شیزا نذیر

خدا خدا کر کے لاک ڈاؤن کھلا، تو ہمراہی ٹورازم نے کمراٹ ویلی کا پلان بنایا۔ چند سال ہوئے لوگوں نے یہاں جانا شروع کیا ہے۔ اس جگہ کی شہرت سن کر یوٹیوبرز بھی پیسہ خرچ کرکے اس ویلی میں جا پہنچے اور ویلی کے حسین مناظر کم اور اپنی ویڈیو زیادہ بنا بنا کر شئیر کرنے لگے۔ جیسے ہی کمراٹ ویلی کا پلان بنانا شروع کیا تو میں نے انٹرنیٹ پر اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنا شروع کر دی۔ جو کچھ یوں تھیں کہ کمراٹ ویلی تحصیل اپر دیر کے۔ پی۔ کے میں واقع ہے جو کہ تھل نامی قصبے سے کوئی پینتیس منٹ کے فاصلے پرواقع ہے۔ ہر سال گرمی کے موسم میں پاکستان کے مختلف علاقوں سے ہزاروں سیاح اس ویلی کے سبزے اور ٹھنڈے موسم کی وجہ سے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ ویلی ہری بھری چراگاہوں اور برف پوش پہاڑوں سے ڈھکی ہوئی ہے۔ وادی میں دریائے پنجگورہ اور دھند میں لپٹے ٹیلے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔ وادی پھولوں اور جانوروں کا مسکن ہے۔ انٹرنیٹ پر یہی بتایا گیا ہے کہ وادی کے ٹھنڈے موسم کی وجہ سے سیاح یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ (نہ ٹھنڈا موسم، نہ برف پوش پہاڑ، نہ دھند کی لپیٹ میں ٹیلے دیکھنے کو ملے)۔ وادی میں دیودار کا درخت عام ہے۔ نیلم ویلی کے مقابلے میں اگرچہ وادی کم گرین ہے لیکن دیودار کے درخت وادی کی اس کمی کو پورا کر دیتے ہیں۔ (ایک یہی بات درست تھی)۔

اب آتے ہیں یوٹیوبرز کی نظر میں کمراٹ ویلی کیسی ہے تو میں نے جتنی بھی ویڈیوز دیکھیں اس میں یوٹیوبرز بس خود کو ہی ویڈیو میں دکھاتے رہتے ہیں اور مسلسل یہ بھی کہتے رہتے ہیں کہ وادی بہت خوبصورت ہے، منظر بہت خوبصورت ہیں لیکن کوئی ایسا منظر دکھایا نہیں گیا تھا جو میری توجہ کا مرکز بنتا۔ لہذا یوٹیوبرز کو چھوڑ کر میں نے وکی پیڈیا کی معلومات پر بھروسا کیا اور پلان اوکے کر دیا۔ ایک اور خاص ویڈیو نظروں سے گزری جو ہمارے وزیراعظم عمران خان کی تھی جب انہوں نے 2016 میں ہیلی کاپٹر پر کمراٹ ویلی کا ٹور کیا اور مقامی لوگوں کو کہا گیا کہ اس وادی کو وہ ایسا  بنا دیں گے کہ ٹورازم بھی بڑھے گا اور مقامی ثقافت بھی خراب نہیں ہو گی۔ وہ سڑکیں بنوائیں گے تاکہ سیاح اس وادی کا رخ کر سکیں۔ رات گیارہ بجے ہم لاہور سے اپنی نظروں میں ناران کاغان، کشمیر، سوات سے زیادہ حسین مناظر کو سجائے کمراٹ ویلی کی طرف گامزن ہوئے۔ جب سوات ٹنل کے قریب پہنچے تو لڑکے گاڑی میں سے اتر گئے جبکہ فیملیز ٹنل کے قریب پہنچ کر لڑکوں کا انتظار کرنے لگیں۔ یہاں تک ہمارے خواب جواں تھے اور ٹنل کے ارد گرد پہاڑوں کو دیکھ کر ہم تازہ دم ہو گئے۔ اس کے بعد ہم ان علاقوں سے گزرے جن کے نام ہم نے صرف ٹی وی پر خبر نامے میں ہی سن رکھے تھے۔ تیمر گرہ، دیر، تھل وغیرہ۔ کاش! جتنا فاصلہ ان ناموں کے درمیان پڑے “سکتہ” میں ہے اتنا ہی فاصلہ ان قصبوں کے درمیان ہوتا ہے۔

