عابدحسین

دو اگست کو پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کشمیر کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ بھارت نے کشمیر میں مظالم کے پہاڑ توڑ دیئے ہیں۔ ہم کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں ہمیشہ ان کا ساتھ دیں گے۔ کشمیر میں بھارتی مظالم کو مد نظر رکھتے ہوئے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع کشمیر ہائی وے کا نام تبدیل کرکے سری نگر ہائی وے رکھا جائے گا۔ اس کا باقاعدہ افتتاح مورخہ 5 اگست کے روز کیا جائے گا۔ وزیر خارجہ صاحب کے مطابق کشمیر ہائی وے کا نام سری نگر ہائی وے رکھنے سے دنیا سمیت کشمیریوں کو یہ پیغام جائے گا کہ وہ اپنے جدوجہد میں اکیلے نہیں ہیں۔ قریشی صاحب کا کہنا تھا کہ 5 اگست کو اب سے یوم استحصال کے طور پر منایا جائے گا۔ اس روز کشمیریوں کے ساتھ اظہاریکجہتی کے طور پر ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی جائے گی کیونکہ پچھلے برس 5 اگست ہی کے دن ہندوستان نے کشمیر کی خصوصی حثیت کو ختم کرکے باقاعدہ طور پر ہندوستان کا حصہ بنانے کی قانون سازی کی تھی۔ اگلے روز یعنی 3 اگست کو حکمران جماعت  تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر برائے امور کشمیر علی محمد خان صاحب نے بیان دیا کہ ہماری منزل سری نگر ہے اور انشاء اللہ بہت جلد پاکستانی پرچم سری نگر میں لہرائیں گے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے یوم استحصال یعنی 5 اگست کی مناسبت سے کشمیریوں سے اظہاری یکجہتی کے طور پر ایک نغمہ ریلیز کرنے کا اعلان کیا گیا، جو کہ اب ریلیز کردیا گیا ہے۔ یہ نغمہ آئی ایس پی آر کی پروڈکشن کی چھتری تلے  بنایا اور گایا گیا ہے۔ مذکورہ نغمے کے بول کچھ یوں ہیں کہ   “جا چھوڑ دے میری وادی کو”، اسے شفقت امانت علی خان نے گایا ہے۔ خیر شاہ محمود قریشی صاحب کے سری نگر ہائی وے اور ایک منٹ کی خاموشی، علی محمد خان کی سری نگر میں پاکستانی پرچم کو لہرانے اور آئی ایس پی آر کے  “جا چھوڑ دے میری وادی کو ” کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم وزیر خارجہ شاہ محمود، وفاقی وزیر امور کشمیر علی محمد خان، فوج اور آئی ایس پی آر پر شدید تنقید کی گئی۔ ٹوئیٹر پر باقاعدہ طور پر وزیر خارجہ اور آئی ایس پی آر کے حق اور مخالفت میں ٹویٹس اور ٹرینڈ چل رہے ہیں۔ ٹوئیٹر اور فیس بک صارفین نے حکومت اور فوج کو براہ راست تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایک صارف نے لکھا تھا کہ  ” 1403 ارب روپے کا نغمہ!”۔ ایک ٹوئیٹر صارف نے لکھا تھا  ” ایک منٹ کی خاموشی کے بجائے اگر دو منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے تو کشمیر کے ساتھ فلسطین بھی آزاد ہوسکتا ہے”، اسی طرح فیس بک پر بھی طرح طرح کی پوسٹس دیکھنے کو ملیں۔ مثال کے طور پر ایک فیس بک صارف نے لکھا تھا کہ   “ہر سال نیا گانا ریلیز کرنے کے بجائے پورا البم ریلیز کریں تو کشمیر جلدی فتح ہوجائے گا”

ایک  فیس بک صارف نے لکھا ہے کہ “راحت فتح علی خان کو آرمی چیف بنایا جائے تو کشمیر بہت جلد فتح ہوسکتا ہے” کشمیرمیر ہائی وے کا نام سری نگر ہائی وے رکھنے کے بعد اس پر بھی سوشل میڈیا پر بہت دلچسپ قسم کی آراء نظر سے گزری۔ ایک صارف کے مطابق  “اگر اسلام آباد کا نام سری نگر رکھا جائے تو جنگ کرنے کی بھی ضرورت پیش نہیں آئے گی”۔ ایک دوست کا خیال ہے کہ ” اسلام آباد کا نام دہلی رکھا جائے تو تخت دہلی ہمارے قدموں میں ہوگا” ایک فیس بک صارف نے تو یہاں تک مشورہ دیا کہ “ملک کا نام ہندوستان رکھا جائے تو غزوہ ہند کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی”۔ ایک صارف کا سوال تھا کہ “اگر کشمیر کو ہرسال ملی نغمے ہی سے فتح کرنا ہے تو پھر تو غزوہ ہند کا تصور ہی ختم ہوجاتا ہے”۔  اکثریت پاکستانی شہریوں کی آواز، خواہشات، سوالات یا شکوے تھے۔ جس کا انہوں نے مختلف انداز میں اظہار کیا۔ عوامی رائے یہ ہے کہ اگر فوج نے ہر سال کشمیر کے لیئے نیا گانا ہی ریلیز کرنا ہے تو پھر اتنے بجٹ، غزوہ ہند کی گردان اور بھارتی دشمنی پالنے کی کیا ضرورت ہے۔ جبکہ حکومت اور متعلقہ وزارتوں اور نمائندوں سے یہ شکوہ کررہے ہیں کہ بجائے معیاری سفارتکاری، مستحکم خارجہ پالیسی اور بین الاقوام میں اپنے بیانیے کے دفاع کے بجائے ہم نے صرف مخصوص دن ہی منانے ہیں، سڑکوں کے نام ہی تبدیل کرنے ہیں تو معاف کیجیے گا آپ کی اس حکمت عملی سے نہ تو کشمیر آزاد ہوگا اور نہ ہی ہم فتح یاب ہوسکتے ہیں۔ بلکہ بھارت نے جس طرح کشمیر کی آئینی حثیت کو تبدیل کرلیا اور ہمیں عالمی سطح پر منہ کی کھانی پڑی اسی طرح کشمیریوں پر مظالم ہوتے رہیں گے لیکن ہم صرف مخصوص دنوں کو منانے، نغمے ریلیز کرنے اور زبانی جمع خرچ ہی کرتے رہیں گے کیونکہ دشمن کے جارحانہ اور غاصبانہ تیور کے مقابلے میں مفاہمتی اور گانے بجانے کی پالیسی کا کوئی مقابلہ نہیں۔

Previous articleاسمبلیاں اور ہمارے نمائندے
Next articleاستحصال اور یومِ استحصال