شیزا نذیر

میں لوگوں کے سیلفی لینے کے جنون کو دیکھ کر اکثر حیران ہو جاتی ہوں، جب وہ خوبصورت مناظر کو دیکھنے کے بجائے سارا وقت سیلفیاں لینے میں گزار دیتے ہیں اور بعد میں پکچرز دیکھتے ہوئے حیران ہوتے ہیں کہ دیکھو پیچھے کتنا پیارا منظر ہے۔ ان کو یہ بھی یاد نہیں ہوتا کہ یہ منظر کس جگہ کا ہے۔ میں فوٹوگرافی سیکھنے سے پہلے مناظر کو موبائل فون کیمرے کی بجائے آنکھ میں قید کر لینے کو ترجیح دیتی تھی۔ بے شک یاد گاری کے لیئے پکچرز بھی لیتی تھی لیکن ایسے نہیں کہ بس مجھے یاد ہی نہ رہے کہ یہ منظر کس جگہ کا ہے۔

اکثر سفر سے واپس آ کر کئی کئی دن بعد یا پھر کئی ماہ بعد ٹریول لاگ لکھتی ہوں اور یہ ٹریول لاگ ایک سال بعد لکھ رہی ہوں۔ بے شک یہ ٹرپ میں نے کیمرے کی آنکھ سے زیادہ دیکھا لیکن جو مناظر قید کیئے، اس کو دیکھ کر ایگزیکٹو کرلیا۔ امید کرتی ہوں کہ اس سفر میں آپ کو اپنے ساتھ لے کر چلوں۔ بات اگست 2019   کی ہے۔ ناران کاغان کی طرف میرا یہ دوسرا ٹرپ تھا، پہلا ٹرپ 2016 میں کیا تھا۔ اس ٹرپ اور ناران کاغان کی خاص بات یہ ہے کہ اسی ٹرپ کے دوران ہمراہی ٹورازم پلان کیا گیا تھا۔ پہلا ٹرپ اپریل کے آخر میں کیا تھا۔ جب ناران کاغان کے پہاڑ برف کی سفید چادر اتارنے کے لیئے تیار تھے۔ یہ ٹرپ سرد موسم کی وجہ سے کچھ خاص نہیں رہا تھا لیکن برف کے نیچے ڈھکی خوبصورتی جیسے کہہ رہی ہو کہ گرمی  کے موسم میں آنا اور میں دوبارہ آئی گئی تھی۔

جیسے ہی ہم ناران کاغان کی حدود میں داخل ہوئے پہاڑوں، آبشاروں، سبزے اور بے حد شفا بخش تازہ ٹھنڈی ہوا نے ہمیں خوش آمدید کہا۔ ہم نے گاڑی کا اے۔ سی بند کروا دیا اور کھڑکیاں کھول کر  ٹھنڈی ہوا اور نظاروں سے لطف اندوز ہونے لگے۔ ہماری بکنگ کاغان کے ایک ہوٹل میں تھی۔ شام پانچ بجے کے قریب ہم اپنے اپنے کمروں میں فریش ہونے کے لیئے چلے گئے۔ ڈنر کے بعد ہم نے چائے پینے کے لیئے کاغان کے بازار کا رخ کیا اور کنہار کنارے ایک ہوٹل پر چائے کا آرڈر کیا۔ معمول کے مطابق یہاں سیاحوں کا زیادہ رش تھا کیونکہ میدانی علاقوں سے کالجز و یونیورسٹیز کے ٹرپس کے ساتھ ساتھ یوتھ بھی آزادی منانے آئی ہوئی تھی۔ چونکہ سفر کی تھکان زیادہ تھی، تو جلد ہی ہم سونے کے لیئے چلے گئے۔ صبح کا سفر میرے لیئے خاص اہمیت رکھتا تھا۔ سفرناموں میں جو پڑھا تھا اب اپنی آنکھوں سے دیکھنے جانے والی تھی وہ بھی اپنے ڈی۔ایس۔ایل۔آر کے ساتھ۔