ہم دوسرے دن رات سات بجے کے قریب تھل گاؤں میں پہنچے۔ جہاں ہوٹل میں ہماری بکنگ تھی۔ بکنگ ایک تھرڈ پارٹی نے کمیشن پر کروا کردی تھی۔ جس میں ہم نے صرف روم لیئے تھے، ہوٹل کے کھانے کی سروس نہیں لی تھی لیکن وہاں جا کر ہوٹل مالکان نے کہا کہ زیادہ پیسے ادا کرو اور کھانا ہم سے ہی لو۔ جب ہم نے اصرار کیا کہ نہیں ہم صرف کمرے ہی لیں گے تو انہوں نے کہا کہ آپ اپنا سامان پکڑو اور ہوٹل خالی کر دو۔ جس بندے کے ذریعے بکنگ کروائی تھی اس نے اپنا کمیشن پکڑا اور جاتے جاتے ہوٹل مالک سے کہہ گیا کہ میری طرف سے چاہے ان کو جگہ دو یا فارغ کر دو۔ ہمارے لیئے رات کے وقت فیملیز کے ساتھ اچانک سے ہوٹل تبدیل کرنا مشکل کیا ناممکن سا تھا۔ پھر ناچاہتے ہوئے ہمیں ہوٹل مالک کی ڈیمانڈ کے مطابق پیسے ادا کرنے پڑے۔ ہم نے دو راتیں وہاں قیام کیا اور دیکھا کہ یہاں کے مقامی لوگوں کو ٹورسٹس کے ساتھ بالکل بھی بات کرنا نہیں آتی۔ اتنے بدتمیز لوگ میں نے کسی پہاڑی علاقے کے نہیں دیکھے جتنے یہاں کے تھے۔ لین دین میں تو وہ نان پروفیشنل تھے ہی، ایسے لگ رہا تھا کہ یہ عورتوں کے بارے میں بھی ترسے ہوئے لوگ ہیں جو ان کو دیکھ دیکھ کر فحش اشارے اور گندی حرکات کر رہے تھے۔ مری کے مقامی بے شک بدتمیز ہیں لیکن وہ اس لحاظ سے بہت بہتر ہے۔ وزیراعظم نے اپنے دورے کے دوران جو بات کہی تھی کہ ٹورزام بھی بڑھے گا اور آپ کی ثقافت بھی خراب نہیں ہو گی۔ مجھے یہ الفاظ ٹورازم بزنس کے لیئے کچھ عجیب سے لگے جس کا عملی مظاہرہ کمراٹ ویلی میں دیکھا۔ مقامی چاہتے تھے کہ چند دن پیسے خرچ کر کے آنے والے سیاح ہمارے مطابق چلیں کجا کہ ہم ان کو ان کی سہولت کے مطابق سروسز مہیا کریں۔ یعنی ہم بزنس کریں، اپنی پروڈکٹس سیل کریں لیکن کسٹمر کی ڈیمانڈ پر نہیں بلکہ اپنی مرضی سے۔ اب جاتے ہیں کمراٹ ویلی تو اب تو آپ نے بالکل بھی گھبرانا نہیں! 2016 میں جب عمران خان نے یہاں کا دورہ کیا تو ہوسکتا ہے کہ وادی ویسی نہ ہو جیسی اب یعنی 2020 میں ہے لیکن وہ سڑک مجھے نہ مل سکی جس کی بات وزیراعظم نے کی تھی کہ وہ یہاں پر سڑک بنوائیں گے۔ نہایت خراب راستہ تھا۔ جیپ پر اچھل اچھل کر ہمارے دل گردوں کی جگہ اور گردے پھیپھڑوں کی جگہ آ گئے اور پھیپھڑے ناجانے کہاں کھو گئے کیونکہ سانس لینے میں بہت دشواری ہو رہی تھی۔ اب مجھے کوئی یہ تو کہہ نہیں سکتا کہ ارے یار! یہی تو ایڈونچر ہے کیونکہ سری پایا، لالہ زار، سیف اللّٰہ آبشار اور دریائے کنہار میں رافٹنگ کرنے کو ایڈوینچر کہتے ہیں کمراٹ کی خراب سڑک پر سفر کو نہیں۔

