شیزا نذیر

فوٹوگرافی کی کلاس میں مَیں نے نوٹ کیا کہ شیرل اور عائشہ آج پھر کسی الجھن کا شکار ہیں۔ کیفے ٹیریا کی طرف جاتے ہوئے مَیں نے کہا  ”تم دونوں میں سے پہلے کون بکواس کرے گا کہ اُس کو کیا تکلیف ہے؟“

اور ہمیشہ کی طرح عائشہ بولنے لگی، “بھئی مَیں تو خاموش رہنے والوں میں سے نہیں، مَیں تو بولوں گی! یہ کیا بات ہوئی پوسٹ پر کمنٹ کیا کر دیا مرد حضرات کی فرینڈ ریکویسٹ کی لائن لگ جاتی ہے، میسج پر میسج آنے لگتے ہیں۔ اگر کوئی جواب نہیں دے رہا تو مطلب وہ آپ سے بات نہیں کرنا چاہتا۔ یہ بھی ہراسانی ہے کہ کیسی ہو، موسم کیسا ہے؟ مَیں کیا محکمہ موسمیات میں ہوں؟”

“یار تم نظر انداز کیوں نہیں کرتی! فیس بک پر سیکیورٹی اور پرائیویسی زیادہ کیوں نہیں کر دیتی؟ کل تم خود خوش ہو کر بتا رہی تھی کہ کسی لڑکے نے تمہاری پوسٹ پر کمنٹ کیا اور آج غصہ کر رہی ہو” شیرل نے کہا۔

“ہاں تو جب مَیں کسی سے بات کرنا نہیں چاہتی تو کیوں مجبور کرتے ہیں بات کرنے کے لیئے؟” عائشہ بضد تھی۔

“تم اپنی سناؤ تمہارے منہ پر بارہ کیوں بج رہے ہیں؟” مَیں نے شیرل سے پوچھا۔ “ہونا کیا ہے ایک اَور  جبری شادی”، شیرل نے عائشہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، “میری این۔جی۔او میں ایک اَور والدین نے مدد کی اپیل کی ہے۔ سمجھ نہیں آتی یہ کیسے لوگ ہیں کم عمر بچیوں کو اغوا کرتے ہیں، اُن کا مذہب تبدیل کرواتے ہیں اور پھر کسی بڑی عمر یا شادی شدہ حتیٰ کہ بچوں والے مرد کو نکاح نامے کے نام پر زنا بالجبر کا اجازت نامہ دے دیتے ہیں“۔

“مذہب کی تبدیلی اپنی غیر شرعی حرکتوں کو شرعی ثابت کرنے کا بہانا ہے اور کچھ نہیں، اسلام میں ایسا کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہے” ،عائشہ نے وضاحت کی۔

” حد ہوتی ہے چودہ سالہ بچی کی شادی کر دی گئی۔ اور ہماری کورٹ تک نے کہہ دیا ہے یہ شادی شرعی قانون کے مطابق ہے کہ لڑکی کی پہلی ماہواری کے بعد شادی جائز ہے“۔ شیرل بولے جا رہی تھی، “ایک رپورٹ کے مطابق اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والی لڑکیاں جن کی جبری شادیاں ہوتی ہیں اُن کی عمریں بارہ سے پچیس سال کے درمیان ہوتی ہیں۔ لڑکیوں کے والدین رپورٹ کرتے ہیں لیکن کورٹ میں ہر لڑکی چاہے وہ بارہ سال کی ہو یا پچیس سال کی یہ کہہ دیتی ہے کہ اُس نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے، یہی نہیں بلکہ اپنی مرضی سے مذہب بھی تبدیل کر لیا۔ یعنی بارہ سال کی بچی یا پاکستانی ریاستی قانون کے مطابق انڈر ایج لڑکیاں جو پاکستانی لوئیر مڈل کلاس یا اِس سے بھی نچلے طبقے سے تعلق رکھتی ہیں وہ اپنی مرضی سے اپنی زندگی کے دو بڑے فیصلے کرتی ہیں، جہاں ۹۰ فیصد آبادی اِس بات کا فیصلہ نہیں کر پاتی کہ ایم۔اے کس مضمون میں کیا جائے اور جب کچھ سمجھ نہیں آتی تو پولیٹکیکل سائنس میں ایم ۔اے کر کے باقی کی ساری زندگی رزلٹ کارڈ کی فوٹوں کاپیاں کروانے میں گزار دیتی ہے۔ ہر سال تقریباً ۷۰۰ تک اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کی جبری شادیاں ہوتی ہیں”، شیرل کے سانولے گال سرخ ہو رہے تھے۔

