عابدحسین

جمعے کی نماز میرے آبائی گاؤں واقع ضلع مالاکنڈ کے ایک مسجد میں پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ میں جب بھی گاؤں میں ہوتا ہوں تو جمعہ اسی مسجد میں پڑھنے جاتا ہوں۔ مسجد کے نوجوان خطیب حافظ مولانا فاروق میرے دوست بھی ہیں اس لیئے اکثر نماز کے بعد ان کے ساتھ نشت بھی ہوتی ہے، لیکن کل خطیب صاحب کے بیان نے ندامت کے ساتھ ساتھ بے بسی کا احساس بھی دلایا کہ ہم بحیثیت قوم کتنے مظلوم اور بے بس ہیں۔ خطیب صاحب صاحب نے  نبی مکرم آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کے ولادت اور سیرت پر گفتگو کی اور پشاور مدرسے میں ہونے والے بم دھماکے اور معصوم بچوں کے شہادت بارے میں بھی بات کی۔

چند روز قبل پشاور کے علاقے دیرکالونی میں کوہاٹ روڈ پر واقع مسجد سے متصل مدرسے کے مرکزی ہال میں درسِ قرآن کے دوران دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 8 افراد شہید جب کہ 112 سے زائد افراد زخمی ہو گئے تھے۔ پولیس کے مطابق دھماکے سے پہلے ایک مشکوک شخص ہال میں طلبہ کے درمیان ایک بیگ رکھ کرگیا تھا۔ دھماکے کی شدت سے فرش میں گڑھا پڑ گیا۔ ایک حصے میں آگ لگ گئی اور منبر کی دیوار کا کچھ حصہ گر گیا۔ درس دینے والے مولانا رحیم اللہ حقانی معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔ بم ڈسپوزل یونٹ کے مطابق دھماکا ٹائم ڈیوائس کی مدد سے کیا گیا جس میں 5 کلو بارودی مواد اور چھرے استعمال کیے گئے تھے۔ مدرسہ دھماکے کے بارے میں  بہت سے صحافی حضرات، ماہرین اور لکھاریوں نے اپنے اپنے انداز میں بہت کچھ لکھا بھی ہے اور اس واقعے پر ابھی بھی بحث مباحثہ جاری ہے۔ بے گناہ معصوم بچوں اور طالب علموں کے قبروں کی مٹی ابھی خشک نہیں ہوئی۔ اس سانحے کا غم ابھی تازہ ہے۔ جن لوگوں نے اس سانحے میں اپنے پیاروں کو کھویا ہے ان میں غم کے ساتھ ساتھ حکومت سے گلہ اور غصہ بھی پایا جاتا ہے کیوں کہ حکومت اور ریاست عوام کی حفاظت میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔

بات ہورہی تھی خطیب صاحب کے  پشاور مدرسہ  دھماکے کے  بیان کی۔ بتاتا چلوں کہ مذکورہ خطیب مسجد خود وفاق المدارس پاکستان سے رجسٹرڈ ایک اسلامی جامعہ کے طالب علم ہیں۔ کسی جہادی تنظیم کے ساتھ کوئی وابستگی نہیں ہے۔ ایک معتدل قسم کے انسان ہیں۔ عصری علوم میں بھی تعلیم یافتہ ہیں اور ساتھ میں قرآن و تفسیر کے طالب علم بھی ہیں۔ خطیب صاحب کا کہنا تھا کہ پشاور مدرسہ دھماکے کی جتنی مذمت بھی کی جائے وہ کم ہے۔ بے گناہ اور معصوم طلباء کو قتل کرنا نہ تو کوئی جہاد ہے اور نہ ہی کوئی مسلمان ایسا کرسکتا ہے۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں یا ان جیسے واقعات کو سپورٹ کرتے ہیں،  نہ تو وہ مسلمان کہنے کے لائق ہیں اور نہ ہی وہ کوئی جہاد کررہے ہیں بلکہ ظلم کے مرتکب ٹہرتے ہیں۔ خطیب صاحب کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر اسلامی جامعہ، دارالعلوم یا مدرسہ حکومت کے ساتھ رجسٹرڈ ہوتا ہے اور وفاق المدارس پاکستان کے ساتھ بھی الحاق شدہ ہوتا ہے۔ مد رسے کے منتظم، اساتذہ اور طلباء کا باقاعدہ طور پر بائیوڈیٹا لیاجاتا ہے، مقامی پولیس اور سول انتظامیہ کے ساتھ بھی رجسٹریشن کروانی پڑتی ہے۔ مدرسے میں پڑھنے والے مقامی اور غیر ملکی طلباء کا ریکارڈ بھی رکھا جاتا ہے اور مقامی انتظامیہ اور متعلقہ تھانے کو بھی سارا ریکارڈ فراہم کیا جاتا ہے۔ جہادی تنظیم، جرائم پیشہ یا کسی مشتبہ فرد کو خواہ وہ استاد ہو یا طالب علم کو مدرسے میں نہیں رکھا جاسکتا۔

