ڈاکٹر نازش امین

میڈیکل کے طلبہ  بلاشبہ کسی بھی قوم کے ذہین ترین افراد ہوتے ہیں۔ مگر کیا آپ جانتے  ہیں کہ انہی ذہین  ترین افراد کو اپنی ذہنی صحت برقرار رکھنے کے  لیئے   کیسی کیسی مشقت درپیش  ہوتی ہے؟

تھرڈ ائیر ایم بی بی ایس کی طالبہ  زویا  کلاس لے کر  لیکچر ہال  سے باہر آئی کہ اچانک بے ہوش ہو کر فرش پر آ گری۔ چند دوستوں اور اساتذہ  نے مل  کر اسے پھر سے ہوش  میں واپس لانے کی کوشش کی جس میں کافی وقت صرف ہوا .معلوم یہ ہوا کہ وہ ڈپریشن کی مریضہ تھی اور با قاعدگی سے اینٹی ڈپرسسنٹ ادویات استمعال کر رہی تھی۔ زویا کے ڈپریشن کی وجہ کچھ بھی ہو، چاہے وہ  اس کی ذاتی زندگی سے متعلق واقعات ہوں یا کیمپس کی مصروفیات اس پر اثرانداز ہو رہی ہوں، میڈیکل کے طلبہ میں ڈپریشن کی بیماری میں روز بہ  روز اضافہ  دیکھنے میں آ رہا  ہے۔

کئی طبّی اداروں نے اس موضوع پر تحقیقاتی مقالے پیش کیئے ہیں۔ جو اہم وجوہات سامنے آئی ہیں، ان میں سب سے پہلے، مشکل ترین پڑھائی ہے، جیسے ہی یہ طلبہ ڈاکٹر بننے اور سفید ایپرن پہننے کا خواب لے کر   کسی میڈیکل کالج میں داخل  ہوتے ہیں، ویسے ہی کتابوں کا انبار ان کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔ ابتدائی چند ماہ میں ہی ایسے الفاظ، ترکیب اور زبان سے  واقفیت حاصل کرنا ہوتی ہے جس سے وہ سرے سے لاعلم ہوتے ہیں۔ دوسری اہم وجہ طالب علموں کے درمیان آپس  کا تقابلی جائزہ ہوتا ہے۔  دوستوں اور ہم عصروں سے اچھے نمبروں کے حصول کے لیئے مقابلہ جاری ہو جاتا ہے  دوسری جانب اساتذہ اور والدین کے سامنے اپنا مقام  بلند رکھنا ہوتا ہے۔ یہ تمام عوامل مل کر اندر سے  انہیں کمزور کررہے ہوتے ہیں۔

کالج کے تیسرے سال ہسپتال کے وارڈز میں تربیت کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ حساس ذہنوں کے لیئے ہسپتال میں موجود مریضوں کو تکلیف میں دیکھنا، غربت اور بے بسی کے منظر کے گواہ بننا، اور وہاں ہونے والی  اموات کا انتہائی قریب سے مشاہدہ کرنا، یہ سب ڈپریشن کے بڑے عوامل کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ ہر سال پڑھائی کی نوعیت تبدیل ہوتی جاتی ہے اور وقت کی قلّت  بڑھتی چلی جاتی ہے۔ یہ طلبہ نہ مناسب نیند لے پاتے ہیں نہ گھر والوں کے ساتھ معیاری وقت گزار پا تے  ہیں۔ کچھ کو نیند لانے والی ادویات کی عادت ہوجاتی ہے، کچھ کافی اور سگریٹ کے نشے میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

کسی بھی امتحان میں پندرہ سے بیس فیصد ناکامی کا تناسب موجود ہوتا ہے۔ کسی وجہ سے  امتحان  میں ناکامی کا سامنا کرنے پر یہ طالب علم احساس کمتری کا شکار بھی ہوجاتے ہیں۔ احساس سے جڑے رشتوں کی بات کی جائے تو ایک ساتھ  کیمپس میں کئی گھنٹے ساتھ گزارنے والے یہ نوجوان، جذباتی رشتے بھی جوڑ لیتے ہیں۔ ان میں سے جو اپنی تعلیم اور پڑھائی میں توازن برقرار نہیں رکھ پاتے ہیں، ان کے لیئے بقا کی جنگ مزید مشکل ہو جاتی ہے۔ جوں جوں وقت گزرتا ہے مستقبل کے حوالے سے بے یقینی کے اندیشے، ملازمت کا نہ ملنا، ملک سے  باہر جا کر بہتر مستقبل کی تلاش یا ملک میں رہتے ہوئے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنا، یہی وہ بڑے سوالیہ نشانات ہوتے ہیں، جو مستقل پریشانی کی وجہ بنتے ہیں اور ان طلبہ کو وسوسوں کے جال  میں پھنساتے چلے جاتے ہیں۔ اس لیئے یہ جاننا اور یاد رکھنا بہت ضروری ہے کہ ڈاکٹر کا ٹیگ اپنے ماتھے پر لگانے والے قوم کے یہ بے حد ذہین افراد اپنے زمانہ طالب علمی میں کسی نہ کسی صورت ڈپریشن کے کئی مرحلوں سے گزرے ہوتے ہیں اور ان کی ذہنی صحت ہرگز قابل رشک نہیں ہوتی ہے۔

Previous articleآزادیِ اظہارِ رائے اور ہولوکاسٹ
Next articleجوانی سے بڑھاپے تک