ارشد سلہری

بڑے پاپا جب پی ایم تھے تو انہوں نے خاندانی روایت کو تقویت دی اور پندرہ سو کروڑ جمع کر رکھے تھے۔ چھوٹے پاپا  جب سی ایم بنے تو خاندانی بیلنس میں 2500 کروڑ کا اضافہ ہوا تھا۔ ایم پی ایز کو بھی سو سو کروڑ کے خصوصی فند دیئے گئے۔  پارٹی کے لوگ اور عوام بڑے پاپا کے دور حکومت سے بھی زیادہ خوش تھے۔ چھوٹے پاپا نے پل، سٹرکیں، اوورہیڈ برج اور تعمیرات کا جال بچھا دیا، بڑے بڑے میگا پراجیکٹ مکمل کیئے تھے، 200 ارب کے پلاٹ تقیسم کیئے گئے تھے، غرض ہر طرف طوطی بولتا تھا۔ اسمبلی میں ہر بل پاس ہوتا اور کابینہ ہر پالیسی منظور کرتی تھی۔ پارٹی ورکروں اور عہدے داروں کی سرکاری اداروں میں سنی جاتی تھی اور پولیس اشاروں پر ناچتی تھی۔ مگر اب کیا ہورہا ہے؟

کابینہ کا کوئی ممبر خوش نہیں ہے۔ ایم این ایز الگ ناراض ہیں۔ ایک پائی کا فنڈ ریلیز نہیں کیا جارہا ہے۔ اسمبلی میں کوئی بل منظور نہیں ہو رہا ہے۔ پارٹی میں انتشار ہے۔ مخالفین میں اضافہ ہورہا ہے۔ اپوزیشن کا دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔ احتجاجی مارچ کی کال دے دی گئی ہے۔ مہنگائی دن بدن بڑھ رہی ہے۔ عوام بھوک سے مرنے لگے ہیں۔ مگر یہ نالائق وزیر اعظم ملک کی سمت درست کرنے اور کرپشن کا خاتمہ کرنے کے جنون میں مبتلا ہے۔ کھلاڑی ہے مگر سیاست سےاناڑی ہے۔ سلیکٹیڈ ہے، چنتخب ہے، یہودی ایجنٹ ہے، سیاسی وژن سے کورا ہے، اسے کیا معلوم سیاست کیا ہوتی ہے۔ برگر کھانے والے اور جینز پہنے والے سیاست کریں گے؟  اپنے ہی لوگوں پر نیب کے چھاپے پڑتے ہیں۔ سرکاری زمین قبضہ مافیا سے واگزار کرائی جاررہی ہے۔ یہ کیا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ باعزت اور معزز پارلیمنٹیرین کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔ پگڑیاں اچھالی جارہی ہیں۔

این آر او نہیں دوں گا۔ سمجھوتا نہیں کروں گا۔ ان باتوں سے ملک چلتے ہیں؟ تین سال ہوگئے ہیں۔ ایک منصوبہ مکمل نہیں ہوا ہے۔ کرپشن کی ریکوری بھی کوئی خاص نہیں ہے۔ صرف ڈھائی دوسو ارب ریکور کیئے ہیں۔ نیا پاکستان، ریاست مدینہ سب ڈھکوسلے ہیں۔ کہاں ہیں ملازمتیں؟ گھر کہاں ہیں؟ تین سال میں بس پانچ سو گھر تعمیر ہوئے ہیں۔ نالائق وزیراعظم قابل قبول نہیں ہے۔ اسے وزرات سے ہٹانا ہی سب کےلیئے بہتر ہے۔ حد ہوتی ہے! جولوگ ہمارے دروازوں کے سامنے سے گزرنے کی ہمت نہیں رکھتے تھے۔ اس نے انہیں اسمبلیوں میں لا بٹھایا ہے۔ کئی تووفاقی وزیر بن گئے ہیں۔ ٹکے ٹکے کے لوگ ٹی وی ٹاک شوز میں برابر بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔ یہ کیسی تبدیلی ہے؟ ہر چیز کا بیڑا  غرق کردیا ہے۔ اپوزیشن متحد ہے۔ لانگ مارچ پر سب کا اتفاق تھا کہ اس فاشسٹ حکومت کو گھر بھیج کر دم لیں گے۔

ایوان بالا کے انتخابات ہی دیکھ لیں! کہتا ہے! ووٹوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے مگر خود جان کے لالے پڑے ہوئے تھے۔ پارٹی میں کھلبلی مچی تھی۔ ایم این ایز اورایم پی ایز  سنبھالے نہیں جارہے تھے۔ آخر کار بڑے پاپا کو ہی آگے بڑھ کر معاملات سنبھالنے پڑے تھے۔ نظام کے ساتھ چلنا پڑتا ہے۔ ایسے نہیں ہوتا ہے۔ سیاست سیکھنا پڑتی ہے۔ کرکٹ کھیلنے اور سیاست کرنے اورملک چلانے میں بہت فرق ہے۔ نظام خاک بدلنا یا درست کرنا ہے جب نظام سے جڑے لوگ ساتھ نہیں دیں گے۔ تب تک نہ نظام بدل سکتا ہے اور نہ ملکی سمت درست ہو سکتی ہے۔ اس طرح کرپشن ختم نہیں ہوسکتی۔ عقل سے کام لینا ہوگا۔ مقدمات ختم کریں۔ ٹرائل بند کیا جائے۔ نیب کا ادارہ ختم کردیا جائے بصورت دیگر استعفا دیں اور گھر جائیں۔ ہم ملک و قوم پر ایسا نالائق وزیراعظم مزید برداشت نہیں کرسکتے۔ عوام کی حالت دیکھ کر اب تو رونا آتا ہے۔ ہم عوام کے ساتھ  اور ظلم برداشت نہیں کریں گے۔