خطیب صاحب یہی گلہ کررہے تھے کہ اتنا کچھ کرنے اور حکومت کے احکامات کے مطابق چلنے کے باوجود کیا یہ حکومت اور ریاست کی ذمہ داری نہیں بنتی کہ مدارس کو تحفظ فراہم کریں۔ اسلامی جامعات کے لیئے حفاظتی اقدامات کیئے جائیں۔ خطیب صاحب کا کہنا تھا کہ پہلے تو دھماکہ ہوا جس میں معصوم اور بے گناہ جانوں کا نقصان ہوا، اور بعد میں پولیس چیف نے ایسا بیان دیا کہ جو زخموں پر نمک پاشی کے مترادف تھا کہ ایسے چھوٹے موٹے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ وہ اس بات پر غصہ تھے کہ پہلے تو حکومت خود عوام کی جان و مال کے حفاظت میں ناکام ثابت ہوتی ہے، دوسرا جب اس طرح کا کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے تو حکومتی نمائندے اور افسران اس کو چھوٹا واقعہ گردانتے ہیں۔ یہ سب کہتے ہوئے خطیب صاحب کی آنکھیں نم تھیں اور چہرے پر عجیب سے کرب اور بے بسی کے آثار تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب کسی آمیر آدمی، سیاستدان، بڑے افسر، گلوکار یا فنکار کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو ان کو سکیورٹی فراہم کی جاتی ہے لیکن عام آدمی  یا اسکول کالج و مدرسے کے طلباء کی جان کی کوئی قیمت نہیں۔ خطیب صاحب کا فرمانا تھا کہ ڈانس کلب، شراب خانے یا سینیما میں دھماکے نہیں ہوتے بلکہ مساجد اور مدارس میں دہشت گردی کی جاتی ہے۔ خطیب صاحب بیان کے درمیان جذباتی ہوگئے تو رونے لگے اور آخر میں تمام حاظرین سے کہا کہ ہم بہت بے بس لوگ ہیں، حکومت کو عام آدمی، غریب عوام کی یا مساجد اور مدارس کے حفاظت کی کوئی فکر نہیں اور نہ ہی مساجد اور مدارس میں پڑھنے والوں کی زندگیوں کو اہمیت دی جاتی ہے۔ خطیب صاحب نے جب حاظرین سے کہا کہ آئیں دعا کے لیئے ہاتھ اٹھائیں کہ حکومت اور ریاست کے ہاں تو ہماری کوئی اہمیت نہیں لیکن خدا سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہماری حفاظت فرمائے، وہ مساجد وہ مدارس کی حفاظت کرے، خدا عام آدمی کا حامی و ناصر ہو، ظالم کو نیست و نابود کرے، مسند اقتدار پر بیٹھے ان منافقین کو تباہ کرے کہ جو عوامی اور ملکی خدمت کے بجائے اپنی تجوریاں بھرنے میں مصروف ہے۔ خطیب صاحب نے دعا میں ان لوگوں کی بربادی کی بددعا کی کہ جو اسلام اور جہاد کے نام پر بے گناہ لوگوں کو قتل کرتے ہیں۔