بابو سر کی بہن لولوسر

جی ہاں! بابو سر ٹاپ کے بارے میں مستنصر حسین تارڑ کے سفر ناموں میں پڑھا تھا، اور ایسا لگا جیسے وہ کہنا چاہتے ہوں کہ جس نے بابو سر نہیں دیکھا اس نے سیاحت ہی نہیں کی۔ پرجوش ہمراہی بابوسر کی طرف گامزن تھے۔ چونکہ ان دنوں ناران میں سیاحوں کا بہت زیادہ رش تھا تو پٹرول ڈلوانے کے لیئے ہمیں ایک گھنٹے کا وقت لگا۔ تب ہم نے ڈرائیور کو کہا کہ کل کے لیئے رات کو ہی یہ کام کر لیں تاکہ صبح کا وقت ضائع نہ ہو۔ میں اب تک کشمیر، سوات کالام اور مری کا سفر کر چکی تھی لیکن یہ سفر میرے لیئے ایک خواب سا تھا۔ میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ بابو سر کی طرف سفر اتنا حسین بھی ہو سکتا ہے اور دنیا اتنی خوبصورت بھی ہو سکتی ہے۔ بلند و بالا سبزے سے ڈھکے پہاڑ، وادیاں، دریائے کنہار، آبشاریں اور بابو سر ٹاپ کی طرف جاتی ہموار سڑک۔

جب ہم کاغان سے نکلے تو موسم اچھا تھا لیکن جیسے جیسے آگے بڑھتے گئے ہوا ٹھنڈی ہوتی گئی لیکن بھلی معلوم ہو رہی تھی۔ راستے میں وہ جگہ بھی آئی جہاں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے چند ہفتے پہلے ایک بڑا حادثہ ہوا تھا۔ ایک طرف پہاڑ تھا دوسری طرف ڈھلوان۔ کسی بڑی آبشار سے لینڈ سلائیڈنگ ہوئی تھی اور آبشار کا دھانہ کئی فٹ زیادہ ہو گیا اور تندی سے پانی نیچے کی طرف آ رہا تھا، جہاں پر مقامی لوگ سیاحوں کی گاڑیوں کو با حفاظت نکلوانے کے لیئے کھڑے تھے۔ کیونکہ ہم میدانی علاقوں والے جلد از جلد دوسرے سے آگے بڑھ جانے کے چکر میں نقصان اٹھاتے ہیں۔ چند فٹ کا ایڈونچر والا راستہ با حفاظت طے کرنے کے بعد پھر سے نظاروں سے لطف اندوز ہونے لگے۔ گاڑی میں موجود سب لوگ خاموش تھے۔ سب کی نظریں کھڑکی سے باہر جھانک رہیں تھیں۔ نجانے کون کس خیال میں مگن تھا۔

ایڈونچر کا اپنا مزہ ہے اور ہموار سڑک پر دلکش مناظر کو دیکھنا اور ماضی میں چلے جانا یا مستقبل کے خواب دیکھنے کا بھی اپنا الگ مزہ ہے۔ اگر آپ یہ مزہ لینا چاہتے ہیں، جہاں ماضی کا غم بھی روح افزاء بن جائے اور مستقبل جیسے حال لگنے لگے تو بابو سر ٹاپ کی طرف سفر کیجیے۔ میں نے اور اکرم نے اپنی بائیں جانب نگاہ کی تو لولوسر جھیل کا بوڑد دیکھا لیکن سب چونکہ کہیں کھو گئے تھے تو ہم نے کہا کہ پہلے بابو سر ٹاپ جایا جائے کیونکہ وہاں کا موسم کب کیا ہو جائے معلوم نہیں اور واپسی پر یہاں رکا جائے۔ اب ہوا اتنی ٹھنڈی ہو چکی تھی کہ ماضی اور مستقبل میں ہی رہتے ہوئے گاڑی کی کھڑکیاں بند کر دی گئیں۔ ہم اپنے اپنے حال میں تب واپس آئے جب گاڑی ایک ٹیلے پر جا کر رکی۔ گاڑی سے اترتے ہی تین چار نہایت ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں نے ہمیں ساتھ لائے گرم کپڑے پہننے پر مجبور کر دیا۔ ہم نے دو سے زائد گھنٹوں کا سفر کیا اور اب سب کو چائے کی طلب ہوئی۔ پارکنگ کے آس پاس کئی چائے پکوڑے والے ڈھابے تھے۔ واش روم جانے کہ بھی ضرورت تھی۔ جیسا کہ میں اکثر کہتی ہوں کہ فلش سسٹم یہاں کا نہایت ناقص ہے اور چائے کے ڈھابوں پر بھی صفائی کا انتظام نہ ہونے کے برابرہے۔ پنجابی کا محاورہ کچھ اس طرح ہے کہ ناک سے اتار کر گال پر لگانا۔ یہی کچھ شمالی علاقوں کے قریب قریب سبھی ڈھابوں میں ہوتا ہے۔ ہمارے ساتھ گئے لڑکوں نے ایک ڈھابے پر ہلا بولا، ڈھابے کے مالک سے چائے کے کپ پکڑ کر خود دھوئے اور چائے پکوڑوں سے بابو سر ٹاپ کی ٹھنڈی ہوا میں لطف اٹھایا۔ اس کے بعد ہم نے جو منظر دیکھا معلوم نہیں کہ من و عن اس کو بیان کر پاؤں گی یا نہیں۔

