وقاص احمد

ہندوستان کے ایک گاؤں میں ایک شخص کی حادثاتی موت واقع ہوگئی۔ متوفی پرادیپ کے ورثاء کا کہنا تھا کہ اس کو ایک پاگل ہاتھی نے کچل کر مارا ہے۔ اب آپ کو غالباً یہ معلوم ہوگا کہ ہندومذہب میں گنیش جی کی وجہ سے ہاتھی کو بھی ایک مقدس حیثیت حاصل ہے اس لیئے ورثاء کے اس بیان پر اس گاؤں میں کہرام مچ گیا۔ ورثاء کو قتل کی دھمکیاں، ہندو مذہب کی توہین کے فتوے بلکہ یہاں تک کہ انہیں نفرت سے “مُسلے”  (مسلمان) قرار دے کر پاکستان جانے کے مشورے موصول ہونے لگے۔ معاملات بگڑنے لگے تو ریاستی پولیس حرکت میں آئی اور اپنے تین بہترین تفتیشی افسر اجے، جوشی اور سندیپ کو پرادیپ کی موت کی وجوہات جاننے کے لیئے معمور کر دیا گیا۔ یہ تینوں افسران نیک نام اور ذہین تھے اور گینیش جی کے ماننے والے بھی۔ وہ موقع پر پہنچے اور سوالات کا سلسلہ شروع کیا۔ ورثاء سے پوچھا کہ آپ کو ہاتھی پر ہی کیوں شک ہے کوئی بیل وغیرہ بھی تو ہوسکتا تھا۔ تو پرادیپ کی بیوی نے روتے ہوئے بتایا کہ یہ پاگل ہاتھی اس سے پہلے بہت سے لوگوں کی فصلیں اجاڑ چکا ہے، کئی لوگوں کو زخمی کر چکا ہے اور کل رات ہمارے گودام کا دروازہ توڑ کر اس میں گھس گیا۔ پرادیپ اس کے پیچھے پیچھے وہاں گھسا تو اس نے اس کو کچل کر مار ڈالا۔ گاؤں کے تمام لوگ اس ہاتھی سے کئی دفعہ نقصان اٹھا چکے ہیں، کل بھی سب نے اس ہاتھی کو گودام میں گھستے دیکھا اور چند ایک نے تو پرادیپ کو مرتے ہوئے بھی دیکھا مگر کوئی بھی بیان دینے کو تیار نہیں۔ ہاتھی ابھی بھی اسی بڑے کمرے میں موجود ہے۔

تفتیشی افسران ہاتھی کے خلاف یہ گستاخانہ باتیں سن کر چیں بچیں تو بہت ہوئے مگر خاموش رہے۔ متوفی کی بیوی کو انہوں نے یہ کہہ کر خاموش کروا دیا کہ آپ ابھی صدمے کی حالت میں ہیں اس لیئے اول فول بول رہی ہیں۔ ہم اپنی آزادانہ تحقیقات کے بعد کوئی رائے قائم کریں گے۔ گاؤں والوں کے بیانات لینے کا سلسلہ شروع ہوا۔ لوگ زیادہ تھے تو افسران نے نزدیکی تھانے فون کیا اور ایک محرر بھیجنے کی درخواست کی۔ ایک مسیحی محرر میتھیو مدد کے لیئے بھیجا گیا۔ گاؤں میں جس شخص سے بھی بیان لیا گیا، تقریباً سب نے ایک جیسی بات کہی۔ سب نے کہا کہ انہیں پرادیپ کی موت کا دکھ ہے لیکن ہاتھی بے قصور ہے۔ کسی نے ہاتھی کو اپنا نگہبان فرشتہ قرار دیا، کسی نے ہاتھی پر الزام لگانے کو گینیش جی کی توہین قرار دیا۔ کسی نے اس ہاتھی کو اپنے لیئے خوش قسمتی کی علامت قرار دیا۔ چند ایک ان پڑھ دیہاتیوں نے تو اپنی طرف سے ماہرِ جنگلی حیوانات بنتے ہوئے تفتیشیوں کو بتایا کہ ہاتھی تو انسان پر حملہ کرتا ہی نہیں ہے۔ ان سے ایک دو لوگوں نے ان سے کچھ معمولی اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ “اگر بالفرض محال یہ ہاتھی کا ہی کام ہے تو بھی پرادیپ نے یقیناً ہاتھی کو کچھ کہا ہوگا جبھی اس نے اس پر حملہ کیا ہوگا”  ایک کثیر تعداد نے تو یہ تک کہا کہ یہ ہاتھی تو ان کا محافظ ہے۔ جب ہم راتوں کو سوتے ہیں تو یہ ہاتھی جاگ کر ہمارے گاؤں کی حفاظت کرتا ہے۔ ان لوگوں نے قسمیں کھا کھا کر کہا کہ یہ ہاتھی نہ ہوتا تو آس پاس کے چیتے، لکڑبگھے اور بھیڑیے انہیں چیر پھاڑ کر کھا چکے ہوتے۔ خیر تینوں افسران جائے وقوعہ (گودام) پر پہنچے۔ لاش وہیں پڑی تھی۔ متوفی کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں اور دیکھنے سے صاف پتہ چل رہا تھا کہ بیچارہ کسی وزنی چیز کے نیچے کچلا گیا ہے۔ اب تفتیشی افسران کی آپسی گفتگو ملاحظہ کیجئے۔

