جہانگیر ضیاء

وفاقی حکومت کے خلاف اپوزیشن کی لڑائی ہر دور میں رہی ہے۔ کبھی اپوزیشن زیادہ مضبوط نظر آئی تو کبھی حکومت لیکن حکومت کو کِس طرح سنبھالنا ہے، اتحادی جماعتوں کو کیسے ساتھ لے کر چلنا ہے اور کیسی پالیسیاں مرتب کرنی ہیں جن سے عوام کا اعتماد بھی برقرار رہے  اور وہ اقدامات ملک کے مفاد میں بھی ہوں، یہ کوئی ماہر سیاستدان ہی کرسکتاہے۔ یہ کسی فردِ واحد کا کام نہیں بلکہ پوری حکومتی ٹیم، مشیر و وزیروں کے مشوروں سے ہی ممکن ہوتا ہے۔

تحریکِ انصاف کی حکومت کو بھی حسبِ روایت اپوزیشن کی جانب سے دباؤ کا سامنا ہے۔ اس بار اپوزیشن بڑی مضبوطی کے ساتھ متحد بھی ہے۔ 11 اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد جو کہ عمران خان کی حکومت گرانے کےلیئے بنایا گیاہے۔ اس میں پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ، جمیعت علماء اسلام ف جیسی طاقتور جماعتیں شامل ہیں۔ اس اتحاد کو پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ ”پی ڈی ایم“ کا نام دیا گیاہے۔ اس اتحاد کی سربراہی مولانا فضل الرحمان کو دی گئی۔ پی ڈی ایم کا مؤقف یا منشور یہ ہے کہ عمران خان عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوکر نہیں آئے بلکہ انہیں وزارتِ عظمیٰ کےلیئے ”چُنا“ گیا ہے اور اس غیر آئینی عمل کو ممکن بنانے کےلیئے عام انتخابات میں دھاندلی کی گئی جس سے عمران خان کےلیئے وزیراعظم بننے کی راہ ہموار ہوئی اور نتیجتاً باقائدہ طور پہ مرکز میں تحریکِ انصاف کی حکومت بنا دی گئی۔ مختصر یہ کہ پی ڈی ایم بنانے کا اصل مقصد تحریکِ انصاف کی حکومت گرانا اور وزیراعظم کا استعفیٰ ہے۔  اس کے علاوہ پی ڈی ایم کا ایک مؤقف یہ بھی ہے کہ موجودہ حکومت عوام کو کسی طور بھی ریلیف فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے۔ آئے روز اشیاء ضرورت کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے جس کے باعث اب عمران خان کو استعفیٰ دے کر گھر جانا چاہیئے۔ اپوزیشن کی جانب سے عمران خان کی اتنی شدید مخالفت اور مرکزی حکومت کے خلاف مسلسل سیاسی وار کرنے کے باوجود وزیراعظم کی ہمت و حوصلے کی داد دینی پڑے گی کہ انہوں نے نا صرف اپوزیشن جماعتوں کا  ڈٹ کر مقابلہ کیا  بلکہ  اپنی حکومت اور سیاسی پالیسیوں سے منہ توڑ جواب دیا۔ 

دوسری جانب پی ڈی ایم کی بات کی جائے تو گیارہ سیاسی جماعتیں مل کر  روزِاوّل سےلے کر اب تک لاہور ، کراچی، ملتان جیسے بڑے شہروں میں کئی کئی مشترکہ جلسے کرچکی ہیں۔ کسی جلسے کی میزبانی پیپلز پارٹی نے کی تو کہیں مسلم لیگ ن مہمان بنی۔ اس جلسوں میں چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو اور مسلم لیگ ن کی صدر مریم نواز مرکزِ نگاہ رہے اور جلسوں میں خوب سرگرم و متحرک نظر آئے لیکن اکثر جلسوں میں کسی بھی ایک سیاسی رہنماء کی عدم شرکت کو اتحاد میں پھوٹ قرار دیاجانےلگا۔ مثال کے طور پہ کسی جلسے میں مریم نواز نے شرکت نہیں کی تو اسے سیاسی تجزیہ نگار پی ڈی ایم میں تقسیم قرار دینے لگے۔ اسی طرح کسی جلسے میں بلاول بھٹو تو کسی میں مولانا فضل الرحمان نے شرکت سے معذرت کی۔ اگرچہ بیشتر جلسوں میں قائدین میں سے کوئی نا کوئی غیر حاضر نظرآیا مگر ان کی جماعت نمائندگی کےلیئے دیگر رہنماؤں نے شرکت ضرور کی۔ 

میڈیا کی جانب سے بھی کسی حد تک حکومت کی طرف جھکاؤ نظر آیا۔ معروف صحافی حضرات بھی اسی کھوج میں لگےرہتے ہیں کہ کسی طرح کوئی ایسی بات معلوم ہوجائے جس سے یہ ثابت کیا جاسکے کہ پی ڈی ایم میں پھوٹ پڑگئی ہے۔ اپوزیشن اور حکومت دونوں ہی اپنی اپنی جگہ ڈٹے ہوئے ہیں اور دونوں کسی صورت پیچھے ہٹنے یا گھٹنے ٹیکنے کےلیئے تیار ہیں۔ اپوزیشن بھی بضد ہے کہ وہ عمران خان کا استعفیٰ لےکر ہی رہیں گے لیکن عمران خان بھی پُرامید ہیں کہ وہ نہ تو استعفیٰ دیں گے اور نہ کسی اپوزیشن کے مطالبات تسلیم کریں گے۔ بہرحال  جیسے اس سیاسی جنگ میں حکومت کے تین سال گزرے ویسے ہی باقی کے دو سال بھی گزر جائیں گے اور عام انتخابات کا وقت قریب آجائے گا۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق عمران خان کی مقبولیت میں پہلے سے زیادہ اضافہ ہوا ہے اور آئندہ انتخابات میں بھی تحریکِ انصاف کی حکومت آنے کے امکانات ہیں۔