ارسلان اسحاق

ہر طرف عالمی وباء کرونا کا بول بالا ہے۔ دنیا کرونا کے خلاف اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لاتے ہوئے حالت جنگ میں ہے۔ انسان جو کچھ عرصہ قبل اپنی ایجادات اور ترقی پر اتراتا پھر رہا تھا اور جدید ترین دنیا میں رہنے کا دعویدار تھا آج بے بسی کی تصویر بن کر ایک دم خاموش سا ہو گیا ہے۔ دنیا کے وہ ممالک جو چند ماہ قبل ایٹمی ہتھیاروں اور جنگی جہازوں کی دوڑ میں تھے اچانک رُک سے گئے ہیں۔ مذاہب، عقائد اور مسلکوں کے بیوپاری بھی گہری سوچ میں ڈوبے نظر آرہے ہیں۔ پورے عالم میں سناٹا ہے۔ دنیا منجمد ہوچکی ہے۔ اس ساری صورتحال میں پوری دُنیا کی نظریں ایک نقطہ کی طرف مرکوز ہیں اور وہ نقطہ سائنسدان اور سائنسی لیبارٹریاں ہیں۔

کرونا نے جہاں دنیا کو احساس دلایا ہے کہ اس کی ترقی ادھوری ہے، اس کی ترجیحات غلط ہیں، وہیں دنیا میں نافذ نظام زر اور صحت کے شعبہ کی خستہ حالی کو بھی بےنقاب کیا ہے۔ اس وقت جب پوری دنیا کے سائنسدان اس وائرس کی ویکسین بنانے میں مصروف ہیں وہیں بعض عوامی حلقوں میں اس بحث کا آغاز بھی ہو چکا ہے کہ کرونا کے بعد دنیا کیسی ہو گی، کیا اقوام عالم اس وباء کے بعد بلاتفریق مذہب و ملت عالمی اتحاد  کا آغاز کریں گے؟

 کیا محنت کش طبقہ انگڑائی لے گا اور نظام زر کو اکھاڑ پھینکنے میں کامیاب ہوگا؟

 کیا دنیا ایک بہترین مستقبل کے لیے ایٹمی ہتھیاروں اور انسانیت کو تباہ کرنے والی صنعتوں کے بجائے صحت اور تعلیم پر سرمایہ کاری کرے گی ؟

 کیا انسان اس آفت سے گزر کر بہتر سماج کی بنیاد رکھ سکتا ہے ؟ یقیناً یہ وہ سوالات ہیں جو بیدار ذہنوں میں وقتاً فوقتاً آتے رہتے ہیں 

ان سوالات کے جوابات جاننے کے لیئے ہمیں اس عالمگیر وباء کے دوران دنیا کے رویوں کو پرکھنے کی ضرورت ہے اور یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے اس آفت سے کیا سیکھا ہے۔ کرونا نے جہاں ہماری آنکھوں پر سے اندھی تقلید کی پٹی کھولی ہے وہی ہمیں یہ درس بھی دیا ہے کہ اے انسان! تمہاری ترقی ادھوری ہے، تمہاری تحقیق ناکافی ہے، تمہارا علم محدود ہے اور تمہارے نظام میں ابھی بھی قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ کرونا کے دنوں  میں اب تک جو بات خاص طور پر دیکھنےکو ملی وہ دنیا بھر کے مذہبی طبقے کا رویہ ہے۔ وائرس کے دوران دنیا بھر میں موجود مذہبی لوگوں کا رویہ چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں تقریباً ایک جیسا رہا ہے۔ امریکہ، اسرائیل، برطانیہ، ہندوستان، پاکستان اور ایران کے اکثریتی مذہبی طبقے نے ابتدائی طور پر سماجی فاصلے کے اصول کو پیروں تلے روند کر بیماری کو بڑھاوا دیا۔

صحت اور تعلیم  کے شعبوں میں سرمایہ کاری اور کام کرنے والے ممالک کو اس وباء سے بہتر انداز میں لڑتے دیکھا جاسکتا ہے۔ جس کی عملی مثال چین اور کیوبا جیسے ممالک ہیں۔ جن کے شعبہ صحت سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے ملک کے ساتھ ساتھ دوسرے ممالک کی امداد کے لیئے بھی کام کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ مگر ایٹمی ہتھیاروں، ٹینکوں اور جنگی جہازوں کو اپنی ترجیحات میں رکھنے اور اپنے بجٹ انہی شعبوں میں لٹانے والے ممالک میں آج ڈاکٹرز ماسک اور گاؤن نہ ملنے پر احتجاج کرتے دیکھائی دے رہے ہیں۔

معاشی نظام کو دیکھا جائے تو دنیا کا سرمایہ دار طبقہ لاک ڈاؤن کے دوران اچھی گھریلو زندگی سے لطف اندوز ہورہا ہے تو غریب طبقہ فاقوں سے مر رہا ہے۔ اگر محنت کش طبقے نے اس وباء کے بعد اپنی سمت کا تعین نہ کیا تو سرمایہ دار طبقہ اس وباء کو آنے والے بحران کی وجہ بتا کر محنت کش طبقے کا استحصال جاری رکھے گا۔ اگرچہ چند حکومتوں نے اپنی عوام کے لیے ریلیف کے اعلانات کیئے ہیں مگر مجموعی طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کرونا نے موجودہ نظام زر کے غیر انسانی رویوں اور ترجیحات کو بے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ انسانی شعور کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔

اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اپنی سمت کا تعین کرکے ایک نئی انسانی، ترقی پسند اور سب سے بڑھ کر حقیقی دنیا کی بنیاد رکھیں۔ جہاں وسائل کی منصفانہ تقسیم ہو، انصاف ہو، تعلیم اور صحت کا جدید نظام ہو، سوال کرنے کی اجازت اور جواب دینے کا رجحان ہو، انسان کی محنت اور سرمایہ انسان کی ترقی اور فلاح پر لگے نہ کہ تباہی و بربادی  پر، جہاں نفرتوں کا خاتمہ اور محبتوں کی فراوانی ہو۔ ایک ایسا سماج جس کا مذہب انسانیت اور مسلک محبت ہو۔

Previous articleصاحب رشوت نہیں لیتے!
Next articleراجہ جی اب سنگھاسن سے اترو بھی ناں!