شبنم بونیری

شاید قاتل مروہ کے بے جان جسم کو جلانے کے بعد سوچ رہا ہوگا کہ اسےبرہنہ ہی کچرے میں پھینک دے،یا بوری میں بند کرکے یہاں کی پرانی روایت کو زندہ کردیا جائے۔ بلآخر اس نے یہاں کی روایت کو زندہ کرتے ہوئے لاش کو بوری میں بند کردیا اور اسے کچرے کے ڈھیر پر پھینکتے ہوئے  فاتحانہ نظروں سے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے اپنے رستے پر چل پڑا۔

تین دن گزرگئے لیکن بونیر سے تعلق رکھنے والی گمشدہ چھ سالہ مروہ کا(جو کہ کراچی میں اپنے والدین کے ساتھ رہائش پزیر تھی) ہر جگہ ڈھونڈھنے کے بعد بھی کوئی اتا پتا نہ ملا۔ اس کے والدین اور عزیز و اقارب تین دن تک اسے تلاش کرتے رہے۔ شاید وہ یہ سوچنے کی ہمت نہ  کرپارہے ہوں کہ اسی ریاست مدینہ میں ان کی چھ سالہ مروہ کو ماضی کی مظلوم بچیوں اور بچوں کی طرح ریپ بھی کیا جاسکتا ہے اور ریپ کے بعد جلی ہوئی بوری بند لاش کچرے کے ڈھیر پر ملے گی۔ تین دن کی تگ و دو کے بعد انہیں چھ سالہ مروہ کی بوری بند جلی ہوئی لاش ہی مل سکی۔ وہ اس لاش کو لے کر آج کراچی میں احتجاج کرتے ہوئے ریاست مدینہ کے حاکموں سے یہ سوال کررہے ہیں کہ کیا ریاست مدینہ میں مروہ کی ریپ زدہ لاش ہی آخری لاش ثابت ہوگی یا ان واقعات کو روکنے کے لیئے مزید معصوم بچوں کی کچلی ہوئی، جلی ہوئی   لاشیں درکار ہیں؟

ریاست مدینہ میں معصوم بچوں کو اغوا کرنے اور ریپ کے بعد ان کی لاش کو کچرے کی ڈھیر پر پھینکنے کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے، جتنا کہ بوری بند لاشوں کی تاریخ۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ قصور میں زینب کو ریپ کرنے کے بعد اس کی لاش کو کچرے میں پھینک دیا گیا تھا۔ اس سے پہلے بھی ایک میل کے احاطے کے اندر اندر بارہ بچوں کے ریپ کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ ١٦ ستمبر ٢٠١٩ کو آٹھ سالہ فیضان سمیت چار بچوں کی ریپ زدہ لاشیں کچرے کے ڈھیر سے ملیں۔  ٢٠١٥ میں قصور میں ہی ایک گینگ کو گرفتار کیا گیا، جن پر تقریباً دو سو بچوں کو ریپ کرنے کا الزام تھا۔ مئی ٢٠١٩ میں فرشتہ نامی پشتون بچی کو اسلام آباد میں ریپ کرنے کے بعد قتل کیا گیا، اس کی لاش بھی کچرے کے ڈھیر سے ہی ملی تھی۔ ہری پور میں ایک ریٹائرڈ اسکول ٹیچر کو درجنوں بچوں سے بدفعلی کرنے اور ان کی تصاویر بنانے کے جرم میں گرفتار کیا گیا۔ مسجد کے اندر ہی قاری عباس نامی امام مسجد ایک بچے کو ریپ کرتے ہوئے پکژا گیا،جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آچکی ہے۔

قصہ مختصر گھر سے لے کر اسکول تک اور اسکول سے لے کر مسجد و مدارس تک میں سینکڑوں بچوں کو ریپ کیا جاچکا ہے گیا پر ابھی تک حکومت اور حکومتی ادارے بچوں کو جنسی استحصال سے بچانے میں ناکام ہیں۔ عوام بھی وقتی طور پر احتجاجوں اور سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی کے علاوہ اس قسم کے واقعات کو روکنے کےلیئے سنجیدہ نظر نہیں آرہی۔ ہر نئے ریپ پر ریپسٹ کو سرعام پھانسی پر چڑھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے، اپنے اندر کا غم وغصہ تھوک دیتے ہیں لیکن ہم نے دیکھ رہے ہیں کہ زینب واقعے میں ملوث عمران نامی شخص کو پھانسی پر چڑھانے کے بعد بھی بچوں کی جنسی استحصال میں کوئی کمی نہیں آئی ہے بلکہ الٹا زیادہ کیسز سامنے آرہے  ہیں۔ میرے خیال سے بچوں کو سیکس ایجوکیشن دینے اور اس حوالے سے مؤثر قانون سازی کرنے سے بچوں کی جنسی استحصال میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اساتذہ اور رشتہ داروں کا بچوں کے ساتھ غیر ضروری میل جول اور ان پر اندھا اعتماد بچوں کی جنسی استحصال میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔ لہذا اپنے بچوں کو لوگوں سے غیر ضروری میل جول سے گریز کرنے کی ترغیب دینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو ایک ایسا معاشرہ فراہم کرنے کی سخت ضرورت ہے جہاں بچے جنسی درندوں کی پہنچ سے دور آزاد اور پرسکون ماحول میں پلے بڑھیں۔

Previous article”ففٹی شیڈز آف نیب“
Next articleعاصم باجوہ معاملہ، سوال ہی غلط ہے