رضوان حیدر نقوی

دُنیا کے مفکّرین اور تجزیہ نگار اس فکر اور سوچ میں ہیں کہ کرونا کے بعد دُنیا کا مستقبل کیا ہو گا؟ بعض مفکّرین کے مطابق دنیا کی موجودہ حکمرانی خطرے میں ہے اور دنیا بالکل تبدیل ہونے جا رہی ہے یعنی ایک نیا نظام ہوگا اور حکمرانی کا طریقہ بھی تبدیل ہوجائے گا۔ بعض مفکّرین کا خیال ہے کہ ہم آخرالزّماں کے نزدیک پہنچ چکے ہیں اور منجئ بشریت امام مہدی علیہ السّلام کا ظہور نزدیک ہے ۔

کرونا کو تیسری جنگ عظیم کا نام بھی دیا جارہا ہے کہ جس نے واقعی پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کرونا وائرس، سونامی سے بھی بدتر ہے کیونکہ جس طرف بھی رخ کر رہا ہے تباہی پھیلا رہا ہے۔ کرونا کا ڈر اور خوف اپنی جگہ پر کرونا کے بعد دنیا کا کیا ہوگا یہ اس سے بھی زیادہ اہم ہوگیا ہے۔ بہت سے اہم سوالات جنم لے رہے ہیں کہ کرونا کے بعد دنیاکا کیا ہوگا؟  کیا اہم واقعات رونما ہونے والے ہیں؟ کیا یہ تیسری جنگ عظیم ہے؟ کیا دنیا کی اقتصاد تباہی کی طرف جا رہی ہے اور کیا قحط کا زمانہ آنے والا ہے؟ کیا لوگ ایک ٹیشو پیپر کے لئے ایک دوسرے پر اسلحہ تان لیں گے؟ کیا آخرالزماں نزدیک ہے اور امام مہدی علیہ السلام کا ظہور ہونے والا ہے؟ کیا دنیا اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہے؟ اور کئی اس طرح کے سوالات کہ آخر کار کیا ہو گا؟

دنیا کے طاقتور ترین ممالک امریکہ اور یورپ اپنے آپ کو دنیا کا نجات دہندہ سمجھنے والے ممالک کو بھی یہ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ اس وائرس سے کیسے نمٹا جائے یہ ممالک بھی اس وائرس کے مقابلے میں عاجز دکھائی دیتے  ہیں۔ ڈر اور خوف کے مارے اس کا اعتراف بھی کر رہے ہیں جس کی ایک مثال جرمن ریاست کے وزیر خزانہ تھامس شیفر کی خودکشی ہے۔

امریکہ کے معروف مفکراور تجزیہ نگار عمانوئل والرسٹائین (Immanuel Wallerstein)  جو کہ ماہرعمرانیات (Sociologist) اور ماہر معاشیات (Economist) بھی ہیں اپنی معروف کتاب “دنیا کا جدید نظام” The Modern World System  میں اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ دنیا کا نظام دو قطبی یعنی شرق و غرب سے نکل کر تین قطبی یا چند قطبی کی طرف جا رہا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ خطرناک وائرس دنیا کے موجودہ نظام کو تباہی کی طرف اور اس کے ساتھ ساتھ جدید نظام کی بنیاد بھی رکھنے جا رہا ہے؟  اور حقیقت میں یہ وائرس ایک بائیولوجیکل ہتھیار (Biological Weapon) ہے یا ایک قدرتی وائرس (Natural Virus) ہے؟ دنیا کی بعض معروف شخصیات کے مطابق اس چیز کا قوی امکان ہے کہ یہ ایک بائیولو جیکل جنگ ہے بہرحال اس کی حقیقت کچھ عرصہ تک واضح ہو جائے گی کہ کہانی کیا ہے۔

  کرونا کے بعد کی کہانی کیا ہو گی اس کے بارے میں  عمانوئل والرسٹائین (Immanuel Wallerstein) کا مقالہ “امریکہ کی تنزّلی کے اثرات” (Consequences of  U.S. Decline) جو ۲۰۱۳ میں شائع ہؤا، اس میں راقم اس بات پر تاکید کرتا ہے کہ امریکہ اپنے اختتام کے آخری مرحلہ میں داخل ہو چکا ہےاور ہم آنے والے وقت میں دنیا میں ایک جدید نظام کا مشاہدہ کریں گےجس میں سپرپاور امریکہ نہیں ہو گا اور اس کا متبادل چین ہو سکتا ہے لیکن تجزیہ نگار کے مطابق امریکہ کے بعد کسی ملک کو دنیا پر حکمرانی کرنے کے لئے نصف صدی کی ضرورت ہو گی جو ایک طولانی عرصہ ہے جس میں کئی اہم واقعات رونما ہو سکتے ہیں امریکہ کے فورا بعد شاید کوئی بھی ملک  دنیا پر حکمرانی کرنے کے قابل نہ ہو اور دنیا کو کنٹرول کرنا ایک ملک کے بس کی بات نہیں ہو گی بلکہ ممکن ہے چند ممالک مل کر دنیا میں حکمرانی کریں۔

