مہناز اختر


 جب سے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر “عورت مارچ” کا انعقاد کیا گیا ہے تب سے آدھے پاکستان کو سورة النساء یاد آگئ ہے گویا کہ اسکا نزول ابھی ابھی ہوا ہو۔ ایسے لوگ بھی یہ جملہ  “خواتین کو سارے حقوق اسی روز مل گئے تھے جس دن سورة النساء نازل ہوئی تھی” لکھتے اور کہتے نظر آرہے ہیں جنہیں اس سورت کے سیاق و سباق کا سرے سے علم ہی نہیں ہے۔ سورة النساء کے بار بار ذکر پر مجھے میرے ایم اے سال اول کا پہلا اسائمنٹ یاد آگیا کیونکہ اسی اسائمنٹ کے دوران سامنے آنے والے سوالوں نے مجھے ایک انتہائی چیلنجنگ موضوع پر مقالہ  لکھنے کی ترغیب دی تھی۔

النساء مدنی سورت ہے۔ 176 آیات پر مبنی یہ سورة کم و بیش دو سے ڈھائی سال کے عرصے میں  بتدریج نازل ہوئی تھی۔ اس سورت کے اہم موضوعات عقائد، عبادات، اخلاقیات، طہارت، محرماتِ نکاح، عائلی و معاشی امور، امور مملکت، حالات امن و جنگ، جہاد، داخلی و خارجی حکمت عملی، اداء امانت، قیام عدل، مقصد رسالت، حقوق اللہ، حقوق العباد، انسانی حقوق، صلوة الخوف و صلوة قصر،  توبہ اور تیمّم  وغیرہ کے احکامات پر مبنی ہیں۔ اس سورت میں  مردوں سے خطاب کیا گیا ہے۔ خصوصا ً آیت 2 تا 35  میں، یہ وہی آیات ہیں جن کے بارے میں ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ دراصل یہ حقوق نسواں کا بنیادی چارٹر ہے حالانکہ قرآن میں یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا گیا ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان آیات میں مردوں پر کچھ پابندیاں لگائی گئی ہیں جیسے کہ مہرکو خواتین کا حق قرار دیا گیا ہے۔ عربوں کی کثرت ازدواج کے رواج کو چار بیویوں تک  عدل کی کڑی شرط کے ساتھ محدود کیا گیا ہے۔ وراثت میں خواتین کو باقاعدہ قانونی وارث قرار دے کر میراث کا نصاب مقرر کیا گیا ہے۔ اسی سورت میں محرماتِ نکاح کا مفصل بیان ہے۔ اسی سورت کی ایک آیت “الرجال قوامون على النساء” کے حوالے ایک عام غلط فہمی  پائی جاتی ہے کہ یہاں بحیثیت مجموعی مردوں کو خواتین پر قائم کیا گیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ آیت عائلی اصول بیان کرتی ہے کہ گھر کا سربراہ مرد (بشرطیہ کہ عاقل،بالغ اور صاحب معاش ہو) گھر کی خواتین کا کفیل اور قانونی سرپرست ہے لہذا گھر کی خواتین پر خرچ کرنا اسکی شرعی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ اسی سورت میں ایسی خواتین جو زیر کفالت ہوں یا کنیزوں کے جنسی استحصال کی ممانعت اور مذمت کی گئی ہے۔

جب جب خواتین کے حقوق کی بات کی جاتی ہے تو ہمارے معاشرے کی اکثریت ایک جملے کی گردان کرتے ہوئے سامنے آجاتی ہے کہ “اسلام خواتین کو تمام حقوق دیتا ہے” سوال یہ ہے کہ کیا مسلمان مرد یا معاشرہ خواتین کو انکے تمام بنیادی حقوق فراہم کرتے ہیں؟  اس معاشرے میں مرد بحیثیت مجموعی کبھی دین  کبھی غیرت اور کبھی خاندانی روایات کی آڑ میں خواتین کا استحصال کرتا ہے۔ میں جانتی ہوں کہ خود اسلام کے نام پر بھی خواتین کا مردوں سے حق لینا آسان کام نہیں ہے۔ جامعہ کراچی میں میرے ایم اے شعبہ قرآن وسنة کا پہلا دن تھا۔ تیرہ خواتین اور آٹھ مردوں پر مبنی  بیج  پہلے دن جب لیکچر ہال میں داخل ہوا تو تمام خواتین اگلی نشستوں پر براجمان ہوگئیں کیونکہ مردوں نے پچھلی نشستیں ہم سے پہلے ہی سنبھال لی تھی۔  ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ نے تفسیرکے موضوع پر بھرپور لیکچر دیا۔ اسکے بعد علوم حدیث کے استاد محترم کے لیکچر کی باری آئی اور ہال میں داخل ہوتے ہی سلام کے بعد جو پہلا کلام انہوں نے کیا وہ یہ تھا “الرجال قوامون على النساء” پھر تھوڑی ناگوری سے خواتین سے مخاطب ہوکر کہا کے آپ پچھلی نشستوں میں تشریف رکھیں اور مرد حضرات سے مخاطب ہوکر کہا کہ نماز کی صف بندی کے اصول کے مطابق آگے تشریف لے آئیں کیونکہ میں یہ بے ترتیبی برداشت نہیں کرسکتا۔ غصہ اور توہین کے احساس کو تمام خواتین نے محسوس کیا مگر پیچھے جاکر بیٹھ گئیں۔ بعد ازاں اس زیادتی کی شکایت ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ سے کی کیونکہ وہ خود ایک فیمینسٹ قسم کی بہادر خاتون ہیں اسلیۓ انہوں نے ہم سے کہا کہ اب سے آپ لوگ اگلی نشستوں میں ہی بیٹھیں گی کیونکہ مذکورہ آیت اور نماز کی صف بندی کا اصول لیکچر ہال میں لاگو نہیں کیا جاسکتا۔ یہ واقعہ بیان کرنے کا مقصد پدرشاہی کی “اسلامی” شکل کی ایک مثال دینا ہے۔

