عابدحسین

پاکستان میں کرونا کے حوالے سے کئی ایسی خبریں پڑھنے کو ملی کہ مریض کرونا کے علاج پر تھا لیکن ٹیسٹ رزلٹ نیگیٹو آگیا یا مریض فوت ہوگیا لیکن بعد میں ٹیسٹ رزلٹ نیگیٹو آیا۔ ایسی ہی روداد ضلع مالاکنڈ، تحصیل درگئی کے رہائشی سردار خان ہمدان  کی بھی ہے۔ ان کے والد صاحب تین روز پہلے وفات پا گئے ہیں۔ اللہ مرحوم کے درجات بلند فرمائے۔ مرحوم کو کرونا انفیکشن کے شبہ میں آئسولیشن میں رکھا گیا تھا اور کرونا سے بچاؤ کا علاج چل رہا تھا۔ یوں تو مرحوم کا سوئم بھی ہوچکا ہے لیکن ٹیسٹ رزلٹ اب آیا ہے اور وہ بھی نیگیٹو۔ سردار خان ہمدان کا کہنا ہے کہ اب اس کے والد کے موت کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟

انتظامیہ پر؟  جو ہر کسی کو کرونا کے شبہے میں گھر سے اٹھا کر قرنطینہ منتقل کردیتے ہیں یا محکمہ صحت اور ڈاکٹرز حضرات پر کہ جو دوسرے ٹیسٹ وغیرہ کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کرتے بلکہ مریض کے خون کا نمونہ لیبارٹری  کو بھیجا جاتا ہے اور اس کا انتظار کیا جاتا ہے۔ اس سے پہلے نہ کسی اور قسم کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے اور نہ ہی کوئی اور علاج۔ بلکہ چند اقسام کی دوائیں جو کہ ملیریا کے علاج میں بھی استعمال ہوتی ہیں ان پر مریض کو رکھا جاتا ہے اور ان کے مضر اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔ سردار خان کا کہنا تھا کہ والد کو قرنطینہ سینٹر لے جایا گیا لیکن اس سے پہلے ان کو بھی گھر پر قرنطین کیا گیا تھا۔ والد صاحب کے جنازے کے وقت ضلعی انتظامیہ، مالاکنڈ  اسٹنٹ کمشنر درگئی، محکمہ صحت مالاکنڈ ، پولیس اور فوج سمیت تمام اداروں نے احتیاط کے نام پر جو سلوک روا رکھا وہ بھی ہم نے اس لیئے برداشت کیا کہ ہماری وجہ سے کسی اور کو تکلیف نہ ہو لیکن اب جبکہ ٹیسٹ رزلٹ نیگیٹو آیا ہے تو ہم کس کو موردِ الزام ٹہرائیں؟

سردار خان صاحب کا کہنا تھا کہ ایک تو ضلعی انتظامیہ سے گلہ ہے کہ ڈپٹی اور اسٹنٹ کمشنرز نے فرمان جاری کیا ہے کہ خواہ آپ ہسپتال جائیں،  خود یا کسی مریض کو لے کر تو انتظامیہ کو آگاہ کریں۔ اس کے بعد وہ فوراً آپ کو گھر میں قرنطین ہونے کے احکامات جاری کرتے ہیں جبکہ آپ کے مریض کو تو سینٹر منتقل کیا جانا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ میرے والد تو نہیں رہے لیکن دوسروں کے والدین یا بچوں کے ساتھ ایسا سلوک نہ ہو اس کو یقینی بنایا جائے۔ میرے والد مرحوم کی طرح کوئی اور کرونا کے نام پر غلط تشخیص و علاج اور لاپرواہی کے نظر نہ ہو۔ انہوں نے یہ درخواست بھی کی کہ اگر انتظامیہ اور محکمہ صحت کے اہلکار کسی میں کرونا وائرس انفیکشن کا شبہ پائیں تو پہلے اس کے دوسرے تمام ممکنہ ضروری ٹیسٹ کروائے جائیں تاکہ معلوم ہو کہ مذکورہ شخص کو کرونا انفیکشن ہوا ہے یا کوئی اور بیماری ہے۔ سردار خان نے وفاقی و صوبائی حکومتوں، ضلعی محکمہ صحت اور انتظامیہ سے یہ گلہ بھی کیا ہے کہ مالاکنڈ کے ہسپتال اور قرنطین سینٹرز میں حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ڈاکٹرز،  نرس اور پیرامیڈیکل اسٹاف کے پاس بھی حفاظتی کٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ مزید یہ کہ ان میں سے بعض کی غفلت صحت مند انسان کو بھی بیمار بنا دیتی ہے۔ ذہنی طور پر اتنا دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ بندہ کرونا کے بجائے ذہنی کوفت اور ڈر کی وجہ سے بعض مرتبہ دل کا دورہ پڑنے سے بھی فوت ہوجاتا ہے۔ 

راقم کا اپنا خیال ہے اور جو خود دیکھا بھی ہے کہ ایک تو حکومت کی طرف سے ڈاکٹرز کے لیے ضروری حفاظتی کٹس بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ دوسری جانب ڈاکٹرز صاحبان بھی ہر کسی کو کرونا کا مریض قرار دے کر دوسرے ٹیسٹ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے نتیجتاً غلط میڈیکیشن فائدے کے بجائے نقصان کا سبب بنتی ہے اور ایسی صورتحال میں مریض بھی  ذہنی اذیت کی وجہ سے برین ہیمرج یا ہارٹ اٹیک سے چل بستا ہے۔ التجا ہے کہ اس نازک صورتحال میں حکومت کو ان باتوں کی طرف دھیان دینا چاہیے ورنہ پھر مریض گھر میں مرنا زیادہ پسند کرے گا اور ہسپتال یا قرنطینہ جانے سے گھبرائے گا۔

Previous articleکرونا اور دنیا کا مستقبل
Next articleصاحب رشوت نہیں لیتے!