میں نے پانی کی بوتل اُس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ”کچھ تلخ حقائق اور وجوہات ہیں جن کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا”۔ شیرل ہر قسم کے حقائق کو رد کرتے ہوئے بولی کہ ”کیسے حقائق؟ یہ ظلم ہے، ریپ ہے اور کچھ نہیں“۔

عائشہ کو شیرل کی بات میں دَم لگا تو طنزیہ بولی ”اچھا بتاؤ ہم بھی تو سنیں کہ ریپ کرنے کے پیچھے کیا حقائق اور وجوہات ہو سکتی ہیں“۔

“تم لوگوں نے مشاہدہ کیا ہو گا کہ اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والی جبری شادیوں کے زیادہ تر کیس لوئیر مڈل یا اِس سے بھی نچلے طبقے سے آتے ہیں۔ پہلی حقیقت یہ ہے کہ مسیحی یا ہندو یا کسی بھی اقلیتی مذہب سے تعلق رکھنے والی لڑکیاں عام لڑکیوں کی طرح اپنے جیون ساتھی کے خواب دیکھتی ہیں۔ وہ بھی عام لڑکیوں کی طرح چاہتی ہیں کہ اُن کا جیون ساتھی معاشرے میں جانا پہچانا جاتا ہو، پیسے والا ہو وغیرہ وغیرہ۔ اُن کو جب اپنی کمیونٹی میں اُن کے خوابوں کا شہزادہ نہیں ملتا تو وہ اکثریتی مذہب کے لڑکوں کی طرف مائل ہوتی ہیں۔ اب وہ مرد یا لڑکا زیادہ پیسے نہ بھی کماتا ہو یا معاشرے میں اُس کا مقام بھی زیادہ نہ ہو یہ اِسی بات کو غنیمت سمجھتی ہیں کہ اُن کی برادری کے لڑکوں سے تو زیادہ ہی اسٹینڈرڈ ہے اِس کا۔ بے شک یہ ہلکے پھلکے انداز میں فلرٹ کرنے سے شروع ہوتا ہے جسے تم لوگ ہیلتھی فلرٹ کہتی ہوں”۔

“اگر میڈم عائشہ خود کریں تو ہیلتھی یعنی ہمارا فلرٹ ہیلتھی اور آپ کا فلرٹ ہراسمنٹ!” شیرل نے عائشہ کو چھیڑتے ہوئے کہا اور عائشہ ہنسنے لگی۔