اجے: میرا خیال ہے کہ گودام کی چھت کا کوئی وزنی شہتیر پرادیپ پر گرا جس کے نیچے وہ کچلا گیا۔

جوشی: یار مجھے یہاں کوئی شہتیر تو نظر نہیں آرہا لیکن ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص گودام میں ٹریکٹر لے کر آیا اور پرادیپ کو کچل دیا۔

سندیپ: بھئی ٹریکٹر ہوتا تو ٹائروں کے نشان ہی نظر آتے۔ لگتا ہے کہ متوفی کہیں اور مرا تھا اور کسی نے لاش یہاں پھینک دی ہے۔

اس دوران تینوں نے دیکھا کہ میتھیو خاموش ہے اور جیسے کسی خوف سے لرز رہا ہے۔ انہوں نے پوچھا کیا ہوا؟ تو لرزتی آواز میں بولا کہ سر کمرے میں ایک ہاتھی بھی موجود ہے۔ جوشی نے کہا، کہاں ہے ہاتھی! مجھے تو نظر نہیں آرہا! کیوں بھئی اجے! اور سندیپ! تمہیں نظر آرہا ہے؟ دونوں یک زبان ہوکر بولے، نہیں تو، ہمیں بھی کوئی ہاتھی نظر نہیں آرہا۔ لگتا ہے میتھیو پر متوفی کی بیوی کی باتوں کا اثر ہوگیا ہے۔ تم ایسے کرو تھانے واپس جاؤ اور دوسرے محرر کو بھیجو۔ آدھ گھنٹے بعد ایک دوسرا محرر قاسم خان موقع پر آن موجود ہوا اور آتے ہی چیخا، صاحب کمرے سے باہر آجائیں فوراً “کیوں بھئی!”۔ وہ بولے۔ صاحب! کمرے میں ایک ہاتھی موجود ہے، کیا آپ کو نظر نہیں آرہا؟” ، “ارے تم سبھی لوگ سٹھیا گئے ہو کیا؟” جوشی نے غصے سے کہا “کمرے میں کوئی ہاتھی موجود نہیں ہے”۔ قاسم خان بولا “سر کیا بات کر رہے ہیں۔ یہ سامنے کھڑا ہے۔ اس کے تو منہ سے جھاگ نکل رہا ہے، لگتا ہے یہ پاگل ہاتھی ہے۔ کہیں اسی نے تو اس بندے کو نہیں مارا”۔ اجے غصے سے پھٹ پڑا “تم سالے کبھی نہیں سدھرو گے۔ تمہیں موقع چاہیے کسی نا کسی طریقے سے ہمارے مذہب پر حملہ آور ہونے کا، شکر کرو ہم سرکاری ڈیوٹی پر ہیں ورنہ تمہیں ابھی گاؤں والوں کے حوالے کر دیتے کہ یہ شخص گنیش جی کی توہین کر رہا ہے” قاسم خان گڑبڑا گیا “سر! معافی چاہتا ہوں! میرے کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے۔ سر اس میں مذہب کہاں سے آگیا۔ میں تو صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ ہماری انکھوں کے سامنے ایک پاگل ہاتھی کھڑا ہے اور ایک کچلی ہوئی لاش ہے۔ سیدھا سا کیس ہے۔ آخر یہ سامنے کھڑا ہاتھی آپ کو نظر کیوں نہیں آرہا”. یہ سن کر سندیپ آگے بڑھا، قاسم کو کندھوں سے سختی سے پکڑا اور انتہائی سرد اور کرخت آواز میں ایک ایک لفظ چبا چبا کر اس کے کان میں سرگوشی کی “کیونکہ کمرے میں “سرکاری طور پر” کوئی ہاتھی موجود نہیں ہے، اب یہاں سے دفع ہو جاؤ!

Previous articleدورِ بے ہنراں
Next articleآزمائش شرط ہے!