سردار مہتاب اکرم خان

مسئلہ کشمیر: 27 ستمبر کے بعد کیا ہو گا؟

ستائیس ستمبر کو وزیراعظم پاکستان عمران خان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ ہندوستان پر اس تقریر سے کیا فرق پڑے گا یہ سوال ابھی حل طلب ہے لیکن 27 ستمبر کو مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو کو تقریباً 54 دن گزر چکے ہوں گے۔  ہندوستانی بنیے کی یہ سوچ واضح ہو چکی ہے کہ کشمیریوں کو اس قابل ہی نہیں چھوڑا جائے کہ وہ کسی احتجاج کے قابل رہ سکیں۔ اقوام متحدہ اور اقوام عالم 72 سالوں سے سو رہی تھی اور 5 اگست2019 کو ہندوستان کے یک طرفہ ظالمانہ فیصلے کے بعد ابھی تک خواب غفلت میں سو رہی ہے۔ 27 ستمبر 2019 کو وزیراعظم پاکستان عمران خان ایسا کونسا حربہ یا تدبیر اختیار کریں گے کہ دنیا جاگ سکے اور مسئلہ کشمیر پر ہندوستان سے باز پرس کر سکے؟

اس تمام تر صورتحال میں بیس کیمپ آزاد کشمیر کے باسیوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی کو واضح طور پر پوری دنیا میں دیکھا گیا ہے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کے بدلتے ہوئے تیور بھی پاکستان کے پارلمینٹرین، سینٹ چیئرمین اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یقیناً بھرپور انداز میں دیکھ اور سن لیے ہیں۔ سب سے زیادہ تشویشناک صورتحال آئندہ 4 اکتوبر کو جے کے ایل ایف کی جانب سے کنٹرول لائن توڑ دینے والی کال والے دن دیکھنے میں آ سکتی ہے۔ ذاتی حیثیت سے پہلی مرتبہ میں نے وہ درد اور شدت  آزاد کشمیر کے شہریوں میں مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کی جانب سے جاری کرفیو اور ظالمانہ اقدامات کے خلاف محسوس کی ہے اور اس کے ردعمل میں ہندوستان کے خلاف آزاد کشمیر کے بچوں جوانوں اور بوڑھوں میں ایک مزاحمتی جذبہ پایا ہے۔ مجھے چودہ اور پندرہ سال کے ایسے بچوں سے بھی بات کرنے کا موقع ملا جنہیں اس بات کا ادراک ہے کہ پاکستان اور ہندوستان 72 سالوں سے ٹیبل ٹاک کر رہے ہیں اور کئی جنگوں کے باوجود مسئلہ کشمیر کو حل نہیں کر سکے۔ اسلئے اب مسئلہ کشمیر کا واحد حل کنٹرول لائن کو توڑنے کی صورت میں ہی ممکن ہے۔ آزاد کشمیر جہاں تقریباً ہرخاندان کا ایک شخص پاکستان کی افواج سے منسلک ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ پاک افواج کے کشمیری حاضر سروس فوجی جوان بھی پاک افواج کو چھوڑ کر کنٹرول لائن توڑنے کو ترجیح دینا چاہتے ہیں۔ اسی طرح ایک بڑی تعداد جو آزاد کشمیر کے ریٹائرڈ فوجیوں کی ہے وہ بھی مقبوضہ کشمیر کی دن بدن بگڑتی ہوئی صورتحال سے متاثر ہو کر کنٹرول لائن کے اس پار جا کر اپنے مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

پوری دنیا بشمول ہندوستان کو اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران مسئلہ کشمیر سہرفہرست رکھتے ہوئے اس مسئلہ کو پرامن حل کی جانب لیکر جانا ہو گا۔ وگرنہ کشمیری عوام وہ لاوہ بن کر ابھریں گے جس کی لپیٹ میں ہندوستان اور پاکستان کے عوام بھی آ سکتے ہیں۔ دونوں ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ممالک کی افواج میں جنگ کی سی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ کشمیری عوام خوف، ذلت و رسوائی کی زندگی سے تنگ آ چکے ہیں اور اس ذلت کی زندگی سے موت کو ترجیح دے رہیں ہیں۔ کشمیری عوام کے دل سے موت کا خوف ختم ہو چکا ہے جس کی مثال حالیہ دنوں میں کنٹرول لائن توڑنے کی متعدد چھوٹی  چھوٹی کوششوں کے دوران بارہا دیکھا گیا ہے۔ صورتحال اس حد تک بگڑ چکی ہے کہ آزاد کشمیر کی عوام آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت اور تمام تر سیاسی نعروں سے بیزار نظر آتی ہے۔ اس وقت مسئلہ کشمیر پر حکومت پاکستان کی پالیسی کے حوالے سے آزاد کشمیر کے عوام میں خدشات بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔

حکومت پاکستان اور خصوصاً وزیراعظم پاکستان عمران خان کو   امید ہے کہ وہ اپنے خطاب سے دنیا کے ضمیر کو جگا کر مسئلہ کشمیر کو حل کی جانب لیکر جا سکتے ہیں لیکن ہندوستان کی ہٹ دھرمی اور مودی کی ہندوتوا پالیسی کو دیکھ کر لگ رہا ہے کہ عالمی منظر نامے میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہندوستان نے کئی ممالک کو مسئلہ کشمیر پر اپنے موقف کے ساتھ ملایا ہوا ہے۔ دنیا ہندوستان کی ابھرتی ہوئی معیشت اور طاقت کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔ جبکہ پاکستان اپنے دوست ممالک کی حمایت کا محتاج اور کشمیری عوام کی مظلومیت کو اجاگر کر کہ مسئلہ کشمیر کو دنیا کے طاقتور ممالک سے دخل اندازی کروانے کا خواہاں نظر آتا ہے۔

ستائیس ستمبر کو وزیراعظم پاکستان کی تقریر کے بعد بھی اگر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کوئی مثبت اقدامات نظر نہ آئے تو پھر کشمیری عوام خوف کی دیواروں کو توڑنے پر مجبور ہوں گے اور آر پار خونی لکیر روندنے کی کوشش میں شاید آزاد کشمیر کی پولیس ناکافی ثابت ہوگی۔ اگر آزاد کشمیر پولیس کی معاونت کے لیے پاکستان سے پولیس یا پاک افواج کی خدمات حاصل  کی گئیں تو اس کا ردعمل بھی انتہائی بھیانک ہو سکتا ہے کیونکہ دشمن آزاد کشمیر کے عوام میں بے چینی پھیلا کر آزاد کشمیر اور پاکستان کے قانون نافذ کرنیوالے اداروں میں تصادم پیدا کر کے مقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

Previous articleسائنسی تحقیق کے تقاضے اور حکومتی سنجیدگی
Next articleگلگت بلتستان اور مسئلہ کشمیر