حیدر زمان

کوہِ دامان جو کہ پشاور کا ایک نواحی علاقہ ہے اس میں 6 یونین کونسل ہیں، متنی، ادیزائی، پاسنی، شیرکیرہ، اضاخیل اور مریم زئی۔ یہ سارے یونین کونسلز ملا کر ایک حلقہ  پی کے 71 بنتا ہے۔ یہ علاقہ سیاسی لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کی کل آبادی تقریباً 4 لاکھ ہے۔ مگر یہ علاقہ ایک پسماندہ علاقہ ہے نہ تو اس میں سہولیات ہیں اور نہ حکومت ان مسائل کو حل کرنے میں دلچسپی لیتی ہے۔ موجودہ گورنر کے پی کے شاہ فرمان اس حلقے سے 2 مرتبہ ایم پی اے بنے اور یہاں کے لوگوں نے انہیں اس غرض سے ووٹ دیا کہ اس علاقے میں تبدیلی آئی گی اور کوہ دامان کے تمام مسائل حل ہوجائیں گے،  لیکن گورنر بنتے ہی انہوں نے اپنے حلقے سے کنارہ کشی اختیار کی اور 2 سال میں صرف ایک مرتبہ علاقے میں آئے۔ لوگوں کی توقع تھی کہ گورنر بنتے ہی وہ اپنے حلقے کے لیئے بہت کام کریں گے مگر انہوں نے علاقے میں کوئی ایک بھی ترقیاتی کام نہیں کیا اور یوں کوہِ دامان کے مسائل میں دن بدن اضافہ ہوتا گیا۔

ہمارے ایم پی اے صلاح الدین صاحب عوام کو بس یہ  کہتے ہیں کہ مجھے فنڈ نہیں مل رہا۔ گورنر ہمارے کاموں میں خلل ڈال رہا ہے اور ہمیں کام کرنے نہیں دیا جارہا۔ کوہِ دامان کے مسائل میں سب سے بڑا اور ضروری مسئلہ سول ہسپتال متنی کا ہے، جو کہ کیٹیگری ڈی ہسپتال ہے، مگر ہسپتال بننے سے لے کر آج تک وہی مسائل اب بھی برقرار ہیں۔ اس میں تقریباً 22  ایم بی بی ایس ڈاکٹرز ہیں مگر 3 یا 4 اپنی ڈیوٹی کے لیئے آتے ہیں، اور پھر اپنی ڈیوٹی ٹائم سے پہلے ہی واپس چلے جاتے ہیں۔ بقیہ ڈاکٹرز نجانے کہاں ڈیوٹیاں کرتے ہیں، ہسپتال میں تو آن ڈیوٹی ان کا نام موجود ہے، مگر ہسپتال میں موجود نہیں ہوتے۔ اس کے علاوہ بھی بہت سارے مسائل ہسپتال میں موجود ہیں، نہ تو یہاں آپریشن ہوتا ہے اور نہ کسی کو دوائیاں ملتی ہیں۔ ایم ایس سول ہسپتال متنی،بعقیل بنگش کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں مافیا موجود ہیں جو کہ ہسپتال کو ٹھیک ہونے نہیں دے رہے۔

اس کے علاوہ کوہ دامان میں بجلی بھی ایک اہم ترین مسئلہ ہے۔ جب سے ہمارے ایم این اے ناصر خان موسیٰ زئی صاحب مشیر وزیراعظم برائے پانی و بجلی بنے ہیں، لوڈشیڈنگ  میں اضافہ ہو گیا ہے۔ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 12 سے بڑھا کر 18 گھنٹے کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے کوہِ دامان کے تمام کاروباری افراد متاثر ہو رہے ہیں۔ گرمی کی وجہ سے گھروں میں خواتین و بچے سخت پریشان ہیں۔ اس کے حل کےلیئے ہم ایم این اے ناصر خان موسیٰ زئی سے درخواست کرتے ہیں کہ اس مسئلے کو جلد از جلد حل کیا جائے۔

کوہِ دامان میں تعلیمی نظام نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ یہاں پر لڑکیوں کےلیئے کسی خاص تعلیمی نظام کا بندوست نہیں کیا گیا ہے۔ صرف بچیاں (گرلز)مڈل تک تعلیم حاصل کرتی ہیں۔ ہائی اسکول کی تعلیم حاصل کرنے کے لیئے یہاں پر کوئی اسکول نہیں ہے کہ وہ اپنے ہی علاقے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکیں۔ اس لیئے حکام بالا کو چاہیے کہ کوہِ دامان میں گرلز ہائی اسکول بنوائے۔ اس کے علاوہ متنی دروازگئی میں ایک اسکول ہے جس میں ایف سی کے اہلکاروں نے چھاؤنی بنائی ہے اس کو تعلیمی سرگرمیوں کےلیئے جلد از جلد کھول دیا جائے کیونکہ اس کی وجہ سے بچوں کا مستقبل تباہ ہو رہا ہیں۔ کوہ دامان میں نادرا آفس کی اشد ضرورت ہے۔ علاقہ مکین کبھی پشاور جاتے ہیں تو کبھی بڈھ بیر، جس کی وجہ سے علاقہ مکین سخت پریشان ہیں وہ چاہتے ہیں کہ یہ سہولت ہمارے لیئے کوہِ دامان میں میسر ہو اور ہمیں اپنے شناختی کارڈ بنوانے کےلیئے دور دراز علاقوں تک جانا نہ پڑے۔

کوہِ دامان پشاور سے تقریباً 15سے 20 کلومیٹر دور ایک نواحی علاقہ ہے۔ اگر یہاں کوئی حادثہ ہوجاتا ہے تو ہم ریسکیو 1122 کو بلانے کےلیئے پشاور آفس کال کرتے ہیں، اور تقریباً ایک سے دیڑھ گھنٹے بعد ریسکیو جائے وقوع پر پہنچتا ہے۔ اس تاخیر کی وجہ سے بہت سے نقصانات اٹھانے پڑتے ہیں۔ ایسے بہت سارے واقعات ہوچکے ہیں اس لیئے کوہِ دامان میں ایک ریسکیو 1122 کی آفس کا قیام بھی عمل میں لایا جائے تاکہ عوام کی مشکلات میں کمی ہو۔

Previous articleقانون سازیاں اور اپوزیشن کا کردار
Next articleآزاد میڈیا