میں نے بات جاری رکھی ”ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ یعنی فلرٹ سے بات بڑھ کر تحفے تحائف تک جاتی ہے۔ اب جب تحفہ دیا تو اُس کی قیمت تو وصول کرنی ہی ہوتی ہے۔ پس بات اغوا اور پھر جبری شادی پر آ جاتی ہے”، شیرل پھر سے آگ اگلنے لگی، ”تحفے کی اِتنی بھاری قیمت؟ اور یہ تم سارا الزام لڑکیوں کو کیوں دے رہی ہو کہ وہ فلرٹ کرتی ہے تحفے لیتی ہیں تو شادی کرنے میں کیا حرج؟” میں نے ایسا ہر گز نہیں کہا مَیں ایک حقیقت بتا رہی ہوں۔ اور سالانہ سات سو کیسوں میں سے ایسے کیسوں کی شرح کم ہے اور مَیں سمجھتی ہوں کہ لڑکیوں کو احتیاط کرنی چاہیے”۔ “یعنی ساری احتیاط لڑکیاں ہی کریں مرد پر کچھ واجب نہیں ہوتا؟” شیرل پھر سے ہر وجہ اور حقیقت کو ماننے سے انکاری تھی، ”تم مجھے ۲۰۲۰ کی جرنلسٹ کم اور سولہویں صدی کا پادری زیادہ لگ رہی ہو”۔ شیرل کی اِس بات میں دَم تو ہے کہ مردوں پر کچھ واجب نہیں کہ وہ نامحرم سے فلرٹ کرتے، اُس کو تحفے دیتے ہیں۔ ایسے لوگ جو ایسی شادیوں کو جائز قرار دیتے ہیں تو پھر اُن کو نامحرم کے ساتھ فلرٹ کرنے کو بھی جائز قرار دینا ہو گا” عائشہ نے کہا۔ چلو دوسری وجہ پر بات کرتے ہیں کہ لوئیر مڈل اور نچلے طبقے میں کچھ اقلیتی خاندان ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی دوستی اکثریتی مذہب سے ہوتی ہے۔ اِن دوستیوں کی بھی کئی وجوہات ہوتی ہیں لیکن زیادہ تر وجہ یہی معلوم پڑتی ہے کہ اقلیتی طبقے کے مرد حضرات اپنے آپ کو اپنی ہی برادری پر رعب جمانے کے لیئے ایسی دوستیاں کرتے ہیں اور پھر یہ دوستیاں گھروں تک آتی ہیں۔ اِس دوستی کی آڑ میں مرد اپنے ہی دوستوں کی خواتین پر نظریں جما لیتے ہیں۔ بات یہاں پھر فلرٹ کی آ جاتی ہے”۔

شیرل نے چڑتے ہوئے کہا، ”تم نے کیا فلرٹ فلرٹ لگا رکھی ہے۔ کیا تم نے کبھی فلرٹ نہیں کیا؟ مَیں نے کیا، عائشہ نے کیا، ہر لڑکی لڑکا فلرٹ کرتا ہے جب وہ بلوغت پر پہنچتا ہے۔ تم لوگ مان کیوں نہیں لیتے کہ بلوغت میں جنسِ مخالف کی طرف کشش فطری بات ہے۔ اور تم نے جس جس سے فلرٹ کیا تو کیا تم اُن سے سب شادی کرنا چاہتی تھی؟ یا جس جس نے تم سے فلرٹ کیا وہ تم سے شادی کرنا چاہتے تھے؟ نہیں نا!  یہ جنسِ مخالف کی طرف ایک خوبصورت جذبہ ہے ج خوبصورت رشتے کی بنیاد ڈالنے کے لیئے خدا نے انسانی فطرت میں رکھا ہے لیکن تم لوگوں نے اُس کو گالی بنا کر رکھ دیا ہے”۔

“بالکل یہ ایک فطری جذبہ ہے جس کا اظہار اخلاقی دائرے میں رہ کر کیا جائے تو مستقبل کے لیئے لائف پارٹنر کا انتخاب کرنے میں فائدہ مند ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر مکاری اور ریاکاری کے ساتھ کیا جائے تو یہی جذبہ لوگوں کی زندگیاں بھی برباد کر دیتا ہے۔ مَیں بس یہ بتا رہی ہوں کہ بات شروع کہاں سے ہوتی ہے، جس کا اظہار غیر اخلاقی طریقے سے کیا جاتا ہے۔ اب یہاں بھی مرتکب دوست کے سامنے تو اُس کی بہن کو بہن ہی کہتا ہے لیکن پیٹھ پیچھے خنجر گھونپتا ہے اور اُسی بہن سے جبری شادی کرتا ہے اور کسی کو اُس مرد کی خلافِ شریعت حرکات تو نظر آتی نہیں البتہ سارا الزام لڑکی پرکہ اُس نے کچھ تو دانا ڈالا ہو گا یا یہ کہ یہ بہت ثواب کا کام کیا ہے اِس لیئے لڑکے کی برادری اِس کو برا نہیں سمجھتی”۔ مَیں نے کہا۔