دوسرے سال جب میں نے اپنے مقالے کے لیۓ  موضوع کا انتخاب کیا تو اسے یہ عنوان دیا  “حیض کی حقیقت، نجاست یا اذیت”۔ خواتین سے متعلق یہ انتہائی اہم موضوع بھی پدرشاہی کی زد میں ہے کیونکہ اس موضوع پر زیادہ تر کتابیں مردوں نے اپنے حساب سے لکھی ہیں۔ اس سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ جس طبعی حالت کو قرآن نے “اذیً” اذیت اور پریشانی قرار دیا ہے اسے قرآن کے تمام تر اردو تراجم میں لفظ نجاست سے تبدیل کردیا گیا ہے۔ حیض سے جوڑ دیا جانے والا یہ لفظ نجاست کہیں نہ کہیں اس پدرشاہ معاشرے میں خواتین کے مقام کو پست کرتا ہے۔ حیض کے موضوع پر مردوں کی لکھی ہوئی تمام تر فقہی اور اسلامی کتب میں اس موضوع کو صرف نجاست یا تعلق ازدواج کے حوالے سے موضوع گفتگو بنایا گیا ہے لیکن حیض اور اذیت کے تعلق پر کبھی کوئی بات نہیں کی گئی۔ یہ صرف اور صرف خواتین اور طب کے پیشے سے تعلق رکھنے والے افراد ہی سمجھتے ہیں کہ تمام خواتین دوران حیض کم ازکم چھ بیماریوں یا حالت سے کبھی نہ کبھی ضرور گزرتی ہیں۔ اسکا براہ ِ راست اثر انکی جسمانی اور نفسیاتی صحت پر پڑتا ہے۔ اسکے علاوہ معاشرتی مسائل اور سہولیات کی عدم فراہمی علیحدہ موضوعات ہیں۔ حیض سے متعلق طبی مسائل : PMS, PMDD, MENORRHAGIA , DYSMENORRHEA , MENSTRUAL MIGRAINE , MENOPHOBIA

 عورت مارچ کے ایک پوسٹر پر “مینسٹروایشن” کا لفظ لکھا دیکھ کر جن مردوں کو بہت شرم آئی اور انکے اسلام کو خطرہ لاحق ہوگیا میں ان سے یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ اس وقت آپکی غیرت کہاں چھپ جاتی ہے جب آپ کی برادری کے لوگ ماں اور بہن کا نام لیکر جنسی گالیاں دیتے ہیں۔ میں ان مردوں کو یہ بتانا چاہتی ہوں کہ  آپ کی بہن یا بیٹی بھی ہر ماہ  پی ایم ایس یا مینسٹروئل مائیگرین یا بقیہ  طبی مسائل سے ضرور گزرتی ہوگی۔ اس دوران انہیں بھی شدید ڈپریشن، درد یا تھکاوٹ محسوس ہوتی ہوگی یا خودکشی کے خیالات آتے ہونگے لیکن افسوس کے پاکستان میں مینسٹروایشن لیو یا سستے سینٹری نیپکنز کی بات کرنا آپ کے نزدیک بے حیائی ہے۔ ایسے مردوں کو بتاتی چلوں کہ حیض اور خواتین کے نجی معاملات سے متعلق زیادہ تر احادیث کی روایہ عائشہ صدیقہ ؓ  تھیں۔ آپؓ سے ان  معاملات کا شرعی علم حاصل کرنے میں نہ کبھی صحابہ نے شرم محسوس کی اور نہ کبھی ان موضوعات پر گفتگو کرنے پر عائشہؓ کو شرمندہ کیا گیا کیونکہ بقول رسول اللہﷺ  “خواتین ان معاملات کا زیادہ علم رکھتی ہیں”۔

