مترجم : مہناز اختر

”میں شادی نہیں کرنا چاہتی۔۔ یا کم از کم تب تک جب تک کہ پینتیس سال کی نہ ہوجاؤں۔“ گزشتہ چند سالوں میں جب کبھی مجھ سے شادی کے حوالے سے سوالات پوچھے گئے تو ہر بار ایک بھرپور رد عمل کے طور پر میرے اندر سے یہی جواب آیا۔ میں شادی کے خلاف نہیں تھی مگر جس طرح سے شادی کا ادارہ چلایا جاتا ہے اس پر میرے  تحفظات تھے۔ میں نے اس ادارے میں موجود پدرسری سماج کے اثرات پر سوال اٹھایا تھا کہ کیوں لوگ یہ توقع کرتے ہیں کہ شادی کے بعد سارے سمجھوتے لڑکی کو کرنے ہیں اور کیوں دنیا میں کئی جگہ شادی سے متعلق قوانین پدرسری روایات سے متاثر اور خواتین سےنفرت پر مبنی ہیں۔ مجھے خوف تھا کہ یہ رشتہ مجھ سے میری انسانیت، میری آزادی اور میری نسوانیت چھین لے گا۔ لہذا میرے نزدیک اس کا بہترین حل شادی سے فرار تھا۔

میں کیسے خود کو ایک فیمینسٹ کہ سکتی ہوں اگر میرے پاس اس رشتے میں سرایت کرچکی پدرسری روایات کے حوالے سے تحفظات نہ ہوں۔ گرلز ناٹ برائڈ کی رپورٹ کے مطابق ہر سال بارہ ملین، اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادی کروادی جاتی ہے، اور ان میں سے زیادہ تر لڑکیوں کے لیئے یہ کوئی خوش گوار شراکت نہیں ہوتی بلکہ ایک طرح سے غلامی ہوتی ہے۔ شمالی پاکستان میں پرورش پانے والی لڑکی کی حیثیت سے میں یہ بات اچھی طرح جانتی ہوں کہ وہاں لڑکیوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ شادی خواتین کے لیئے خودمختار زندگی کا متبادل ہے کیونکہ آپ پڑھ نہیں سکتیں، ملازمت نہیں کرسکتیں، اپنا گھر نہیں بنا سکتیں۔ امتحان کی ناکامی یا ملازمت نہ ملنے پر آپ سے کہا جاتا ہے کہ شادی کرلو!

میرے ساتھ بڑی ہونے والی ایسی بہت ساری لڑکیوں کی شادی اتنی کم عمری میں کروادی گئیں کہ وہ اپنے لیئے کسی پیشے کا انتخاب کرنے کے قابل بھی نہ تھیں۔ میری ایک سہیلی چودہ سال کی عمر میں ایک بچے کی ماں بن چکی تھی۔ کچھ لڑکیوں کے والدین ان کی پڑھائی کا خرچہ نہ برداشت کرپانے کے سبب انہیں اسکول سے اٹھا لیتے تھے؛ کچھ لڑکیوں کو اس لیئے اسکول سے اٹھا لیا جاتا تھا کیونکہ وہ اپنے والدین کی توقعات پر پورا نہیں اتر پاتی تھیں اور والدین کو ان کی تعلیم پر کیا جانے والا خرچہ پیسے کی بربادی لگتا تھا۔ ان لڑکیوں کے لیئے شادی کا مطلب زندگی کی ناکامیوں کا حل تھا۔ ایسی لڑکیاں اسکول جانے کی عمر میں ہی اس بات کا ادراک رکھتی ہیں کہ وہ اپنے خواب کبھی پورے نہیں کرپائیں گی۔

 یہی وجوہات تھیں کہ جب جولائی میں سیرن کیل نے برٹش ووگ کی کور اسٹوری کے لیئے مجھ سے شادی کے حوالے سے سوال کیا تو میں نے وہی جواب دیا جو کئی بار دے چکی تھی۔ کئی لڑکیوں کی تاریک زندگیوں کا علم ہونے کے بعد میرے لیئے شادی کے موجودہ خطوط پر سوچنا مشکل تھا۔ میں نے وہی کہا جو اس پہلے کئی بار کہہ چکی تھی کہ شادی میرے لیئے نہیں ہے۔

