وقاص احمد

مضمون کے عنوان سے کوئی غلط فہمی نا ہوجائے اس لیے کہہ دوں کہ لفظ پراپرٹی ڈیلر میں نے نمائندگی کی غرض سے استعمال کیا ہے اور اس طبقے میں ہر طرح کا بروکر، مڈل مین، آڑھتی، کار ڈیلر، رشتے کروانے والی آنٹی اور کمیشن ایجنٹ شامل ہیں۔ پراپرٹی ڈیلروں کا المیہ یہ ہے کہ ان کا رزق ہوائی ہے۔ “مل گیا تو مل گیا، نہ ملا تو رل گیا”. یہ بیچارے صبح سے شام تک “سودوں اور ڈیل” کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ڈیل ہوگئی تو دن کی دیہاڑی بن گئی ورنہ اگلے روز پھر کسی سودے کا انتظار۔ پراپرٹی ڈیلر ذہنیت لگے بندھے کاروبار یا نوکری کو پسند نہیں کرتی، درحقیقت ان کا دماغ کمیشن کھانے سے زیادہ سوچ ہی نہیں سکتا۔ ان کے دماغ میں جواریوں کے طرح ہر وقت ایک ہی خیال رہتا ہے کہ ایک بڑے سودے کا چھکا لگ جائے تو زندگی سیٹ ہوجائے گی۔ میرے ایک پراپرٹی ڈیلر دوست کو میں نے دو مہینے میں مرسیڈیز بینز سے سی ڈی 70 اور پھر موٹر سائیکل سے نسان کار تک کا سفر کرتے دیکھا ہے۔

پراپرٹی ڈیلر کے لائف سٹائل اس کی سماجی حیثیت اور اس کے معاشی حالات کا دارومدار صرف اور صرف ایک چیز پر ہوتا ہے کہ پچھلے ہفتے یا مہینے میں اس کی کتنی ڈیلیں ڈن ہوئی ہیں۔ بڑا چھکا لگ جائے تو ان کے گھر مرگ کے موقع پر بھی فائیو سٹار شادیوں جیسے انتظامات ہوتے ہیں اور سودا نا ملے تو بچوں کی شادی بھی گھر گھر سے ادھار، امداد، قرضے مانگ کر ہوتی ہے۔ ہمارا ملک بھی پراپرٹی ڈیلروں کے حوالے ہے۔ ان کی سوچ کا محور بھی ڈیلیں ڈن کروانے اور اس کا کمیشن کھانے تک محدود ہے۔ کبھی آپ ان کو امریکہ چائنہ کے درمیان مڈل مین بنتا دیکھیں گے، کبھی آپ ان کو کسی تیسرے چوتھے غیر متعلق ملک میں امن مشن کی دلالی کھاتے دیکھیں گے، کبھی یہ روس کے خلاف امریکہ و طالبان کی ڈیل کرواتے نظر آئیں گے، کبھی یہ امریکہ اور ایران کا سودے کروانے کی خواہش کا اظہار کرتے نظر آئیں گے، اور کبھی یہ ایران و سعودیہ کے مابین زبردستی کے ثالث بنتے دکھائی دیں گے۔ ان کے اپنے ادوار میں ایسے کچھ سودے فائنل ہوجاتے ہیں تو دلالی کے پیسوں سے یہ ملک میں “ترقی و خوشحالی” کے راگ آلاپ آلاپ کر گلے پھاڑ لیتے ہیں۔

کچھ سودے فائنل نہیں ہوتے مگر یہ رشتے کروانے والی آنٹی کی طرح پھیرے لگا لگا کر دونوں پارٹیوں سے سو پچاس روپے یا چائے پانی کا خرچہ وصول کرتے رہتے ہیں۔ اب کی بار 2018 میں جب پراپرٹی ڈیلر اقتدار میں آئے تو دال روٹی کے انتظام کے لیےان کی نظر امریکہ کے افغانستان سے انخلاء کے لیے طالبان امریکہ سودے کی دلالی تھی۔ یہ بار بار کا آزمودہ سودا تھا اور اس میں دلالی کمیشن کی مد میں بہت کچھ ملنے کی امید تھی۔ اس دلالی کے چکر میں ملک کا چلتا کاروبار برباد کیا اور بڑے کمیشن کے خواب سجائے بیٹھے ہیں۔ خدا جانے کیا ماجرا ہے، سودا ڈن ہونے کا نام نہیں لے رہا اور گھر میں فاقوں کی نوبت آگئی ہے۔ اللہ کرے کہ سودا جلد سے جلد ڈن ہو اور ہمیشہ کی طرح پراپرٹی ڈیلر اپنا کمیشن وصول کرکے ہماری جان چھوڑیں۔

سبق: سیانے لوگ تو اپنی بچیوں کا رشتہ کرتے وقت بھی ذہن میں رکھتے ہیں کہ چھوٹے موٹے چلتت کاروبار یا مناسب نوکری والا لڑکا مل جائے بجز اس کے کہ اپنی نازوں پلی بیٹی کسی کمیشن ایجنٹ کے ساتھ بیاہنی پڑے۔ ہم نے خیر سے پورا ملک ہی پراپرٹی ڈیلروں اور کمیشن ایجنٹوں کے حوالے کر رکھا ہے۔جب تک سودے کا کمیشن نہیں ملے گا، منگو مانگتا رہے گا۔ یہی ہمارا نصیب ہے۔

Previous articleراجہ جی اب سنگھاسن سے اترو بھی ناں!
Next articleسچ قبول کرنے کی جسارت