شیرل پھر سے بولی کہ ”چلو مان لیتے ہیں کہ اقلیتی مذہب سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کی ایسی جبری شادیوں کے پیچھے کہیں نہ کہیں وہ خود بھی ذمے دار ہوتی ہیں لیکن ایسے تمام کیسوں میں ایک بات مشترک ہوتی ہے کہ پہلے لڑکی کو اغوا کیا جاتا ہے اور مذہب تبدیلی کے بعد شادی کر دی جاتی ہے۔ لڑکی کے لواحقین رپورٹ کرتے ہیں، پولیس کی مدد سے لڑکی والدین سے ملتی ہے اور خوب روتی ہے کہ اُس کے ساتھ زبردستی کی گئی ہے۔ وہ لڑکی بالغ ہو یا نا بالغ اُسے والدین کے ساتھ نہیں جانے دیا جاتا کیونکہ اب وہ کسی کی بیوی ہے۔ لیکن مقدمہ جب عدالت میں جاتا ہے تو لڑکی اپنے پہلے بیان سے منکر ہو جاتی ہے کہ شادی اُس نے اپنی مرضی سے کی ہے۔ ہر کیس میں یہی ہوتا ہے۔ جبری شادیوں کے کیس نہ ہوئے گورنمٹ اسکول کا یونیفارم ہو گیا کہ سب ایک جیسے” اور “اگر یہ بھی مان لیا جائے کہ لڑکی نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے تو اسلام میں مذہب تبدیل کیئے بغیر بھی شادی ممکن ہے۔ اہلِ کتاب سے تعلق رکھنے والی خواتین سے شادی کی عالمی سطح پر کئی مثالیں ملتی ہیں جن میں خواتین نے اپنا مذہب تبدیل نہیں کیا لیکن بات پھر شیرل کی کہ ایسی تمام شادیوں کا انجام ایک جیسا ہی کیوں؟” عائشہ نے سوال اُٹھایا۔ جو لوگ بنیادی مذہبی و اخلاقی باتوں کا ہی پاس نہیں رکھتے اُن سے اتنی گہری باتوں پر عمل کرنے کی کیا توقع کر سکتے ہیں”۔ مَیں نے کہا۔

چلو! فلرٹ پر آتے ہیں کہ ایک رپورٹ کے مطابق بارہ سال سے پچیس سال کی لڑکیوں سے اغوا کے بعد جبری شادی کی جاتی ہے۔ مجھے یہ سمجھاؤ کہ بارہ سال کی بچی بھی فلرٹ کرتی ہے؟” شیرل بولی۔

“ایسی شادیوں کی دو بڑی وجوہات ہیں پہلی یہ کہ مسیحی یا ہندو خاندانوں میں غربت کی وجہ سے خصوصاً بچیوں کو چھوٹی عمر میں ہی کسی فیکٹری یا کسی گھر میں کام کے لیئے بھیج دیتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ اُس لڑکی یا یوں کہہ لو کہ بچی کو گھر میں پیار نہیں ملتا۔ بچے زیادہ ہونے کی وجہ سے ایسے بچوں کو گھر میں بُری طرح نظر انداز کیا جاتا ہے۔ کچی عمر میں جب باہر سے کوئی اُن کو پچکارتا ہے تو اُن کو تو جیسے جینے کی وجہ مل جاتی ہے۔ گھر کی غربت، روز روز کے لڑائی جھگڑے سے تنگ آئی یہ بچیاں اِس پیار کو قبول کر لیتی ہیں۔ ایسے کیسوں میں نابالغ بچیاں اکثر کسی بڑی عمر، شادی شدہ حتیٰ کہ بچوں والے مرد کا شکار ہوتی ہیں۔ وہ اپنی مرضی سے گھر چھوڑتی اور شادی کرتی ہیں۔ اور کوئی سوال اُٹھانے والا نہیں ہوتا کہ نابالغ بچی کو ورغلایا گیا ہے کیونکہ اکثریت کا سامنا کرنے سے سب ڈرتے ہیں ۔ دوسری وجہ مسلم مردوں کا کسی نہ کسی وجہ سے مسیحی یا ہندو لڑکی کے بھائیوں، والد وغیرہ سے کوئی جھگڑا ہو جاتا ہے اور انتقاماً اُن کی لڑکیوں کو اغوا کرکے جبری شادی کر لی جاتی ہے۔ اوسطً سات سو یا ایک ہزار سالانہ جبری شادیوں میں ایسے کیس سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ شادی کیا بس انتقام ہوتا ہے۔ نکاح نامہ تو پولیس اور عدالتی کاروائی سے بچنے کے لیئے لیا جاتا ہے۔ اور اُس کے بعد کوئی کیا جانے کہ اِس اجازت نامے کی آڑ میں کتنے لوگ اپنی ہوس پوری کرتے ہیں”۔