پہاڑیوں میں دادا گیر کا لقب اگر کسی پہاڑ کو دوں تو وہ بابو سر ٹاپ ہے۔  آپ کے ارد گرد وسیع و عریض پہاڑ اپنی اپنی ڈھلوانوں کے ساتھ۔ تا حد نظر ایک کے پیچھے دوسرا پہاڑ ہیبت ناک ڈھلوانوں کے ساتھ کھڑے خدا کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ بابو سر ٹاپ کو کیا الفاظ دوں۔ پہاڑوں کا ایک با رعب جھمگٹھا، جیسےکہہ رہا ہو، “ہم ہیں بابو سر کے پہاڑ! نام تو سنا ہوگا! ” جون کے شروع کی  برف باری کے نشان ابھی تک باقی تھے۔ ایک وسیع ڈھلوان پر برف ہی برف تھی۔ دوسری جانب چلاس اور کئی جھیلوں کی طرف جاتا بل کھاتا راستہ۔ بابو سر ٹاپ پر ایک نظارہ جسے اکثر سیاح سیلفی میں مگن ہو کر صرف پس منظر کی طرح استعمال کرکے اس پر توجہ نہیں دیتے وہ ہیں گلابی لہلہاتے پھول۔ یہ پھول صرف چند ہفتوں کے مہمان ہوتے ہیں۔ تین سے چار اینچ تک لمبے گندم کے سٹے کی ساخت کے، یہ پھول جب ہوا سے ہلتے ہیں تو بابو سر ٹاپ کی ہیبت جیسے اٹکھیلیاں کرتی ہو۔ میں ویڈیو بنانے کے دوران انہیں کئی منٹ یوں ہی لہلہاتے دیکھتی رہی۔ پھول اپنی دھن میں مگن بابو سر کی ہیبت ناکی سے بے نیاز رومانوی تاثر بھی دے رہے تھے جیسے کہہ رہے ہوں “ہم صرف سیلفی کا پس منظر نہیں ہیں!  ہمیں دیکھو! ہم پر نظر کرو! تمہیں اس عظیم ٹاپ کے اندر کا کھلنڈرا پن دیکھنے کو ملے گا!”

بابو سر ٹاپ کو اگر میں ایک جملے میں بیان کروں تو وہ کچھ اس طرح ہے “بے انتہا وسعت، بلندی ہی بلندی اور نا ختم ہونے والی گہرائی کا امتزاج بابو سر ٹاپ” موسم سرد ہوتا جا رہا تھا پرروشنی ابھی باقی تھی۔ اس سے پہلے کہ شام آئے ہم نے واپسی کی راہ لی اور راستے میں لولوسر جھیل پر مقام کیا۔  میں نے اکرم سے کہا کہ یہاں تو باربی کیو کرنا بنتا ہے لیکن ایک بورڈ پر لکھا ہوا تھا کہ یہاں پر کھانا پکانا منع ہے اور یہی وجہ تھی کہ لولوسر جھیل صاف ستھری تھی۔  سڑک سے اتر کر ایک وسیع ڈھلوان کی طرف بڑھے۔ جیسے جیسے نیچے اتر رہے تھے ڈھلوان وسیع ہوتی جا رہی تھی۔ بلندی سے ہم لولو سر جھیل کا نیلگوں پانی دیکھ سکتے تھے جو پانی کی ہلکی سی جنبش سے مسلسل ایسے لگ رہا تھا جیسے کوئی جھلمل کرتا نرم ملائم سلکی کپڑا ہو جس کے ایک ایک تار کو ہاتھ سے بنا گیا ہو۔

