عفاف اظہر

ہم وقت کے تیز بہاؤ کے ساتھ بہنے کی بجائے ہمیشہ اسکے آگے بند باندھ کر یوں کھڑے ہو جاتے ہیں کہ گویا ہماری بے جا کی مخالفت سے وقت ٹہر جائے گا، پانی کا یہ تیز بہاؤ ہمارے خوف سے اپنا رخ بدل لے گا یا پھر یہ دنیا ہماری متعصبانہ سوچ و تنگ نظری اپنا لے گی مگر حقیقت اسکے برعکس ہے اور وہ یہ ہے کہ وقت کا سمندر صرف انہی کو اپنے ساتھ بہاتا ہے جو تیراکی کے ہنر سے واقف ہوں۔ سفاک تھپیڑوں کو سہنے اور ان سے لڑنے کی ہمت رکھتے ہوں  اور ہر اس بد بخت کو جو سمندر میں رہنا تو چاہے مگر تیراکی سے بیر رکھے تو وقت کی منہ زور لہریں پھر ایسی نعشوں کو اپنے سمندر سے اچھال کر باہر پھینکنے میں زیادہ دیر نہیں لگاتیں۔  

بند کبھی تیز بہاؤ کا راستہ نہیں بدلا کرتے ہاں بلکہ الٹا اس کی شدت میں کئی گنا اضافہ ضرور کر ڈالتے ہیں۔ مغرب کے ساتھ بھی ہمیشہ سے ہمارا کچھ ایسا ہی ایک روایتی ساس بہو کا رشتہ چلا رہا ہے۔ ان کی پکائی ہوئی روٹیاں خیرات میں جھولیاں پھیلا کر مانگتے اور مزے لے کر کھا تے ہیں مگر ساتھ میں ان پر ہر وقت کڑی تنقید کرنا اپنا حق بھی سمجھتے ہیں۔  ان کی ہر اچھائی نظر انداز کرتے اور برائی کی تلاش میں رہتے ہیں۔ برائی نہ ملے تو اچھائی بھی برائی میں بدل ڈالتے ہیں۔ گویا اس فرشتوں کے سماج کا اپنا دامن تو دودھ سے دھلا ہے۔ تمام تر مغربی تہواروں سے تو گویا ہم کسی سوتن کا بیر رکھتے ہیں۔ اب ویلنٹائن ڈے کو لیکر دیکھ لیجئے کہ اس لفظ محبت سے اتنا بیر کہ ہر برس اسکا نت نیا تماشا بنا لیتے ہیں۔ کبھی اس دن یوم حیا منانے کا فیصلہ تو کبھی یوم غیرت اور تان ٹوٹی آ   کر یوم بہن پر۔ یوں تو ہر سماج یا قوم ہمیشہ اسی چیز کا اہتمام کرتی ہے جس کی اس کے پاس کمی ہوتی ہے۔ یعنی مغرب کے پاس اگر آج محبت نہیں تو مشرق کے پاس حیا نہیں ہے تو مغرب کو پیار کی ضرورت ہے تو ہمیں غیرت کی۔ مغرب نے عشق کی ضرورت کو جانا تو مشرق نے اس کی تردید میں عشق پر بہن نام کا آرا ہی چلا ڈالا۔ ورنہ اگر مقابلہ مغرب سے ہی کرنا مقصود تھا تو فقط تہوار ہی کیوں ؟ مغرب چاند پر گیا تھا تو آپ اسی ضد میں مریخ پر کیوں نہیں چلے گئے ؟ مغرب کی ایجادات و تخلیقات کے سامنے آکر آخر مقابلے کی یہی حس کیوں منجمد ہو جاتی ہے ؟  مغرب تو اپنے سبھی شہریوں کے انسانی حقوق بطور خاص اقلیتوں کے برابری کے حقوق پر بھی سختی سے کاربند ہے۔ تو یہاں اس میدان میں اسی اسلامی غیرت کا یہ دھواں دھار مظاھرہ کہاں جا سوتا ہے؟ مغرب نے اپنے لوگوں کو قانون کی عزت کرنا سیکھایا ہے پر اس ضمن میں آپکا یہی جوش و جزبہ کیوں حالت نزع میں ہے ؟

