وقاص احمد

“کراچی ڈوب رہا ہے”، اس نے کامران خان کا پروگرام دیکھتے ہی مٹھیاں بھینچتے ہوئے کہا۔ “اچھا پھر کیا کیا جائے؟”، میں نے سوڈا واٹر کی ٹھنڈی ٹھار چسکی لیتے ہوئے پوچھا۔ “کیا مطلب ہے تمہارا؟ یعنی ہمیں کچھ نہیں کرنا چاہیے؟”، وہ غصے سے دانت کچکچاتا ہوا بولا۔ “نہیں نہیں! ایسی بات نہیں، چلو ایک ڈول ایک بالٹی اور وائپر لے کر چلتے ہیں طوفان کے پانی کو سمندر میں دھکیلنے کے لیئے”، میں نے ہنس کر کہا۔ اس کو غالباً میری بات بری لگی۔ “یہ سندھ گورنمنٹ کیا کر رہی ہے۔ اگر ہم دونوں کو ہی کام کرنا ہے تو مراد علی شاہ کس مرض کی دوا ہے؟”، میں نے اگلا ٹھنڈا ٹھار سپ لیا اور اتنے ہی ٹھنڈے لہجے میں پوچھا، “تو پھر کیا وزیر اعلیٰ بزدار صاحب کو بھجوا دیں؟ وسیم اکرم پلس ہیں آخر، پنجاب کے ساتھ ساتھ بہترین طریقے سے سندھ بھی سنبھال لیں گے”، اس طنز پر وہ تھوڑا سا جھینپ سا گیا “نہیں میرا یہ مطلب تو نہیں، بزدار بیچارہ تو….”، میں نے بات کاٹ کر اسے پر سکون لہجے میں کہا، “تو پھر وزیر اعلیٰ محمود خان کو بھیج دیا جائے؟ سنا ہے بی آر ٹی ایک دفعہ پھر مکمل ہوگئی ہے۔ ایک دفعہ سڑکوں سے بسیں گزار کر دیکھ لو، اگر گزر جاتی ہیں تو وزیر اعلیٰ صاحب بالکل فارغ ہیں کے پی کے میں”۔  اب کی بار اس نے شرمندگی چھپانے کے لیئے مصنوعی غصے کا سہارا لیا، “بکو مت! تمہیں طنز و مزاح سوجھ رہا ہے اور ادھر کراچی والوں کی زندگی اجیرن ہے” ، بھائی تو پھر اور کیا مشورہ دوں! بلوچوں سے آپ کی بنتی نہیں اور خاں صاحب کے زیر نگرانی وفاقی حکومت سے تو اسلام آباد میں بنی گالہ کے اطراف کا کچرا صاف نہیں ہوتا ورنہ خاں صاحب کو ہی بھیج دیتے”، میں نے تھوڑا سا اور تنکا لگاتے ہوئے کہا۔

اب کی بار میرے دوست نے فخریہ اور ذومعنی انداز میں کہا، “جی جی، خاں صاحب نے معاملات سنبھال لیئے ہیں۔ کراچی میں فوج بھجوا دی گئی ہے”، میں نے لاپرواہی سے پوچھا “فوج وہاں کیا کرے گی؟”، اس نے اسی انداز میں جواب دیا، “وہ جو نالائق اور نااہل سیاستدان بالخصوص سندھ اور کراچی والے نہیں کر سکتے”۔ میں نے موبائل اس کی طرف بڑھایا اور بولا، “یہ آج صبح دو ویڈیوز مجھے بالترتیب را اور موساد کی طرف سے موصول ہوئی ہیں۔ ایک میں چند جوانوں نے سڑک پر چلتی گاڑی روک کر اس سے کچھ کہا۔ گاڑی والا اپنی گاڑی سڑک کنارے کھڑے پانی میں لے گیا۔ جوانوں نے گاڑی کو دھکا لگانے کا پوز کیا، فوٹوگرافر نے تصویریں کھینچیں اس کے بعد گاڑی یہ جا اور وہ جا۔ دوسری ویڈیو میں ایک گٹر کے اوپر لگے اور چلتے واٹر پمپ کے پاس چند جوان اپنے افسر کی زیر نگرانی پہنچے اور سب نے پمپ پر ہاتھ رکھ کر چلانے کے مختلف اینگلز میں پوز کیئے، تصویریں کھینچیں اور پھر سب یہ جا اور وہ جا۔ اگر کام یہی ہے تو تم ٹھیک کہتے ہو، میں نے سوائے شہباز شریف کے کسی اور “نااہل” سیاستدان کو کبھی ایسے کام کرتے نہیں دیکھا۔”