ماہوڈنڈ اور سیف الملوک جھیلوں کو اگر رومانوی جھیلیں کہیں گے تو لولوسر جھیل اپنے آپ میں ایک سحر انگیز جھیل ہے۔ بابو سر ٹاپ اور لولوسر جھیل بہ یک وقت رعب دار، پر جلال، ہیبت ناک، پرسرار، بے نیاز، حیرت انگیز ہے۔ ان سارے الفاظ کا مرکب ذاتِ الہیٰ ہی ہو سکتی ہے، جو اس کی قدرت میں پنہاں ہے۔ بابو سر ٹاپ اور لولوسر جھیل اس کی ذات کا اعلان کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اسی لیئے ان جگہوں کے لئیے میں انگریزی کا لفظ اوسم بلاجھجھک استعمال کر رہی ہوں۔

شام سر پر تھی۔ لولوسر جھیل کے ارد گرد پہاڑوں پر سورج کی الوداعی روشنی عجب نظارہ دے رہی تھی۔ میرا دل کیا کہ نیچے جا کر جھیل کے پانی کو چھوا جائے لیکن مزید نیچے جانے کا مطلب تھا کہ مزید وقت۔ ہمارے ڈرائیور کو اپنے کام میں مہارت حاصل تھی لیکن وہ بزرگ تھے اور اندھیرا ہونے سے پہلے ہوٹل پہنچنا چاہتے تھے تو ان کے کہنے پر ہم واپس ہو لیئے۔ افسوس!  لولو سر جھیل کو وقت کی کمی کی وجہ سے ٹھیک سے ایکسپلور نہیں کر پائی۔ جھیل کی حیرت انگیزی کو خداحافظ کہتے ہوئے میں نے کہا کہ ابھی دل بھرا نہیں، ابھی خلش باقی ہے تو پھر جلد ملیں گے!

واپسی کا سفر یہی سوچتے ہوئے گزرا کہ جب دوبارہ آؤں گی تو چار پانچ گھنٹے تو یہاں پر لازمی قیام کروں گی کیونکہ جھیل کے بہت سے رازوں سے پردہ اٹھنا باقی تھا۔ لولو سر جھیل کو بابو سر ٹاپ کی بہن اس لیئے کہا کیونکہ بابو سر ٹاپ کی طرح یہ جھیل بھی کافی حد تک با رعب تھی۔

دوسرے دن ہم لالا زار اور جھیل سیف الملوک کی طرف بڑھے۔ لالا زار کا راستہ ایڈونچر سے بھر پور ہے۔ مقامی ڈرائیوروں کی مہارت ہے کہ وہ آپ کو سلامتی سے لے جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ مشکلات اور ایڈونچر میں فرق ہوتا ہے۔ جس کو ہمارے دیسیوں کو سمجھنے کی بہت ضرورت ہے۔ لالا زار پر ہم بے وقت پہنچے تھے۔ وہاں جانے کا بہترین وقت مئی کے بعد کا ہوتا ہے جب وہاں پھولوں کی بہار ہوتی ہے۔ لیکن ہم نے وہاں پر خوب انجوائے کیا۔ پھول کم لیکن سبزا بہت تھا۔ پہاڑوں، بلند و بالا درختوں اور دلکش سبزے میں لالا زار۔ وہاں سب نے خوب سیلفیاں لیں اور مناظر کو کیمرے کی آنکھ میں بند کیا۔ وہاں سے ہم جھیل سیف الملوک کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں دریائے کنہار میں رافٹنگ کے لیئے رکے اور یہ میری زندگی کی پہلی رافٹنگ تھی۔ ہم ڈرے ہوئے بھی تھے کیونکہ ہمیں دریا سے دور رہنے کے لیئے خوفناک حادثات کی کہانیاں بھی سنائی گئی تھیں اور اب ہم اسی دریا میں جس نے کئی انسانوں کو نگل لیا تھا رافٹنگ کرنے والے تھے۔ بوٹ انتظامیہ نے ہم سے ایک فارم سائن کروایا جس کے مطابق ہم نے اپنی زندگی کا فیصلہ خود کیا ہے کہ اگر آج ہم گئے تو ہمارا خون ہماری ہی گردن پر ہو گا۔ اس کے بعد ہمیں چند اسکلز بتائے گئے۔ ہمارا جوش بڑھایا گیا اور ایڈونچر شروع ہوا۔

