تحریر: ڈاکٹر خورشید علی

ترجمہ: عابد حسین

وزیر اعظم نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے دہرایا کہ امریکہ کو افغانستان کے خلاف پاکستان کی سرزمین استعمال نہیں کرنے دیں گے-

ماضی کے غلطیوں کا ذکر کرتے ہوئے  افغانستان سے امریکی انخلاء  کے وقت وزیر اعظم نے غیر جانبدار رہنے , ایک نئ پالیسی اور لائحہ عمل کے تاثر دینے کی کوشش کی جیسے کہ وہ ماضی کے غلطیوں کا  ازالہ کررہا ہے- اور یہ فیصلہ وہ اکیلے اور بغیر کسی دباو کے کررہا ہے-

وزیراعظم کے اس بیان کو عوام اور سیاست دانوں نے بہت سراہا, عوام اور ان پڑھ سیاسی خوش فہم لوگوں نے ظاہری طور پر اس کو حرف آخر سمجھ لیا-

ان کے خوش فہمی کو اگر ایک جملے بیان کیا جائے تو ایسا ہوگا جو کہ عمومی طور پر ہم سنتے آرہے ہیں کہ

’’اب ہم امریکہ کے غلامی سے نکل چکے ہیں‘‘

اگر اس لائحہ عمل یا بیان کو ہم ملک کے سکیورٹی کے تناظر میں دیکھے تو یہ افغانستان کے متعلق ہماری اس پرانی  بنیادی پالیسی سے چندہ مختلف نہیں جو کہ ایک عرصے سے چلی آرہی ہے-

اور دراصل یہی اسٹریٹجک ڈیپتھ کی پالیسی کی ایک نئی شکل ہے-

9/11 کے بعد پاکستان نے افغانستان میں اپنی اسٹرٹیجک ڈیپتھ کی پالیسی کو دوام بخشنے کے لیئے امریکی موجودگی سے بہت فائدہ اٹھایا, افغانستان کے متعلق پاکستان نے کچھ اس طرح سے کردار نبھایا کہ پاکستان امریکہ کے دہرے معیار کے پالیسی کا شکار ہوا-

پاکستان کو اور بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا جب اسامہ بن لادن کو پاکستان میں مارا گیا-

ماضی میں افغانستان کے متعلق پاکستان کی مبہم پالیسی اور پاکستانی افواج کا ڈیورنڈ لائن پر موجودگی کی وجہ سے وہاں کی مقامی آبادی کو بھی بہت سے مسائل کا سامنا رہا جو کہ آخر کار پستون تحفظ مومنٹ کے قیام کا باعث بنا-

وزیراعظم نے ملک کے اندر فوجی آپریشنز کی مخالفت کے اپنے سابقہ بیانات کو دفاع کے طور پر دہرایا اور یہ تاثر دیا کہ وہ تو پہلے بھی اس چیز کے مخالف تھے-

وزیر اعظم نے امریکہ کا پاکستان کے اندر ہوائی اڈے مانگنے اور اپنی موجودہ پالیسی بیان کو یہ جواز دیتے ہوئے پیش کیا کہ ماضی میں پالیسی ساز امن اور مذاکرات کی وژن  ہی نہیں رکھتے تھے اور اس طرف کسی نے دیہان ہی نہیں دیا کہ مذاکرات کے زریعے امن کی بحالی ممکن ہے-

وزیراعظم نے مذید کہا کہ ” پاکستان قیام امن کے عمل میں ساتھ دیں گا , نہ کہ جنگ میں-”

باہر حال اگر وزیراعظم کے اس بیان کو درست سمجھا جائے کہ فوجی تیاریاں یا انتظامات امن کے لیئے خطرہ ہے تو پھر تو بحثیت ریاست پاکستان بذات خود امن مخالف ملک ہے- وزیر اعظم تکنیکی طور پر خود اپنے بیان میں کنفیوز نظر آتے ہیں- کیونکہ یہ تاثر دینا کہ

“امریکہ اس لیئے ہوائی اڈے مانگ رہا ہے کیونکہ وہ افغانستان میں ایک نئ جنگ شروع کرنا چاہتے ہیں- ” اگر اس بات کو درست مان لیا جائے تو پھر امریکہ کو افغانستان سے نکلنے کی کیا ضرورت ہے-