ہمارے ہاں سال بھر بغض و نفرت کے یہ تہوار ایک عبادت سمجھ کر منائے جاتے ہیں۔ کبھی یوم قادری کے نام پر حیوانیت کی تال پر ٹھمکے لگائے جاتے ہیں، تو کبھی توہین رسالت کے نام پر اقلیتوں کے بکرے سولی پر لٹکائے جاتے ہیں، خواتین کی تو بات ہی چھوڑیں وہ تو ہمارے گھر ہوں یا چوراہے  مساجد ہوں یا پھر انصاف کے کٹہرے، ذلت ہی ذلت انکا مقدر ہے۔ ہمارے نزدیک تو سال بھر ان کو جوتے مارنا خالصتاً اسلامی اور ان سے ایک دن محبت کا اظہار کردینا عین غیرشرعی ہے۔ اور تو اور یہاں اکثر یہ جواز دے کر بھی ہنسی اڑا ئی جاتی ہے کہ محبت کا دن ہے تو صرف ایک ہی دن کیوں منایا جاتا ہے یعنی کہ فقط 14  فروری کو ہی کیوں؟ کسی بھی چیز یا جذبے کا دن منانے سے وہ چیز وہ جذبہ صرف ایک دن کے لئے مخصوص نہیں ہو جاتا بلکہ دن منانے کا مقصد اس چیز یا جذبے کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہوتا ہے۔ اگر کینسر سوسائٹی والے سال میں ایک دن کینسر کا مناتے ہیں تواسکا مطلب یہ نہیں کہ کینسر سال میں باقی کسی اور دن نہیں ہو سکتا ؟ بلکہ اسکا مقصد آپ کی توجہ کینسر کی اہمیت پر مرکوز کرنا ہے۔ اگر انسانی حقوق کی تنظیمیں سال میں ایک دن انسانیت کے نام کرتی ہیں تو باقی دن انسانیت کا پاس کرنا ہم پر حرام نہیں ہو جاتا ہے اگر ایک دن امن کے نام ہوتا ہے تو باقی دن بدامنی سے رہنا جائز نہیں ہوسکتا کیوں کہ اسکا مقصد آپکی نظر میں اور معاشرے میں قانون کی اہمیت اجاگر کرنا ہے۔  

اس طرح اگر ایک دن لیبر ڈے منایا جاتا ہے تو کیا باقی سال مزدوروں پر ظلم کرنا جائز ہو گا ؟ نہیں کیوں کہ مزدوروں کے حقوق کی پاسبانی کا احساس دلانا ہی اس دن کا اصل مقصد ہے۔  یہاں ایک دن فیملی ڈے بھی منایا جاتا ہے تو کیا باقی کے دن فیملی کے ساتھ نہیں گزارے جا سکتے ؟ کہ خاندانی زندگی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ سال بھر میں صرف ایک ہی دن خاندان کے ساتھ گزار سکتے ہیں۔  بلکل اسی طرح ریممبرنس ڈے دوسری جنگ عظیم کے شہدا کی یاد میں منایا جانے والا دن بھی ہے مگر کیا باقی سال بھر انکو یاد کرنا جرم اور انکی قربانی کا احساس کرنا حرام ہے ؟ یقیناً نہیں کیوں کہ یہاں بھی مقصد اپنی تاریخ کو یاد رکھنا ہی ہے۔ مذہبی تہوار حتٰی کہ عیدمیلاد النبی بھی تو ایک دن ہی ہوتا ہے وہاں یہ اعتراض کیوں نہیں ؟  

اب جہاں تک محبت کے نام پر منائے جانے والے اس دن کی بات ہے تو محبت جیسے عظیم جذبے کو مخصوص کر دینا فقط ایک سطحی سوچ ہے۔ محبت کا لفظ اپنے اندر بےپناہ وسعت رکھتا ہے۔ اتنی گہرائی ہے اس چھوٹے سے لفظ میں کہ انسان کی پہلی سانس سے لے کر آخری سانس تک اگر کوئی حقیقی جذبہ ہے تو فقط اس محبت کا ہے۔ چاہے کسی بھی رنگ میں ہو یا کسی بھی رشتے اور تعلق میں۔ خالق اور مخلوق کے درمیان اگر کچھ ہے تو فقط محبت اور انسان اور انسان کے درمیان بھی اگر کچھ ہے تو یہی محبت ہے  حتی کہ اب تو انسان اور بے زبان جانوروں کے درمیان بھی اسی مختصر سے لفظ نے ایک خوبصورت سا پل تعمیر کر کے یہ ثابت کر ڈالا کہ محبت ہی فطرت ہے اور زندگی کی اصل حقیقت بھی ہے۔  

اب یہ ہر انسان کی اپنی اپنی سوچ ہے اور اپنا اپنا انداز کہ چاہے تو وہ اس لفظ کو محدود کرکے اس میں انفرادیت اپنا لے اور اگر چاہے تو اس کی وسعت میں میں اتنا ڈوبے کہ اجتماعیت سمو دے، چاہے تو اسے صرف اپنی ذات تک ہی مخصوص رکھے اور اگر چاہے تو اسے سماجی سطح پر لے آئے۔ اگر وہ چاہے تو اپنی ذات کو فقط ایک ہی انسان میں سمو دے اور اگر چاہے تو کل کائنات ہی اپنی ذات میں گھسیٹ لائے۔ چاہے تو وہ اس دن کو فقط اپنے محبوب کے نام کر دے اور اگر چاہے تو زندگی کو ہی محبوب بنا کر اس سے جڑے ہر انسانی رشتے پر پیار ہی پیار لٹائے لگے۔ جیسا کہ

“ہر اک نظر اپنی اپنی روشنی تک جا سکی

ہر کسی نے اپنے اپنے ظرف تک پایا مجھے”