لالا زار، ایڈونچر اور جھیل سیف الملوک

بوٹ میں بیٹھنے سے پہلے ہم نے پلان کیا کہ کیسے کیسے فوٹو بنانی یا ویڈیو بنانی ہے لیکن جب پانی میں گئے تو دوسری بوٹ سے آگے بڑھ جانے اور اپنی بوٹ کو الٹنے سے بچانے میں لگ گئے۔ اگرچہ پانی کا بہاؤ اتنا تیز نہ تھا پھر بھی ایک مقام پر کشتی جیسے الٹتے الٹتے رہ گئی اور چند منٹ کا یہ سفر ہمیں زندگی بھر کے لیئے یاد رہ گیا۔ پہلی بار جب یہاں آئی تھی تو یہ علاقہ برف سے ڈھکا ہوا تھا۔ اس لیئے جھیل سیف الملوک تک نہیں پہنچ پائی تھی۔ اب کی بار جیپ ہمیں جھیل تک لے گئی۔ آج 14 اگست تھی اور سیاحوں کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کا بھی رش تھا۔ یہاں فلش سسٹم کی گندگی انتہا پر تھی۔ یہی نہیں ڈھابوں پر چائے کے کپوں میں حسیناؤں کی لپسٹک کو صاف کرنے کی زحمت بھی نہیں کی گئی تھی۔ دوسری طرف بچپن میں سیف الملوک کی جو کہانیاں  پڑھیں تھیں اس کے مطابق اب جھیل ویسے نہیں رہی تھی۔ جھیل کنارے بے انتہا گند جو کہ سیاحوں اور مقامیوں نے ڈال رکھا تھا۔ میرا بھانجا اپنے ساتھ پلاسٹک کی مچھلیاں لے کر گیا تاکہ وہاں جھیل کنارے پانی میں کھیل سکے۔ وہ اپنی پلاسٹک کی مچھلیاں پانی میں ڈالنا نہیں چاہ رہا تھا کیونکہ جھیل کے کنارے بہت گند تھا۔ تو پہلے ہم دونوں نے چار پانچ فٹ جھیل کے کنارے سے سارا گند یعنی ریپرز اور ڈائپرز وغیرہ اکٹھے کر کے اس کو صاف کیا۔ پھر وہ کہنے لگا کہ ماسو آپ لوگوں سے فیس بک پر کہنا کہ یہاں پر گند نہ ڈالیں مچھلیاں مر جاتی ہے۔ میں نے اس کو کہا کہ آپ خود یہ پیغام دو تو پھر ایک ویڈیو پیغام ریکارڈ کیا گیا۔ اگرچہ جھیل کنارے گندی سے جھیل کا حسن دب گیا ہوا تھا۔ تاہم جھیل کا لینڈ سکیپ بالکل ویسا ہی تھا جیسے پڑھا تھا۔ پہاڑوں کے دامن میں شفاف پانی کی جھیل۔