امریکہ اس لیئے افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے کیونکہ وہ اپنے ملک کے شہریوں کو جوابدہ ہے,  20 سال کے سیاسی , معاشی اور فوجی سرمایہ کاری کو بھی محفوظ بنانا ہے- 9/11 کے بعد امریکی عوام کو یہ باور کرایا گیا تھا کہ اس لیئے افغانستان میں کھود رہے ہیں تاکہ مستقبل میں امریکہ کو اس قسم کی دہشت گردی سے محفوظ بنایا جائے-

امریکہ کھبی نہیں چاہے گا کہ 9/11 سے پہلے کی طرح طالبان افغانستان کے اندر اسی طرح سے برسراقتدار آئے اور پھر سے ان کے مفادات کے لیئے خطرہ پیدا ہو- کیونکہ اگر طالبان پھر اسی طرح سے کابل پر قابض ہوتے ہیں تو پھر امریکہ کو اپنے عوام کو جواب بھی دینا ھوگا اور حساب بھی- اس لیئے امریکہ کو فکر ہے تاکہ دوبارہ اس طرح کے صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑیں جس طرح 9/11 کو پیش آئے تھے-

لیکن جس طرح وزیراعظم نے تاثر دیا کہ امریکہ نئ جنگ شروع کرنے جارہا ہے یا نیا تنازعہ کھڑا کرنا جاہتا ہے تو ایسے بلکل نہیں ہے, اس کو جنگ نہیں بلکہ امن بحالی کی کوشش کہا جاتا ہے-

یہ بات بھی سب جانتے ہیں کہ پاکستان کو قطعا” ایسا امن منظور نہیں کہ جس میں اس کے روایتی کردار اور اہمیت کو نقصان پہنچے-

پاکستان کو یہ بھی ڈر ہے کہ کہی اس کی جگہ بھارت کو نہ بٹھایا جائے- کیونکہ ایک کمزور معاشی اور نیوکلیئر ملک کھبی نہیں چاہے گا کہ کابل میں اس کی مخالف حکومت بنے یا اس کا دشمن برسراقتدار آئے- کیونکہ طالبان نے بھارت کو بھی اچھے تعلقات رکھنے کا اشارہ دیا ہے-

اگر چہ وزیر اعظم نے غیر جانبدار رہنے کا تاثر دیا ہے لیکن اگر پاکستان افغانستان میں بھارت کو کردار ادا کرنے کی مخالفت کرتا ہے تو پھر یقینا” امریکہ کے کئ مطالبات کو بھی ماننا پڑیں گا- ملک کا سیاسی سربراہ اور اس کی کابینہ بے شک جو بھی بیان دیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ افواج اور سکیورٹی اداروں کی اپنا لائحہ عمل اور اپنی خارجہ پالیسی ہوتی ہے-

اگر افغانستان میں موجودہ حکومت یا امریکہ حالات کو قابو کرتی ہے اور افغانستان میں استحکام آتا ہے تو یقینا” مستحکم افغانستان میں پھر امریکہ اور افغانستان بھارت کو کردار دیں گا جو کہ پاکستان کسی بھی صورت ماننے کو تیار نہیں-

افغانستان کا استحکام پاکستان کے فوج اور سکیورٹی اداروں کے اہمیت اور مفادات کے خلاف ہے- پاکستان کے سیاسی رہنماء, وزیر اعظم یا جو بھی منتخب حکومت بے شک مخلص ہو لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ فوجی اسٹبلشمنٹ اپنی اہمیت جتانے اور یاد دلانے سے کھبی بھی باز نہیں رہ سکتا-

جس کا مطلب ہے کہ جس طرح سی آئی اے کا نمائیندہ وزیراعظم سے ملے بغیر آرمی چیف سے مل کر چلا گیا تھا, بلکہ اسی طرز پر مستقبل قریب میں بھارت کو کردار نہ دینے کے خاطر فوجی اسٹبلشمنٹ خود امریکہ سے کردار ادا کرنے کی درخواست کرتی نظر آئے گی- چاہے سیاسی حکومت یا وزیراعظم کا جو بھی فیصلہ ہو-

مفادات اور ترجیحات کی تبدیلی ہو امریکہ کی ان سب چیزوں پر گہری نظر ہے اور اسی کے حساب سے وہ اتحادیوں سے بھی پیش آئے گا- اگر پاکستان اپنی زد پر اڑہ رہا تو پھر یقینا” امریکہ بھی پاکستان سے متعلق اپنی سیاسی, معاشی اور فوجی پالیسیز نئے سرے سے مرتب کریں گی-