جیسا کہ دوسرے سماجی اداروں اور نارمز میں وقت کے ساتھ تغیر آتا جارہا ہے تو کیا ہو کہ اگر ایسا ہو کہ شادی کے تصورات اور اس رشتے کے قواعد و ضوابط کو علم و شعور اور خودمختاری کے ساتھ نئے سرے سے مرتب کیا جائے۔ روایات انسانوں نے بنائی ہیں اور وہ اس کو تبدیل بھی کرسکتے ہیں۔ اس موضوع پر میرے دوستوں، میرے استاذہ اور میرے شریک حیات عصر ملک سے ہونے والے مکالموں نے مجھے سمجھنے میں مدد کی کہ کس طرح میں شادی کے اس بندھن کو اپنے اصول و خود مختاری کو برقرار رکھتے ہوئے پوری ایمانداری سے نبھا سکتی ہوں۔

2018 کی گرمیوں میں عصر اپنے دوست سے ملنے آکسفورڈ آئے اور تبھی ہم پہلی بار ملے۔ وہ کرکٹ سے منسلک تھے اور میرے پاس اس حوالے سے کرنے کو ڈھیر ساری باتیں تھیں۔ انہیں میری حس ظرافت پسند آئی اور ہم اچھے دوست بن گئے۔ ہم ایک جیسا ذہن رکھتے تھے اور ایک دوسرے کا ساتھ ہمارے لیئے پر لطف تھا۔ ہم خوشی اور مایوسی کے لمحات میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے۔ اپنی ذاتی زندگی میں آنے والے نشیب و فراز کے باوجود ہم ایک دوسرے کی سنتے اور بات کرتے تھے اور جب کبھی الفاظ کم پڑجاتے تو میں عصر کو ہمارے ستاروں کی مطابقت کا حال بتانے والا لنک بھیج دیتی۔ اس امید پر کہ شاید ستارے ہمارے تعلق کی تعمیر میں مددگار ثابت ہوں۔

میں نے عصر میں ایک بہترین دوست اور ساتھی پایا ہے۔ میں اب تک خواتین کو پیش آنے والی مشکلات کا حل نہیں ڈھونڈ پائی ہوں لیکن مجھے یقین ہے کہ میں شادی میں دوستی، محبت اور مساوات کا لطف لے سکتی ہوں۔ چنانچہ 9 نومبر بروز منگل، ہم نے قریبی دوستوں اور رشتےداروں کے ساتھ برمنگھم میں نکاح کی تقریب کا اہتمام کیا۔ یہ کئی لوگوں کی چھوٹی چھوٹی کاوشوں کا نتیجہ تھی۔ میری شادی کا جوڑا میری والدہ اور ان کی سہیلی نے لاہور سے منگوایا تھا۔ عصر کی والدہ اور ان کی بہن نے زیور دیا جو میں نے اس موقع پر پہنا تھا۔ کھانے اور سجاوٹ کا انتظام میرے والد نے کیا تھا۔ میرے معاونین نے میرے لیئے فوٹوگرافر اور میک اپ آرٹسٹ کا بندوست کیا؛ اور میرے اسکول اور آکسفورڈ کی تین سہیلیوں نے میرے لیئے اپنے کام سے چھٹی کی اور سفر کرکے میرے پاس آئیں۔ جب مجھے علم ہوا کہ میرے خاندان اور دوستوں میں مہندی لگانے کا ہنر صرف میرے پاس ہی ہے تو اپنی مہندی میں نے خود لگائی۔ نکاح سے پہلے عصر نے گھنٹوں لگا کر میرے ساتھ ان کی گلابی ٹائی، رومال اور میری سینڈلز کی خریداری کی؛ اور میرے چھوٹے بھائیوں نے میری خاطر سوٹ پہنا۔

ہم اپنے چاہنے والوں کے ساتھ اس خوشگوار سرپرائز کو بانٹنے کے لیئے نہایت پرجوش تھے نیز آنے والی نئی زندگی کے لیئے بھی۔

ملالہ