کمراٹ ویلی میں پہنچے تو بے شک ہمارے ارد گرد بلند و بالا درخت، وادی میں بہتا دریائے پنجگورہ اپنا حسن بکھیر رہا تھا، لیکن ہمارے قدموں میں گندگی کے ڈھیر، کہیں کہیں تو جانوروں کا گوبر جیسے کسی ایسی جگہ آ گئے ہوں جہاں سالوں سے جانور باندھے جاتے ہیں اور اس جگہ پر سے گوبر اکٹھا نہ کیا گیا ہو اور کہیں کہیں گلے سڑے فروٹس جیسے لاہور کی کوئی سبزی منڈی ہو۔ مانا کہ سیاحوں نے بھی ریپرز پھینک کر گند ڈال رکھا تھا لیکن کمراٹ ویلی کے کھانے کے ڈھابوں پر صرف چکن کڑاہی ملتی ہے اور چکن کے باقیات دریا کے کنارے پتھروں پر تو مقامی ہی پھینکتے ہیں۔ پھر گلے سڑے فروٹس اور جانوروں کی گوبر کو بھی ٹھکانے لگانا سیاحوں کا نہیں مقامیوں کا کام ہے۔ کمراٹ ویلی میں رہنے کے لیئے ہٹ اور کیمپنگ کا انتظام ہے۔ یہاں پر فلش سسٹم تو اتنا ناقص کہ اس کی بات ہی نہ کریں اور اس وجہ سے بھی ویلی میں نہایت گند مچا ہوا ہے۔ ہاں! اگر کوئی اچھی بات ہے تو اس کا ذکر بھی کرنا چاہیے اور وہ ہے تھل پنجگورہ دریا کے کنارے ہوٹل گرین ورلڈ جہاں دوسرے ہوٹل میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے میں اپنی فیملی کے ساتھ ٹھہری تھی۔ یہ ہوٹل قدرے صاف تھا۔ کمرے کھلے اور ہوٹل اسٹاف بھی تمیز دار تھا۔ ہوٹل کے سامنے دریائے پنجگورہ بہتا ہے۔ بس یہی ایک منظر تھا جہاں میں نے انجوائے کیا لیکن کیا میں بیس بائیس گھنٹے کا سفر کر کے اور کئی ہزار روپے لگا کر بس یہی دیکھنے گئی تھی؟ خیر! دریائے پنجگورہ کے بارے میں جو معلومات ملی وہ کچھ اس طرح ہیں کہ یہ دریا ٹراؤٹ مچھلی اور صاف پانی کی دیگر مچھلیوں کا قدرتی مسکن ہے۔ سنو ٹراؤٹ، بالائی پنجگورہ کمراٹ ویلی میں خاص طور پر شکار کی جاتی ہے۔ جبکہ براؤن اور رین بو ٹراؤٹ 1928 میں برٹش نے متعارف کروائی تھی لیکن سنو ٹراؤٹ اور دیگر مچھلیاں دریائے پنجگورہ کی پیداوار ہیں۔ 

