گھر کا ملازم بھلے کئی مہینے کی تنخواہ سے محروم ہو، پر نماز میں معمولی سی بھول چوک ہمارے نزدیک گناہ کبیرہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں سالانہ 240 ارب روپے صدقات و خیرات کی مد میں دیئے جاتے ہیں، لیکن ٹیکس چوری میں ہمارا کوئی ثانی نہیں۔ عید الاضحی پر اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیئے ہم بڑے سے بڑا جانور خرید کر لانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر وہی عید الاضحی ہمارے آس پاس رہائش پذیر مفلس و نادار لوگ کس حال میں بسر کر رہے ہیں، یہ ہمارا درد سر نہیں۔ بحثیت قوم ہمارا اجتماعی رویہ بھی ہمارے ذاتی رویے سے کچھ مختلف نہیں۔ اپنے حقوق کی خاطر آواز اٹھانے والوں کو غداری کے تمغے دینا ہماری پرانی روش ہے۔ ہمیں امت مسلمہ کی امامت کے لیے چنا گیا ہے، مگر امت کے اس امام کے ہاں مذہبی رواداری کا شدت سے فقدان ہے۔ مشرقی پاکستان کا بنگلہ دیش بننا بھی ہمارے سماجی رویوں کی عکاسی کرتا ہے۔ ہم مستقلاً اہل بنگال کو دوسرے درجے کا شہری سمجھتے اور ان کے حقوق سلب کرتے رہے۔ اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے کی پاداش میں ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے۔ ان حالات میں اہل بنگال کے پاس واحد راستہ اپنی خودمختاری کے بارے میں سوچنا ہی رہ جاتا تھا۔ افغان جہاد بھی ہمارے دوغلے رویے کا شاہکار ہے۔ ہمسایہ ملک میں ہونے والے “مقدس جہاد” اور خانہ جنگی کے دوران دوغلے پن پر مبنی حکمت عملی کا نتیجہ ہم نے دہائیوں بھگتا اور آج بھی کسی نہ کسی شکل میں بھگت رہے ہیں۔

اپنی ان ہی حماقتوں کے باعث ہم کئی سانحات سے نبرد آزما ہوۓ، لیکن ان سے سبق سیکھ کر مستقبل میں وہ غلطیاں نہ دہرانے کے بجاۓ اپنی پرانی روش پر برقرار رہنے کی روایت نے ہمیں ان پستیوں کی جانب دھکیل دیا، جن کا آج ہم سامنا کر رہے ہیں۔ اس تاریکی سے نکلنے کا واحد حل یہی ہے کہ ہم اس منافقانہ طرزعمل کو ترک کر کے اپنے ذاتی اور اجتماعی رویوں میں تبدیلی لائیں، تاکہ حال کی تاریکیوں سے چھٹکارا پا کر ہم اپنا آنے والا کل روشن بنا سکیں۔

Previous articleپھرتے ہیں میرؔ خوار کوئی پوچھتا نہیں!
Next articleاب تو سبھی مسلمان کافر ہیں