دوست بہت غصے میں آگیا۔ غالباً وجہ یہ تھی کہ میں نے ایڈوانس میں ہی ان ویڈیوز کا سورس را اور موساد بتا دیا تھا اور ان کو یہ الزام لگانے کا موقع نہیں ملا مگر پھر بھی کسی قدر امید سے بولے، “چلو پانی نہ نکال سکیں، کم از کم ریلیف کے کام تو کر لیں گے”، میں نے ایک اور ٹھنڈی چسکی بھرتے ہوئے کہا، “اگر ان کو ریلیف کے لیئے بلوایا ہے تو مجھے اس بیوقوف سے ملواؤ جو اتنی بڑی اور مہان فوج کو اتنے معمولی سے کام کے لیئے زحمت دے رہا ہے۔ دوست بولا “کیا مطلب؟” میں نے کہا، “یار ابھی دو سال پہلے کی بات ہے کہ ایک دندان ساز فٹ ڈیڑھ فٹ پانی میں لائف جیکٹ پہنے، لائف بوٹ میں سوار DSLR کیمروں سے لیس ہوکر کراچی کے لوگوں کو ریسکیو کر رہے تھے۔ سنا ہے پارلیمنٹ حملہ کیس میں اشتہاری ہوکر آج کل ایوان صدر میں چھپے بیٹھے ہیں۔ ان پر اور ان کی لائف بوٹ پر ٹاکی شاکی مارو، انہیں باہر نکلوا کر تھوڑی دھوپ لگواو، ویلا بیٹھا مہینے کے ساڑھے آٹھ لاکھ روپے کی روٹیاں توڑ رہا ہے تھوڑا اپنے شہر کے لوگوں کی مدد ہی کر دے”۔ دوست نے آخری پتہ کھیل دیا، “تمہیں تکلیف اصل میں یہ ہے کہ اس شہر نے تمہاری پارٹی کو ووٹ نہیں دیا اس لیے تمہاری بلا سے جو مرضی وہاں ہوتا پھرے۔ تمہیں ان لوگوں کی تکلیف نہ نظر آتی ہے نہ ہی تمہیں اس کا کوئی احساس ہے”، میں نے اپنے سوڈے کا آخری گھونٹ لیا اور بولا “نہیں میرے پیارے! اس میں ووٹ ملنے یا نہ ملنے کا کوئی چکر نہیں”، وہ بولا “تو پھر؟”

میں نے کہا “تمہیں یاد ہے اب سے تین ساڑھے تین سال پہلے یکدم ڈیم ڈیم کی تان پر رقص شروع ہوا تھا۔ دن کے 24 گھنٹوں میں سے 25 گھنٹے نکال کر ماہرین ٹاک شوز میں بٹھا بٹھا کر ہمیں بتایا جاتا تھا کہ 2025 میں پاکستان کا پانی ختم ہوجائے گا۔ ملک کا چیف جسٹس تک اس مہم کا لیڈر بنا ہوا تھا۔ ایک سیاسی پارٹی کے لوگ تو اس حد تک جذباتی ہوگئے تھے کہ ان کے قریب سے گزرتے ہوئے ڈر لگتا تھا کہ ڈیم کا نعرہ لگا کر پھٹ ہی نہ جائیں۔ چند لوگوں کا تو نعرہ تھا کہ پہلے ڈیم پھر الیکشن۔ پھر اس کے چند ماہ بعد پہلے احتساب پھر انتخاب کا نعرۂ قادریہ بلند ہوا اور قریب قریب ہر ٹی وی چینل پر ایک ہی بات دہرائی جانے لگی کہ بہت بے رحمانہ احتساب کا فیصلہ ہوچکا ہے اور انتخابات کا کوئی امکان نہیں۔ ایسے ہی ہوا تھا ناں؟”، دوست نے آگے سے کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے بات آگے بڑھائی “کدھر گیا وہ ڈیم اور ڈیم فنڈ، کدھر گئے وہ زندگی موت کے مسئلے؟ کدھر گئیں وہ قحط کی پیش گوئیاں، کدھر گیا وہ بے رحمانہ احتساب جس کی وجہ سے انتخابات بھی نہیں ہونے تھے؟آج بھی ملک میں انہی دو تین ڈیمز پر کام ہورہا ہے جن پر ن لیگ اس وقت بھی کام کروا رہی تھی جب ملک کا چیپ جسٹس گلی محلے کے لفنگوں کی طرح اس پر نعرہ بازی کرواتا تھا۔ رہا احتساب، تو جن کا احتساب ہونا تھا وہ ایک بار پھر اقتدار میں ہیں۔ نتیجہ؟”