عورت مارچ میں یقیناً کچھ غیر سنجیدہ پوسٹرز بھی نظر آۓ۔ میرےخیال سے ہمیں انہیں نظرانداز کردینا چاہیے اور اس مارچ کو سراہنا چاہیے جہاں ہر طبقے کی خواتین ایک پلیٹ فارم پر موجود تھیں اور اپنے مسائل بیان کررہی تھیں۔ ہمارے فرشتہ صفت مردوں کو “ڈک ٹیٹرشپ” اور  “ڈک پکس” والے پوسٹرز نے بڑا مشتعل کیا اور وہ بھول گۓ کہ مختاراں مائی سے لے کر بے بی زینب تک ساری بیچاریاں اسی “مرد گردی” کا شکار ہوئی تھیں۔ یہ وہی مقدس اسلامی معاشرہ ہے جہاں خواتین، بچے اور بچیاں آۓ روز  “ڈک ٹیٹرشپ” کا شکار ہوتے ہیں۔ اس مقدس اسلامی معاشرے کی دیواروں پر مردوں کی جنسی صحت اور مزے کو دوبالا کرنے والے اشتہارات خواتین کو قدم قدم پر سر جھکانے پر مجبور کردیتے ہیں۔ سڑکوں، بسوں اور عوامی مقامات پر مردانگی میں مبتلا مریض اسی “ڈک ٹیٹرشپ” کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر موجود خواتین کو نازیبا تصاویر بھیجنا جہاں مردوں کا محبوب مشغلہ ہو وہاں مردوں کا ” ڈک پکس اپنے پاس رکھو” کے پوسٹر سے مشتعل ہونا یا اسے بے حیائی قرار دینا مضحکہ خیز بات ہے۔

آج کی خواتین ملازمت کے حق، یکساں تنخواہ، اور میری تنخواہ میرا حق کا مطالبہ کیوں نہ کریں جب اس ملک کی ایک بڑی جامعہ کے استاد ، مفتی اور ٹی وی کے معروف “اسلامی” اسکالر اپنے  پی ایچ ڈی کے مقالے (کتاب الکفالة والنفقات) میں فتاویٰ عالمگیری کا حوالہ دیتے ہوۓ یہ تاریخ ساز جملے لکھتے ہیں کہ “فقہاء نے بیوی کے لیۓ دوا اور ڈاکٹر کا خرچہ شوہر پر عائد نہیں فرمایا  ہےاور یہ شوہر کی ذمہ داری سے خارج ہے، بیوی قاضی کے پاس اس خرچے کی عدم ادائیگی کا دعویٰ نہیں کرسکتی اور پھر مسلمان خواتین پر احسان فرماتے ہوۓ لکھتے ہیں کہ البتہ یہ شوہر کی اخلاقی ذمہ داری  اور احسان ہوگا کہ وہ بیوی کو ایسی حالت میں اکیلا نہ چھوڑے”۔  ان حالات میں کیا میں یہ کہنے کی جرات کرسکتی ہوں کہ اسلام خواتین کو متعین اور مقرر حقوق کی ضمانت تو دیتا ہے لیکن مکمل حقوق کی بات  نہیں کرتا جو کہ آج کل کا معروف مقولہ ہے۔

مجھے ذاتی طور پر عورت مارچ کی انتظامیہ سے یہ شکایت ضرور تھی کہ اس کے منتظمین نے غیرت کے نام پر قتل ہونے والی خواتین ، اپنی مرضی سے شادی کرنے کی وجہ سے قتل ہونے والی خواتین، تیزاب گردی کا شکار خواتین اور بیٹی پیدا کرنے کے جرم میں قتل کردی جانے والی یا طلاق پانے والی خواتین کے حق میں کوئی خصوصی اور مضبوط پوسٹر کیوں نہیں بنایا۔ اس تنظیم کو ایک پوسٹر اس قبائلی سوچ کے خلاف بھی بنانا چاہیے تھا جو آج بھی خواتین کو ووٹ کا حق نہیں دیتے۔ مجھے آئندہ سالوں میں کسی ایسے پوسٹر کا بھی انتظار رہے گا کہ جس میں کوئی خاتون یہ نعرہ بلند کرے گی کہ گھر سے باہر نکل کر مساجد میں نماز ادا کرنا ہمارا حق ہے اس لیۓ ہمیں اسکی اجازت ہونی چاہیے۔ خواتین کے حقوق کی تحریک  باپ، بھائی، شوہر یا معاشرے کے مہذب مردوں سے جنگ نہیں ہے بلکہ یہ استحصالی پدرشاہی نظام کے خلاف ایک تحریک ہے۔ اس مارچ کے منتظمین کو شدید مخالفت کی اس فضا میں دلبرداشتہ  نہیں ہونا چاہیے بلکہ اگلے سال کے لیۓ ایک مزید سنجیدہ اور مثبت مارچ کی تیاری کرنی چاہیے کیونکہ پدرشاہی خصوصاً مسلمانوں کی پدرشاہی کو چیلنج کرنا خواتین کے لیے آسان نہیں ہے۔