عابدحسین

موروثی سیاست اور پی ڈی ایم کی نیت تو اسی دن واضح ہوگئی تھی جب مولانا نے محسن داوڑ کی شرکت پر سوال اٹھایا تھا۔ مولانا ہو، بلاول ہو یا مریم بی بی، اپنا الیکشن کمپین چلانے کے ساتھ ساتھ ڈیل لینے، سینٹ الیکشنز میں کچھ حاصل کرنے کے چکر میں ہیں۔ عوام، ووٹر یا سپورٹر کی کسی کو بھی پرواہ نہیں۔ ہم انتظار میں تھے کے یہ اکھٹے استعفے دے کر مڈ ٹرم الیکشن کے لیئے راہ ہموار کرینگے، حکومت کو گرائیں گے وغیرہ وغیرہ۔

موجودہ حکومت کی معاشی بدحالی اور بدتر معیشت کا حال کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، بے روزگاری، مہنگائی، سفارشی کلچر اور اقرباء پروری عروج پر ہے، بدانتظامی عروج پر ہے، لیکن پانچ سال تو ویسے بھی ان سے چھٹکارا پانا ممکن نہیں، ڈھائی سال رہتے ہیں وہ یہ پورے کریں گے، اور کرنے بھی چاہیئے تاکہ حکمرانی کی خواہش اور موقع دینے کا گلہ بعد میں نہ کریں۔ ویسے بھی پانچ سال پورا کرنے کے بعد انہوں نے یہی کہنا ہے کہ 70 سال کا گند 5 سال میں صاف نہیں ہوسکتا، زرداری چور تھا، نواز شریف کرپٹ تھا، پاکستان کے سارے مسائل کی جڑ پچھلی حکومتیں تھی، کورونا کی وجہ سے ملکی معیشت خراب ہوگئی، یہ  سب تو یہ ضرور بولیں گے، اس میں شک نہیں، لیکن زرداری نواز کو چور کہنا، یا جیل میں رکھنے سے کیا فائدہ، کوئی ثبوت نہیں کوئی ریکوری نہیں، صرف اگلے انتخابات تک گھسیٹنے کی کوشش تاکہ انتخابات میں ناہل ٹہرائے جائیں۔

موجودہ اپوزیشن جماعتوں کو کسی غریب کے روزگار، نوکری، مہنگائی، بنیادی انسانی حقوق، انصاف یا قانون سازی میں کوئی دلچسپی نہیں، دلچسپی ہے تو اقتدار میں، کرسی میں، دوبارہ باری لینے میں، اپنا الیکشن کمپین چلانے میں۔ یہ پی ٹی ایم، محسن داوڑ اور علی وزیر کو اس وقت سپورٹ کرتے ہیں جب ان کے بیانیے کے اثر سے یہ حکومت کو ٹف ٹائم دیتے ہیں ورنہ پی ٹی ایم ممبر پارلیمنٹ بھی ان ہی اپوزیشن کا حصہ ہونے کے باوجود پی پی پی، نون اور خاص طور پرمولانا صاحب ان کو اہمیت نہیں دیتے اور نہ ہی ان کا ساتھ دیتے سب ہیں۔

جیالوں، شیروں، یوتھیوں اور مدرسہ کے طلباء سے یہی کہوں گا کہ ان کے پیچھے رہنے  ”زندہ باد! مردہ باد!“ کہنے سے کچھ نہیں ہونے والا، یہ لوگ میرے یا آپ کے خیرخواہ نہیں ہوسکتے۔ یہ نہ عوام کی خدمت کررہے ہیں اور نہ دین کی۔ عوام کو ہر کوئی اپنے مفادات کے حصول کےلیئے استعمال کررہا ہے۔ موجودہ حکومت میں معاشی زبوں حالی، بے روزگاری، کاروباری بدحالی، کرپشن، اقرباء پروری، جرنیلوں کو نوکریاں دینا، کسی سے پوشیدہ نہیں۔ مزدور طبقہ بہت مشکل زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ اشیاء خوردنوش، گیس، بجلی، پیٹرولیم مصنوعات، ادویات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ گھی کی قیمت بھی بڑھنے والی ہے، تعلیم بے حد مہنگی ہوچکی ہے۔ عوام کو اگر معاشی بدحالی، بے روزگاری، مہنگائی اور سلیکٹڈ لوگوں کو ہرانا ہے تو ڈھائی سال بعد ووٹ کے ذریعے ہرائیں۔

پی ڈی ایم اگر استعفے دے بھی دیتے ہیں تو حکومت کو گھر نہیں بھیجا جاسکتا۔ مان لیں! کہ حکومت چلی بھی جائے تو نگران حکومت بنانے، پھر اس پراسیس کی وجہ سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ، پھر عام انتخابات کی تیاری اور منعقد کرنے پر اربوں روپے کا خرچہ اور ساتھ میں وقت زیاں بھی۔ تو پہنچتے پہنچتے بات سال دیڑھ سال تک پہنچے گی۔ جس سے ملک اور عوام کو فائدے کے بجائے معاشی نقصان ہی ہوگا۔ اب مولانا شیرانی نے فضل الرحمان صاحب کو جھوٹا، اسٹیبلیشمنٹ کا بندہ کہا ہے، اسرائیل کو تسلیم کرنے اور ساتھ دینے کی بات کی ہے، مولانا فضل الرحمان صاحب نیب جانے سے انکاری ہیں، ایسے میں عوام کو غیرجانبدار رہنے کی ضرورت ہے۔

میں ایک قوم پرست سیاسی جماعت کا حامی اور ووٹر ہوں لیکن ان کے فیصلوں پر تنقید بھی کرتا ہوں اور اختلاف بھی رکھتا ہوں۔ پشتون تحفظ موومنٹ کے سپورٹر ہونے کے ناطے یہ کہوں، جو پی ٹی ایم کا ہر رہنما اور ورکر کہتا ہے کہ آئیں سچ کو سامنے لائیں! جن پر ظلم ہوا ہے ان کا مداوا کریں! جو غلط ہو عدالت میں پیش کرکے، کیس چلاکر، جرم ثابت کرکے سزا دیں! مسنگ پرسنز کو پیش کریں! پی ٹی ایم رہنماؤں اور ورکرز کے ساتھ جو ریاستی رویہ اپنایا گیا ہے اس پر نظر ثانی کریں! علی وزیر اور دوسرے پی ٹی ایم ورکرز کے ساتھ ظالمانہ رویے سے گریز کریں! وفاقی حکومت، عدالت پارلیمنٹ ایجنسیوں سے سوال کریں اور جواب دہ ٹہرائیں! کیونکہ پی ٹی ایم ہی واحد انسانی حقوق کی تحریک ہے کہ جو اکیلے آئین و قانون کی بالادستی،  انسانی حقوق، احتساب، محکموں کو جواب دہ ٹہرانے، پختون، بلوچ، سندھی، گلگتی اور دوسرے قوموں کے ساتھ کی گئی نا انصافی، ماورائے عدالت قتل، مسنگ پرسنز اور اپنے وسائل پر اپنے حق کی بات کررہے ہیں۔  میرے خیال میں پشتون تحفظ موومنٹ کی مذکورہ باتوں سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا، جنہیں ریاستی ادارے منفی انداز میں پیش کررہے ہیں۔ آخر میں یہی کہوں گا کہ پی ڈی ایم کے جلسے الیکشن کمپین، اپنے سپورٹرز کو گرم رکھنے، سینٹ میں حصہ مانگنے اور اقتدار کے جنگ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ وما علینا الاالبلاغ 

27 COMMENTS

Comments are closed.