یہ پڑھ کر میں نے اپنے بھانجے سے کہا کہ ہم وہاں مچھلی کا شکار کرسکتے ہیں۔ وہ اس حوالے سے کافی پرجوش ہوگیا لیکن وہاں نہ مچھلی ملی نہ مچھلی کی ذات۔ ایک دو مقامیوں سے میں نے پوچھا کہ یہاں پر فشنگ کہاں ہوتی ہے تو کچھ کو تو اس بارے میں معلوم ہی نہیں تھا اور کچھ کو اردو نہیں آتی تھی کہ وہ بات کر سکتے۔ زبان کا مسئلہ بھی آڑے آرہا تھا۔ زیادہ تر مقامیوں کو اردو نہیں آتی جس کی وجہ سے بات چیت میں دشواری ہوتی ہے۔ مقامیوں کو جب بات کی سمجھ نہیں آتی تو وہ جھٹ سے غصے میں آجاتے ہیں۔ یہ بات میرے لیئے کافی حیران کن تھی کہ اس علاقے کے لوگوں کو اتنی جلدی غصہ کیوں آجاتا ہے۔  اگر موسم کی بات کروں تو بالکل لاہور جیسی گرمی، شاید یہی وجہ تھی جلدی غصے میں آنے کی۔ ہم نے لوگوں کو سفر کی ہدایات دیتے ہوئے یہ بھی لکھا تھا کہ گرم کپڑے یعنی جیکٹس اور شال وغیرہ ساتھ رکھیں کیونکہ یہاں موسم کبھی بھی سرد ہو سکتا ہے۔ ہمارے ذہن میں کالام تھا۔ کمراٹ اور کالام کے درمیان چھے سات گھنٹے کا فاصلہ ہے۔ تو جیسے ہی ہم کالام سے جھیلوں کی طرف سفر کرتے ہیں تو وہاں موسم کافی ٹھنڈا ہو جاتا تھا۔ جب موسم بدستور گرم ہی رہا تو ہمراہی کہنے لگے کہ اگر موسم ٹھنڈا نہ ہوا تو ان کے گرم کپڑے جو وہ ہمارے کہنے پر لے کر آئے تھے وہ ہمراہی ٹیم کو پہنا دیں گے کیونکہ ہمارے کہنے پر ہی انہوں نے ایکسٹرا کپڑے لیئے تھے۔ یہ ہلکا پھلکا مذاق گرم موسم کو لے کر ہوتا رہا۔ میرے خیال میں تو کمراٹ ویلی کے مقامیوں کو ابھی بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ ٹورزام بزنس کیا ہے اور کیسے جاتا ہے۔ دوسری بات جس پر مجھے دوسرے پہاڑی علاقوں میں بھی اعتراض ہوتا ہے وہ ہے یہاں کا فلش سسٹم جو کہ نہایت نہایت نہایت خراب ہے۔ ہم میدانی علاقوں کے سیاحوں کے لیئے ہی ایسی سہولتوں کا فقدان ہے تو انٹرنیشنل ٹورزام کے تو دور دور تک مجھے کوئی امکانات نظر نہیں آتے۔ ہم کب تک یہ کہہ کہہ کر کہ پاکستان بہت خوبصورت ہے اپنے گند پر پردہ ڈالتے رہیں گے؟ ہم ان علاقوں کا بزنس بڑھاتے ہیں تو ہمیں سہولیات بھی ملنی چاہیں۔

آخری بات یہی کہوں گی کہ میرا تو کمراٹ ویلی وزٹ کرنے کا تجربہ کافی ناخوشگوار رہا ۔ اب یہ آپ پر ہے کہ آپ یوٹیوبرز کو فالو کریں، وزیراعظم کی 2016 کی ویڈیو پر بھروسا کریں یا میرے تجربے سے کوئی سبق حاصل کریں کیونکہ میں تو کسی کو بھی مشورہ نہیں دوں گی کہ وہ کمراٹ ویلی وزٹ کرے خاص طور پر فیملی کے ساتھ،  کہ وہاں جا کر ذلیل و خوار ہو۔ پنجابی کا ایک محاورہ ہے کہ “رل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے”  کمراٹ ویلی کے لیئے میں اسی محاورے میں تھوڑی تبدیلی کر کے کہنا چاہوں گی کہ “رل وی گئے تے چس وی نہی آئی

Previous articleاکبر بگٹی، ریاست لوگوں کو کہاں دھکیل رہی ہے
Next articleکراچی ڈوب رہا ہے!