میں سری پایہ کے سفر کو بھی یہاں بیان کرنا چاہتی ہوں جو میں نے 2016 اپریل میں کیا تھا۔ اپریل میں ہم کیوائی کے قصبے میں پہنچے۔ ہمارا ڈرائیور چاہتا تھا کہ ہم صرف کیوائی کی آبشار کا نظارہ کریں اور واپسی کا سفر اختیار کریں۔ اُنہوں نے ہمیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ اوپر کچھ نہیں ہے۔  پر ہم نہ مانے، ہم نے محمد وسیم نامی جیپ ڈرائیور کی خدمات حاصل کیں۔ سفر شروع ہوا تو تھوڑی ہی دیر میں نہایت خطرناک روڈ پر آ گئے۔ روڈ کی چوڑائی جیپ کی چوڑائی جتنی ہی تھی۔ ایک طرف بلند پہاڑ اور دوسری طرف جان لیوا کھائی۔ ’’ آگے کنواں پیچھے کھائی ‘‘ والی صورتِ حال تھی۔ ہم وسیم بھائی سے باتیں کرتے گئے۔ اُنہوں نے ہمیں ’’ سری پایہ‘‘ کی کہانی بھی سُنائی کہ کوئی امیر شخص تھا اور اُس کے لاڈلے بکرے کو شیر اُٹھا کر لے گیا۔ وہ شخص جب تلاش کے لیئے نکلا تو اُسے ایک مقام پر بکرے کی سری ملی اور دوسرے پر پایہ سو اُس نے اِن دونوں مقامات کا نام سری اور پایہ رکھ دیا۔ ایک کہانی یہ بھی ہے کہ سری ایک ہندو لڑکی تھی جسے ایک لوک داستان کے کردار پایہ سے صوفیانہ محبت ہو گئی تھی۔

سری پایہ کی کہانی

دراصل ’’سری‘‘ اور ’’پایہ‘‘ ہندکو کے الفاظ ہیں۔ ’’سری‘‘ ہندکو کے لفظ ’’سر‘‘ سے نکلا ہے جس کا مطلب ندی یا جھیل یا تالاب ہے۔ اِسی طرح ’’ پایہ‘‘ کا مطلب سرسبز گھاس کا میدان ہے۔ جب ہم سری کے مقام پر پہنچے تو ہم نے پہاڑوں کے دامن میں ایک چھوٹا سا تالاب دیکھا۔ یہ نظارہ نہایت دلکش تھا۔ ہمارا گلا مقام پایہ تھا اور یہاں ہمیں ہائیکنگ کرکے جانا تھا۔ یوں تو راستہ خطرناک نہیں تھا لیکن بارش، مٹی اور برف نے اِسے خاصا خطرناک کردیا تھا۔ کچھ مزدور ہمارے لیئے راستہ صاف کر رہے تھے۔ وہ ٹورسٹ سے بخشش کے لیئے بھی کہہ رہے تھے۔ مزدوروں نے ہمیں سفید برف کھانے کی آفر بھی کی۔ برف اتنی سفید تھی کہ مجھے لگا اگر میں نے اِسے ہاتھ میں پکڑا تو یہ میلی ہو جائے گی۔ فضا کو حضرت داؤد کی وہ بات یاد آئی کہ جب اُنہوں نے خدا سے دعا کی کہ وہ اُن کو گناہ سے پاک صاف کرے ’’ تُو مجھے پاک صاف کر تو میں برف سے بھی زیادہ سفید ہوں گا‘‘ 