دعا کے بعد خطیب صاحب نے بہت ہی جذباتی انداز میں حکومت اور ریاستی ذمہ داران و سرپرستوں پر تنقید کی کہ اگر کوئی ملک پاکستان کے اندر دہشت گردی میں ملوث ہے تو کیوں نہ اس کے ساتھ تعلقات ختم کریں بلکہ خطیب صاحب نے تو یہ بھی کہا کہ دہشت گردوں کا تعلق جس ملک سے بھی ہو ہم حکومت اور فوج کا ساتھ دیں گے، وہ اعلان جنگ کرے عوام ان کے شانہ بشانہ لڑیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پشاور مدرسہ دھماکے کو بھارت کے سر تھونپنے سے حکومت اور ریاست اپنی ذمہ داری اور جواب دہی سے بری الذمہ نہیں ہوسکتی۔ اگر بھارت ملوث ہے اور آپ اس کو اپنا دشمن بھی کہتے ہیں  تو آپ نے کلبھوشن کو ابھی تک پھانسی کیوں نہیں دی، ابھی نندن کو واپس کیوں بھیجا۔

آخرمیں حافظ مولانا محمد فاروق صاحب نے کہا کہ حکومت کہ زبانی طور پر بھارت کو دشمن کہنے سے کچھ نہیں ہوگا، جب تک کہ حکومت لگائے جانے والے الزامات کے مطابق بھارت کے ساتھ عملی برتاؤ کر کہ نہ  دکھائے۔ خطیب صاحب نے کہا ہم فوج کے ساتھ ہیں اگر وہ دہشت گردوں کا صفایا کرنے میں سنجیدہ ہیں، اگر وہ واقعی ہندوستان کو دشمن مانتے ہیں تو اعلان کریں میں شانہ بشانہ لڑوں گا۔ حافظ صاحب نے کہا کہ اگر واقعی فوج ہماری محافظ ہے تو ہم ان کا ساتھ دیں گے۔

یہ وہ باتیں تھیں جو مولانا فاروق صاحب نے اپنے بیان میں کہیں اور شکوہ بھی کیا کہ ملک میں عام آدمی کی زندگی ہو یا مساجد و مدارس اور طلباء کا تحفظ، حکومتی سطح پر کسی قسم کی سنجیدگی دکھائی نہیں دیتی۔ جمعہ پڑھنے کے بعد جب میں مسجد سے نکل کر گھر جارہا تھا تو راستے میں سڑک پر مقامی تھانے کی پولیس موبائل گاڑی سامنے سے آتی ہوئی مسجد کی طرف جارہی تھی، قوی امکان یہی تھا کہ پولیس/لیویز اہکاران خطیب صاحب کو تنبیہہ کرنے آئے ہونگے کہ حکومت اور ریاستی اداروں پر تنقید کرنے سے گریز کریں۔ خیر یہ تو معلوم کرنے اور قاری صاحب سے دوبارہ ملنے پر پتا چلے گا۔ یقین جانیے خطیب صاحب کی تقریر اگر میرے علاوہ کوئی بھی سن لیتا تو  میری ہی طرح اس کو بھی  اپنی بے بسی کا احساس ہوتا کہ سچ میں ہم کتنے بے بس اور دوسروں کے رحم کرم پر ہیں۔ حکومت اور ریاست سے ہم یہ توقع  نہیں کرسکتے کہ ہم یہ سوچیں اور مطمئین رہیں کہ ہاں ہمارے حفاظت پر بھی کوئی مامور ہے۔ ہمیں کچھ ہوجائے تو ہمارا بھی کوئی پوچھنے والا، بدلہ لینے والا یا انصاف کے تقاضے پورے کرنے والا ہمارے پیچھے ہوگا۔ حکومت اور ریاستی ادارے اسی روایتی بیانات کی حد تک محدود ہیں کہ فلاں ہمسایہ ملک کا ہاتھ تھا، دہشت گردوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا، دشمن سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا وغیرہ وغیرہ، مگرآج مملکت خداد کے ہر فرد کو معلوم ہے کہ یہاں پر ایک واقعے ،ایک دھماکے، ایک قتل عام سے دوسرے قتل عام تک کے وقفے کو ہی امن کہا جاتا ہے۔ اللّٰہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو، آمین۔

Previous articleعید میلاد النبی مبارک ہو! لیکن!
Next articleسیکیورٹی انچارج