ارشد سلہری

عورت مارچ پر اعتراضات ختم نہیں ہورہے ہیں۔ عورت کی شخصی آزادی کو بے حیائی اور بدچلنی قرار دے کر ان کے شعور کا گلا دبانے کی کوشش بڑی شدومد سے کی جاری ہے۔ بڑا معصوم سوال کیا جاتا ہے کہ حقوق کس سے مانگے جارہے ہیں۔ عورت اور مرد کا تقابل کیا جاتا ہے۔ میاں بیوی، بہن بھائی، ماں باپ سمیت دیگر رشتوں کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ مذہبی حوالے دیے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اسلام نے چودہ سو سال پہلے عورتوں کو حقوق دے دیے تھے۔

میراجسم میری مرضی کے طنطنہ نے ایک آگ بھڑکا رکھی ہے۔ بالخصوص مذہبی طبقات اور ان کے مقلدین کسی صورت عورت کو اپنے جسم پر اختیار کی بات کرنے کی بھی اجازت دینے کو تیار نظر نہیں آر ہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہم جبری شادیاں کریں عورت خاموش رہے۔ ریپ کاظلم خاموشی سے سہہ جائے یا خود کشی کرلے۔ ونی کردی جائے، سورا کردی جائے پر خاموش رہے۔ پاؤں کی جوتی بن کر رہے۔

افسوسناک امر ہے کہ میرا جسم میری مرضی کے نعرے کی مخالفت کرنے والے فخریہ  انداز میں عورتوں کوکھلم کھلا غلیظ گالیاں بکتے ہیں اور گھروں سے لے کر راہوں چوراہوں، بس اڈوں، انتظار گاہوں، بسوں، ویگنوں، ریل گاڑیوں کے اندر، دفاتر، فیکٹریوں، ملوں، کارخانوں، الغرض ہر اس جگہ جہاں عورت ہو وہاں انہیں ہر ہر طریقے سے ہراساں کیا جاتا ہے۔ عورت کو انسان سمجھنے یا کہنے کے بجائے مال، پرزہ، پٹولہ، ٹیکسی، چیزاور ہر ایسا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ جس سے عورت کی توہین ہو اور اس کی عزت نفس مجروح ہو۔ یہ لوگ اپںے کرتوتوں سے اچھی طرح واقف ہیں۔ فیس بک کے گروپس اور صفحات عورتوں کے خلاف مغلظات سے بھرے پڑے ہیں۔ فحش گوئی، فحش تصاویر سے ان کے ذہن اور صفحات اٹے پڑے ہیں۔ انہیں صرف اعتراض ہے تو عورت کے بولنے پر ہے۔

 سیاسی، سماجی اور مذہبی بداخلاقی میں صرف مرد حضرات ہی ملوث نہیں ہیں بلکہ برقعہ پوش عورتیں بھی پوری طرح شریک ہیں۔ فیس بک، ٹویٹر اور یوٹیوب پر اخلاقیات، حیا  اورشرم کے درس دیتی خواتین میں انسانی اخلاقیات کی جھلک تک دکھائی نہیں دیتی ہے۔ یہ تصوراتی اور خیالی معاشرے تعمیر کررہی ہوتی ہیں۔ جس طرح زید حامد نے  تصوراتی میدان جنگ سجا رکھا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے۔ ایسے لوگ عورت کے جائز مطالبات کے اتنے مخالف کیوں ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ جرأت تحقیق سے عاری ہیں۔ درست خیالی کا فقدان ہے۔ اس کی ذمہ دار اور قصور وار سیاسی جماعتیں اور سیاسی قیادت ہیں۔ جن کے نزدیک سیاست محض اقتدار کا کھیل ہے۔ عوام کی رہنمائی اور تعلیم و تربیت اور سمت متعین کرنا ان کے سیاسی مقاصد میں شامل نہیں ہے۔ بلکہ سماجی ماحول کو گندہ کرنے میں سیاسی قیادت کا اہم کردار ہے۔ جنہوں نے الزامات، کرپش، ہارس ٹریڈنگ، گالم گلوچ کی روایات کو رواج دیا ہے۔ مذہبی جماعتوں اور منبر پر بیٹھنے والوں کا سیاسی قیادت سے بھی زیادہ گھناؤنا کردار رہا ہے۔ جن کی ذمہ داری ہی اخلاقیات کی تعمیر ہے وہ اخلاقیات سے عاری خطبات دے رہے ہیں۔ حقیقی قیادت کے بغیر قوموں کی اخلاقیات اور مزاج ایسے ہی ہوتے ہیں۔ ان کے نزدیک جرأت تحقیق کفر اور درست خیالی بدعت ہوتی ہے۔

عورت مارچ کےتسلسل سے عوام کو عورت کے حقوق، مشکلات اور مسائل کا ادراک ہوگا اور عورت میں بھی طاقت اور حوصلہ پیدا ہوگا۔ ”میرا جسم میری مرضی“ کا نعرہ عورت کو ہر قسم کے خوف اور جبر سے آزاد کروا سکتا ہے۔ مسلسل جدوجہد فتح کی نوید ہوتی ہے۔ گزشتہ عورت مارچ سے کئی جکڑبندیوں کو کاری ضرب لگی ہے۔ خاموشی ٹوٹ رہی ہے۔ عورت مارچ کے مسلسل انعقاد سے تقدس اور شرم وحیا کے بنائے گئے جعلی بندھن بھی ٹوٹ جائیں گے اور عورت کا حقیقی تقدس بحال ہوگا۔