دوست تنک کر بولا “لمبی چوڑی کہانیاں مت سناؤ، ٹو دا پوائنٹ اپنا مؤقف بتاؤ اس معاملے پر”۔ پھر میں نے کہا “بھائی میرا مؤقف یہ ہے کہ پاکستان کے حالات میں یہ مسئلہ کوئی بڑا مسئلہ ہے ہی نہیں۔ ہاں اس کو بڑا مسئلہ بنا کر کچھ کھینچا تانی، کچھ لین دین، کچھ سودے بازی کی کوشش ہے۔ اگر کل پیپلز پارٹی وہ لین دین کرنے پر آمادہ ہوجائے تو اگلے دن کامران خان کے پروگرام کا موضوع بھی تبدیل ہوجائے گا، ریلیف والے فوجی دستے بھی اپنی فوٹو گرافی ادھوری چھوڑ کر واپس نکل لیں گے اور خاں صاحب سمیت پوری انصافی قیادت کو لگی دردِ کراچی کے پیچش بھی ٹھیک ہوجائے گی۔ رہے کراچی والے تو وہ اسی پانی میں تیرتی مچھلیاں پکڑ کر تل تل کر کھائیں گے اور ملکی میڈیا اس پر مثبت رپورٹنگ کرے گا کہ زندہ دلانِ کراچی کو بارش اور طوفان بھی پریشان نہ کر سکے اور وہ اس میں واٹر گیمز کھیل رہے ہیں”۔  میرے دوست نے مجھ پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا “کبھی اپنے آپ کو پارٹیوں کی سطح سے بلند کر کے ایک سچے پاکستانی کی طرح بھی سوچو” ہو سکتا ہے تمہاری سوچ کا زاویہ تبدیل ہوجائے 

میں نے کہا “کیا تم واقعی چاہتے ہو کہ میں ایک سچے اور کھرے پاکستانی کی طرح سوچوں؟ واقعی! سوچ لو ایک بار”، اس نے کہا “ہاں”  میں نے جواباً سوڈے والے کو آواز لگائی “استاد دو ٹھنڈے ٹھار سوڈے! ایک میرے یار کو پلاؤ اسے بہت گرمی چڑھی ہے ۔!chill اور ایک میرے یار کے لیئے۔ سوڈا پی اور انجوائے کر۔ کراچی والے ہی ڈوبے ہیں کون سا ہم تک پانی پہنچا ہے۔ جب اپنے سر تک پانی آئے گا تو دیکھی جائے گی”. میرا دوست دیدے پھاڑ کر میرے طرف حیرت سے دیکھ رہا تھا۔ میں نے کندھے اچکا کر کہا “میں نے پہلے ہی تمہیں وارننگ دے کر پوچھا تھا کہ کیا تم واقعی چاہتے ہو کہ میں ایک سچے اور اصلی پاکستانی کی طرح سوچوں؟”

Previous articleکمراٹ ویلی: “رل وی گئے تے چس وی نہی آئی”
Next articleاحمد نورانی کے انکشافات پر مجرمانہ خاموشی