ہم تینوں ایک بینچ پر بیٹھی کہیں اور ہی جا پہنچی تھیں۔ ایسے جیسے ساری دنیا میں خاموشی راج کر رہی ہو اور سسکتی زندگیاں شکوے کررہیں ہوں۔ سفر کرتے ہوئے اگر کوئی مرد نامناسب طریقے سے چھو ہی لے، کرایہ دیتے ہوئے جب کنڈیکٹر جان بوجھ کر ہاتھ کو چھو کر پیسے پکڑتا ہے تو کتنی کوفت ہوتی ہے۔ روح تک کانپ اٹھتی ہے۔

” اِن بچیوں کی زندگی کیا ہو گی جب ہر روز اُن کے ساتھ جبر ہوتا ہے، اور ہماری عدالت کہہ دیتی ہے کہ بچی نے اپنی مرضی سے شادی کی؟ والدین پر کیا گزرتی ہو گی کہ اُن کی بچی تکلیف میں ہے لیکن وہ کچھ کر نہیں سکتے کیونکہ اب وہ اُن کی عزت ہے جس کی عزت ہر روز پامال ہوتی ہے۔ کاغذ کا ایک ٹکڑا کسی کو کسی کے جسم پر جبر کرنے کی اجازت کیسے دے سکتا ہے؟. “تمہارے خیال میں جبری شادیاں بس یہی ہیں؟“ عائشہ جبری شادیوں کو کسی اَور زاویے سے دیکھ رہی تھی۔

”میری کزن کی شادی اُس کی مرضی کے خلاف ہوئی، کیونکہ جس لڑکے سے وہ محبت کرتی تھی وہ ہماری ذات کا نہیں تھا۔ بات پورے خاندان میں پھیلی تو والدین نے چچا زاد سے اُس کی شادی کر دی تاکہ گھر کی عزت خراب نہ ہو۔ اور اب اُس کا شوہر محبت کرنے کے جرم کی سزا کی آڑ میں ہر روز اُس کی بے عزتی کرتا ہے اور والدین اِس بات پر خوش ہیں کہ اُن کی عزت نیلام نہیں ہوئی”۔

“مشرقی والدین کو اپنی اولاد کی خوشی سے زیادہ اپنی عزت کیوں عزیز ہوتی ہے؟ پتا نہیں ایسے والدین اپنی اولاد کو تکلیف میں دیکھ کر خوش کیسے ہو لیتے ہیں”، شیرل نے پھر کہا۔ 

”اِس لیئے کیونکہ ہمارے مشرقی خاندانی نظام میں جذبات کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔ ہم زندگی جینے پر نہیں جیسی تیسی گزار دینے پر یقین رکھتے ہیں۔ جذبات کو سمجھنے کے معاملے میں ہم نہایت بدقسمت لوگ ہیں۔ اور پھر عورت تو بس سانس لینے والا کھلونا ہے، جس سے کھیلنے اور کھیلنے کے بعد توڑ دینے کا بھی مرد کو حق ہے چاہے وہ باپ ہو، بھائی ہو یا شوہر ہو ” مَیں نے کہا، عائشہ نے آہ بھری اور کہا:

زندگی جبرِ مسلسل کی طرح کاٹی ہے”

جانے کس جرم کی سزا پائی ہے یاد نہیں” 

Previous articleبرصغیر کے مسلمانوں پر ڈرامہ سیریل ارتغرل غازی کے منفی اثرات
Next articleنسیم حجازی سے ارتغرل غازی تک – ایک حقیقت سو افسانے