احسن بودلہ

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ، جنھوں نے حال ہی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کو خیر آباد کہا ہے۔ گزشتہ روز  ایک  ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے فرما رہے تھے  ”میاں نواز شریف نے پی ڈی ایم کے گوجرانوالہ والے جلسہ میں جو تقریر کی تھی ان کے نزدیک دراصل اس میں میاں صاحب نے پاک فوج کے جوانوں کو اپنے حلف کے مطابق کام کرنے کا کہہ کر پاک فوج میں بغاوت کروانے کی کوشش کی۔ اس لیئے انھوں نے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ وہ پاک فوج سے بغاوت کا سوچ بھی نہیں سکتے“ اس ورکرز کنونشن میں اسی قسم کے خیالات کا اظہار مسلم لیگ نواز کے پچھلے دور حکومت میں رہنے والے بلوچستان کے وزیراعلیٰ ثناءاللہ زہری نے بھی کیا۔ انھوں نے بھی مسلم لیگ (ن) کو میاں نواز شریف  کے بیانیے سے متفق نہ ہونے کی وجہ سے چھوڑدیا ہے۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) کے کئی دیگر رہنما بھی دبے الفاظ میں میاں نواز شریف کے اس سخت بیانیہ پر اپنے تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں۔ جن کا شمار میاں شہباز شریف گروپ میں کیا جاتا ہے۔ پھر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی بی بی سی کو دیئے گئے   انٹرویو میں میاں نواز شریف کی گوجرانوالہ میں کی گئی تقریر میں براہ راست آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کے نام لینے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور ساتھ ان سے جنرلوں پر لگائے گئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ بھی کردیا ہے۔

اس طرح کے بیانات سے حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کو یہ کہنے کا موقع مل گیا ہے کہ نہ صرف پی ڈی ایم میں موجود باقی سیاسی جماعتیں بھی میاں نواز شریف کے اس سخت مؤقف والے بیانیے کے ساتھ نہیں ہیں۔ بلکہ مسلم لیگ نواز کے اپنے لوگ بھی میاں صاحب کے اس رویے کی وجہ سے پارٹی چھوڑ کرجارہے ہیں۔ جس میں لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ اور سردار ثناء اللہ زہری شامل ہیں۔ اس لیئے ان کے نزدیک میاں نواز شریف کا اب کوئی سیاسی مستقبل نہیں ہے۔ یہاں تین سوالات پیدا ہوتے ہیں: (پہلا) کیا میاں نواز شریف پاک فوج میں بغاوت کروانا چاہتے ہیں؟ (دوسرا) کیا میاں نواز شریف کے بیانیے کا بوجھ اٹھانا واقعی بہت مشکل ہے؟ (تیسرا) کیا میاں نواز شریف اس سخت بیانیے سے سیاسی طور پر غیر مؤثر ہوجائیں گے اور ان کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں ہے؟

جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے کہ میاں نواز شریف پاک فوج میں بغاوت کروانا چاہتے ہیں جس کی طرف جنرل عبدالقادر بلوچ نے اشارہ کیا ہے تو میاں نواز شریف نے صرف گوجرانوالہ کے پی ڈی ایم کے جلسہ میں کی گئی اپنی تقریر میں اپنی حکومت ختم ہونے اور پھر 2018 کے انتخابات میں عمران خان صاحب کو حکومت دلوانے کا ذمہ دار ہمارے آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کو قرار دیا، اور یہ کہا کہ ان کو یہ سب کرنے کا حساب دینا ہوگا۔ اب اگر کوئی ترقی یافتہ ملک ہوتا تو تین بار ملک کے وزیراعظم رہنے والے ایک سیاسی رہنما کی طرف سے ایسے سنگین الزامات کی تحقیقات کروائی جاتی۔ اگر الزام لگانے والا سچا ہوتا تو جن پر الزام لگایا گیا تھا ان کو سزا دی جاتی اور اگر الزام لگانے والا جھوٹا ثابت ہوتا تو اس کو سزا ملتی۔ مگر یہ تو ریاست پاکستان ہے۔ یہاں الزام لگانے والے کو غدار قرار دے دیا گیا اور وزیراعظم کی طرف سے فوجی جرنیلوں کی کھل کر حمایت کا اعلان کیا گیا۔ لہذا میاں نواز شریف نے بالکل بھی فوج میں بغاوت کرنے کی کوشش نہیں کی۔ انھوں نے تو فوجی افسروں اور سپاہیوں کو ان کو اپنے حلف کی پاسداری کی یاد دہانی کروائی اور وہ تلخ حقائق بیان کردیئے جن کا اظہار یہاں بارہا بار کیا جاچکا اور جس کے بارے میں اب  بچہ بچہ جانتا ہے۔

ہاں! صرف براہ راست نام لے لیا، جس پر بلاول صاحب کو بھی اعتراض ہے کیونکہ ان کے مطابق آل پارٹیز کانفرنس میں یہ طے پایا تھا کہ پی ڈی ایم کے جلسوں میں براہ راست فوجی جنرلوں کے نام لینے کی بجائے اسٹیبلشمنٹ کا لفظ استعمال کیا جائے گا۔ اس لیئے میاں صاحب کے براہ راست نام لینے سے ان کو حیرت ہوئی۔ بلاول صاحب شاید بہت بھولے ہیں کہ ان کو یہ نہیں معلوم کہ اسٹیبلشمنٹ سے مراد وقت کے حاضر سروس جنرل ہی ہوتے ہیں۔ جن کو پہلے جب میاں نواز شریف نے خلائی مخلوق کہا تھا تو میڈیا والے یہ پوچھتے نہیں تھکتے تھے کہ یہ خلائی مخلوق کون ہیں؟ اور اب جب میاں صاحب نے براہ راست نام لے لیئے ہیں تو یہی میڈیا والے ان کو غدار قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔

اب دوسرے سوال کے جواب کی طرف آتے ہیں کہ کیا میاں نواز شریف کے اس بیانیے کا بوجھ اٹھانا سب کےلیئے مشکل ہے؟ تو اس سوال کا جواب ہاں ہے کیونکہ جس ریاست میں سیاسی حکومتیں فوج جنرلوں کی مرضی اور منشاء کے مطابق بنتی ہوں، وہاں ان پر براہ راست وار کرنے کا مطلب ہے کہ آپ اپنے سارے راستے بند کررہے ہیں کیونکہ ایسی ریاست میں اگلی بار اقتدار میں آنے کےلیئے بھی تو آپ کو انہی جنرلوں کی مدد درکار   ہوتی ہے۔ اسی لیئے تو اس بیانیے کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے کیونکہ اس کے مطابق یہ سلسلہ اب بند ہوجانا چاہیے۔ دوسرا اس بیانیے کا ساتھ دینے کا مطلب ہے کہ آپ کو غداری اور ملک دشمنی کے طعنے بھی سہنے پڑیں گے۔ اسی لیئے ایک تو وہ لوگ اس بیانیے کو بنیاد بنا کر پارٹی چھوڑیں گے، جو خود پر غداری کا ٹیگ نہیں لگوانا چاہتے اور جنھیں پتا ہے کہ ان کو کسی دوسری سیاسی جماعت میں باآسانی پناہ مل جائے گی۔ دوسرے وہ لوگ چھوڑ کر جاسکتے جو اب بھی فوجی جنرلوں کی مدد کو ہی اقتدار میں آنے کا واحد راستہ مانتے ہیں۔ جس میں شہباز شریف کی مفاہمتی پالیسی والے لوگ بھی ہیں۔ اس لیئے ان میں سے بھی کچھ اگر مستقبل قریب میں مسلم لیگ نواز کو خیر آباد کہہ گئے تو اس میں کوئی حیرت والی بات نہیں ہوگی۔

اسی قسم کی مفاہمتی پالیسی پر پاکستان پیپلز پارٹی بھی کاربند ہے۔ کیونکہ ان کے پاس سندھ صوبے کی حکومت ہے اور وہ آگے بھی اپنے لیئے رستے کھولنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بلاول صاحب کی پی ڈی ایم میں کی گئی تقریروں کا ہدف وزیراعظم عمران خان صاحب رہے ہیں نہ کہ ان کو لانے والے۔ ان کا اپنے بی بی سی والے انٹرویو میں میاں نواز شریف سے حاضر سروس جنرلوں پر الزامات کے ثبوت کا مطالبہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ حالانکہ 2018 کے انتخابات کے بعد قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں عمران خان صاحب کو ”سلیکٹیڈ وزیراعظم“  سب سے پہلے بلاول بھٹو صاحب نے ہی کہا تھا تو وہ میاں نواز شریف سے ثبوت مانگنے سے پہلے خود بھی اس الزام کے ثبوت فراہم کردیں تو بہت اچھا ہوگا۔

اور سب سے اہم سوال کہ کیا اس بیانیے پر سخت مؤقف اپنا لینے سے میاں نواز شریف غیر مؤثر ہو جائیں گے اور ان کی سیاسی وقعت کم ہوجائے گی تو اس سوال کا جواب  ”نہیں“ ہے۔ کیونکہ اس بیانیہ پر یہ سخت مؤقف ہی میاں نواز شریف کی طاقت بنتا ہوا نظر آرہا ہے۔ جس کہ واضح مثال مسلم لیگ (ن) اور پی ڈی ایم کے ہر جلسوں میں لگنےوالے ”ووٹ کو عزت دو“ کے نعرے ہیں، اور عام پاکستانی کو بھی اس بیانیے کا شعور آنا بھی ثبوت میں شامل ہے۔ اب جو بھی سیاسی رہنما یا کوئی سیاسی جماعت خود کو اس بیانیے سے الگ کرے گی تو وہ اپنی وقعت خود ہی گھٹا لے گی اور میاں نواز شریف کی سیاسی وقعت بڑھ جائے گی۔ ہاں! ایک صورت میں ان کی سیاسی وقعت کم ہوسکتی ہے کہ اگر وہ بھی کسی مصلحت کے تحت اس بیانیے سے دستبردار ہوجائیں، لیکن اگر وہ اس بیانیے پر اسی طرح مضبوطی سے قائم رہے اور اس کی وجہ سے سول بالادستی کے معاملات میں تھوڑی سی بھی بہتری آگئی تو تاریخ میاں نواز شریف کو ہمیشہ سنہرے الفاظ میں یاد رکھے گی۔

Previous articleشانگلہ کے نوجوان اور بلیک ڈائمنڈ
Next articleحضور والا! ایک جرنیل ادھر بھی!