محمد صالح مسعود

حضور والا! ہم بھی عدلیہ بحالی تحریک کے بڑے حامی تھے۔ ججز کے لیئے  “مور پاورز” کے متمنی تھے۔ افتخار محمد چوہدری کی بحالی سے لے کر عنایت اللہ بھٹو کے فیصلے پرعمل درآمد نہ ہونے پر ہر وقت ہم نے عدلیہ کا ساتھ دیا تھا۔ ہم نے اس دوران اپنے اچھے اچھے دوست کھوئے۔ محبتوں کو نفرتوں میں بدلتے دیکھا لیکن افسوس وہ اتنظار تھا جس کا یہ  وہ سحر تو نہیں۔ یہ وہ سحر تو نہیں جس کی خاطر تاریک راتوں کے تازیانے برداشت کیئے۔ عدلیہ ایجنٹ کے الزام سہے۔  یہ منہ اور مسور کی دال جیسی جگتیں برداشت کیں۔

حضور والا! کل جب لوئر جوڈیشری کا ایک مجسٹریٹ اٹھ کر سوموٹو کی بے رحم تلوار سے لوگوں کی عزتِ نفس کا قتل عام کرتا ہے۔ جب ذاتی پروٹوکول کے لیئے عوام کی زندگی اجیرن کرتا ہے۔ جب انا کے سرکش گھوڑے پر سوار ہوکر عوام کو نعلوں تلے روندتا ہے۔ جب خود ہی  مدعی، خود ہی  وکیل، خود ہی  منصف، خود ہی ایڈمنسٹریٹر بن کر لا محدود اختیارات کا ناجائز استعمال کرتا ہے۔ تو مجھے عدلیہ سے بھی ڈکٹیٹرشپ کی بو آنے لگتی ہے۔ خود سے گھن آنے لگتی ہے کہ ان چند لڑکوں کو شہنشاہ بنانے کے لیئے ہم نے یہ سب کچھ برداشت کیا تھا؟ مجھے رونا آیا  واٹر بورڈ کے اس ملازم پر جو کہتا تھا  سر جو کام ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں وہ کرنے کے لیئے مجبور کیئے جاتے ہیں۔ اگر یہ جواب داخل کرائیں کہ یہ کام ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں تو کورٹ روم میں ہتھکڑیاں لگا کر لاک اپ کردیا جاتا ہے۔ ہم بھی انسان ہیں ہم بھی پاکستانی ہیں، پھر یہ غلاموں اور غیروں والا سلوک کیوں؟ آکاش کی کتنی ہی بلندی کیوں نہ ہو لیکن کلیم کی معراج وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں آکاش کی انتہا ہوتی ہے۔

حضور والا!  میرے سیاسی مرشد جاوید ہاشمی ہیں۔ جو فطرتاً حریت پسند  ہیں اور باغی مشہور ہیں۔ مرشد نے جناح ٹرمینل پر جناب عمران خان کو کہا کہ چیئرمین صاحب میں باغی ہوں اس لیئے جس دن آپ کو بھی غیر آئینی قدم اٹھاتے دیکھا تو سب سے پہلے میں ہی آپ کے خلاف کھڑا ہوں گا۔

حضور والا!  یہ  مت سمجھیں کہ یہ بچے مطلق العنان ہیں۔ جو عوام مشرفی مارشل لاء (ایمرجنسی) میں ڈنڈے کھاکر بھی عدلیہ کے لیئے تحریک چلا سکتی  ہے وہ عوام عدلیہ کی ڈکٹیٹر شپ کے خلاف بھی اٹھ سکتی ہے۔ کسی کے  زرخرید نہیں، ہم چلتے پھرتے روبوٹس نہیں، ہم آئین کے پاسبان ہیں۔ 3 نومبر کو آئین کی بحالی کے لیئے نکل سکتے ہیں تو کل آئین پر عمل درآمد کے لیئے بھی یہ تحریک چلانے کا جگر رکھتے ہیں۔

حضور والا! عوام کی قربانیوں کی قدر کریں، پولیس کسٹڈی کے بل بوتے پر عوام کو کب تک خوفزدہ رکھیں گے؟ اگر عوام پر راج کرنے کا شوق ہے تو اپنے حلف کی پاسداری کریں، آئین سے وفاداری کریں، بر وقت اور سستا  انصاف فراہم کرکے سائلین کے دلوں کو جیتیں.۔ جناب دلوں کو جیتنا سیکھیں! مسخر کرنے کا شوق اچھا نہیں۔ جب انا کا عفریت انگڑائی لے تو اتنا یاد رکھنا کہ سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ دشمن پر قابو پاکراس کے سینے پر سوار ہیں۔ عین اس وقت وہ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کی شان میں گستاخی کرتا ہے، آپ اسی  وقت اس سے دور ہوجاتے ہیں کہ اِس وقت،  اب میرا عمل اپنی ذات کے لیئے ہوگا۔ شاید یہی سوچ کر آپ بھی انا اور ہٹ دھرمی سے ہٹ کر انصاف سے بھرپور فیصلہ کرسکیں۔

Previous articleلالی گُل کی کہانی
Next articleمیں لڑ نہیں سکا، پر چیختا رہا