یہاں سے راستہ مزید خطرناک ہو گیا۔ ہم ہمت کر کے اوپر چڑھنے لگے لیکن اچانک سے موسم خراب ہو گیا۔ پایہ سے آنے والے لوگوں نے ہمیں اوپر جانے کے لیئے خبردار کیا۔ بہت سے لوگ واپس ہو لیئے تو ہم بھی واپس ہو لیئے کیونکہ ’’ صلاح کاروں کی کثرت میں سلامتی ہوتی ہے‘‘ میری اکیلی کی بات ہوتی تو شاید یہ خطرہ مول لیا جا سکتا تھا لیکن جب آپ گروپ میں ہوں تو گروپ کی سلامتی آپ کے لیئے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ وسیم بھائی سری کے مقام پر ہمارا ہی انتظار کرر ہے تھے۔ واپسی پر ہم نے اُن سے اردو میں باتیں کیں اور پتا چلا کہ وہ  ہندکو بولتے ہیں۔ پھر باقی کے راستے اُنہوں نے ہندکو میں بات کی اور ہم نے پنجابی میں۔ وسیم بھائی آٹھویں کلاس سے آگے نہ پڑھ سکے کیونکہ   2005 کو زلزلہ آیا اور یہاں کی ہر شے مسمار ہو گی۔ اُنہوں نے بتایا کہ یہ عمارتیں جو ہم دیکھ رہے ہیں یہ سب دوبارہ تعمیر کی گئی ہیں۔ وسیم بھائی نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ یہاں صرف دو قسم کے روزگار میسر ہیں، ڈرائیونگ اور ہوٹلنگ وہ بھی سیزن میں اور جو مزدور راستے سے برف صاف کرتے ہیں وہ صرف سال میں چار مہینے کام کر سکتے ہیں۔ اُن کو جیپ انتظامیہ کی طرف سے بارہ ہزار ماہانہ تنخواہ ملتی ہے یعنی سال میں اڑتالیس ہزار یا پھر بخشش۔

میرے پہلے ٹرپ کی ایک اور حسین یادگار جس کو میں کیمرے کی آنکھ میں تو قید نہ کر پائی لیکن میری دل و دماغ پر یہ منظر ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے نقش ہوگیا۔ صبح کے ساڑھے پانچ بجے کا وقت تھا۔ میں بالکونی میں کھڑی دریا اور پہاڑوں کو دیکھنے لگی۔ پہاڑوں کی چوٹیاں برف سے ڈھکی ہوئی تھیں۔ اپریل کا آخری ہفتہ چل رہا تھا اور پہاڑوں پر سے برف پگھل چکی تھی لیکن چوٹیاں ابھی تک برف کی لپیٹ میں تھیں۔ پہاڑ یوں دکھائی دے رہے تھے جیسے کوئی شہزادی سر پر چاندی کا تاج پہنے بڑی شان اور بے نیازی سے کنہار کنارے صبح کی سیر کے لیئے آئی ہو۔

ایک اور حسین یادگار

پہاڑوں سے نظر ہٹا کر میں نے اس ڈھلوان پر نظریں ڈالیں جہاں سبز گھاس کا فرش بچھا تھا۔ اس میدان میں ایک خاندان صبح کی سیر کے لیئے نکلا ہوا تھا۔ ماں، باپ اور ان کے دو چھوٹے بچے۔ میں نے آج تک ایسا خاندان نہیں دیکھا تھا جو ایسے لگ رہا تھا کہ اس کو زندگی سے اور کچھ نہیں چاہیے سوائے یہ کہ وہ سب ایک ساتھ ہیں۔ سوچنے لگی کہ کیا اشرف المخلوقات میں بھی کوئی اس خاندان کی برابری کر سکتا ہے یا اتنا خوشحال اور مطمئن انسان بھی ہو سکتا ہے جتنا گھوڑوں کا یہ خاندان۔ میں نہیں جانتی تھی کہ  یہ ایک خاندان تھا یا محض ایک اصطبل میں رہنے والے چار گھوڑے، لیکن مجھے یہ دیکھ کر یقین سا ہو گیا کہ یقیناً یہ ایک خاندان ہی ہے، اور ایک خاندان کو خاندان کی قربت میں ایسا ہی ہونا چاہیے۔ نر اور مادہ اکٹھے ساتھ ساتھ چل رہے تھے ایسے جیسے خاندان کے لیئے مستقبل کی پلاننگ کر رہے ہوں جب کہ بچے اٹکیلایاں کرتے کبھی ان سے آگے نکل جاتے اور کبھی گھاس پر منہ مارنے میں اس قدر مصروف ہو جاتے کہ پیچھے رہ جاتے۔ ناران کاغان کی خوبصورتی خاص طور پر لولوسر کو ایکسپلور کرنا ابھی باقی ہے جو پھر کبھی سہی۔

Previous articleپاکستان سیاسی بے راہ روی سے جنسی بے راہ روی تک
Next articleتعزیرات پاکستان کی دفعہ 377 کا خاتمہ کیوں ضروری ہے؟