  یہ مقالہ ۲۰۱۳ میں لکھا گیا جس  میں راقم نے پیش گوئی کی ہے کہ امریکہ کو عراق اور افغانستان سے بری طرح شکست کھا کر نکلنا پڑے گا اور ڈالر کی جگہ چین کی کرنسی یوان  یا روس ، چین، ترکی، ایران، پاکستان اور ایشیا کے کچھ اور ممالک مل کر ڈالر کے متبادل کوئی کرنسی متعارف کروائیں گے جس سے امریکہ اس ضعیف اور ناتوان بوڑھے شخص کی طرح ہو جائے گا جو فقط اپنے زندہ ہونے کا اظہار کر سکے گا اور یورپی ممالک بھی اسے کوئی گھاس نہیں ڈالیں گے۔  

مشرق وسطی کی صورت حال کو دیکھ کر بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ اب مشرق وسطی میں آخری سانسیں لے رہا ہے اور کسی صورت بھی اس خطے میں کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔ ایران کے سپاہ پاسدران کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد امریکہ کی کامیابی  مشرق وسطی میں مشکل سے ناممکن تک کا سفر طے کر چکی ہے۔

امریکہ کی ایران سے دشمنی بھی اسی وجہ سے ہے کہ وہ اپنے زوال کا سبب ایران کو سمجھتا ہےایران خطے میں امریکہ کی ہر پالیسی کی مخالفت بھی کرتا ہے اور اس کا راستہ بھی روکتا ہے جس کی وجہ سے امریکہ ایران کو اپنا سب سے بڑا دشمن تصور کرتا ہے اور اس پر سخت اقتصادی پابندیاں لگاتا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای امریکہ کے بارے میں یوں پیش گوئی کرتے ہیں کہ جس طرح اتنا بڑا، عظیم اور شاندار ٹائیٹینک جہاز اپنے آپ کو ڈوبنے سے نہیں بچا سکا اسی طرح امریکہ بھی اپنے آپ کو نہیں بچا سکے گا اور غرق ہو جائے گا۔

کرونا فقط امریکہ کے زوال کے طرف اشارہ نہیں کر رہا بلکہ اس بات کی طرف بھی متوجہ کررہا ہے کہ کرونا چاہے بائیولوجیکل اسلحہ ہو یا نہ ہو تب بھی اس کے بعد دنیا کا نظام یکسر تبدیل ہو جائے گا۔ کرونا یہ بھی بتا رہا ہے کہ ایٹم بم دنیا کا قدیمی اسلحہ ہو چکا ہے اور اب دنیا پر ایٹم بم نہیں بلکہ بائیولوجیکل سائنس حکمرانی کرے گی۔

  دوسری جنگ عظیم میں سب لوگ یہ  خیال کر رہے تھے کہ یہ آخرالزمان ہے اور امام مہدی علیہ السلام کا ظہور نزدیک ہے لیکن دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ ایک نئے اقتصادی اور صنعتی ترقی کے دور میں داخل ہو گیا اور دنیا میں ایک جدید نظام کا آغاز ہو گیا جس کے بعد یورپ نے اقتصادی میدان میں اس قدر ترقی کی  کہ یورپی یونین کی تشکیل کے ساتھ جرمنی، فرانس اور انگلینڈ دنیا کے طاقتور ترین ممالک میں شامل ہو گئے۔

کرونا کے بعد قوی امکان ہے کہ امریکہ کی قیادت میں قائم صنعتی ممالک زوال پاجائیں اور دنیا کی حکمرانی اس کو نصیب ہو جو کرونا وائرس کی ویکسینیشن تیار کرے گا۔ عمونائل کے مطابق کیا چین دنیا کی نجات کا سبب ہو گا؟ موجودہ حالات کے مطابق چین اپنے آپ کو ثابت کر رہا ہے کہ وہ دنیا پر حکمرانی کی اہلیت رکھتا ہے۔

  دنیا کے نظام کا چرخہ چل رہا ہے لوگ پیدا بھی ہو رہے ہیں اور مر بھی رہے ہیں یہ دنیا اپنے اختتام کی طرف گامزن ہے۔ بعض مفکرین کے مطابق کرونا امریکہ کے زوال اور دنیا کے جدید نظام کا پیش خیمہ ہو گا۔ مذہبی پیشواوں کے مطابق آخرالزمان اور امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کا وقت ہے اور علمی نظریے کے مطابق دنیا کی تاریخ کا اختتام ہے۔

Previous articleافغان عوام کا دھندلا مستقبل
Next articleکرونا کی غلط تشخیص اور اس کے نتائج