وقاص احمد

اگر میں کوئی زبان دان ہوتا تو دو چار حروف میں آپ کو سمجھا دیتا کہ لفظ  “مغالطہ” کس لفظ سے نکلا ہے یا وہ لفظ کس زبان سے آیا ہے اور اس زبان میں اسکے معنی کیا تھے لیکن چونکہ یہ مغالطہ مجھے ہرگز نہیں ہے اس لیئے میں آپ لوگوں کو اپنی علمیت اور اردو دانی سے مرعوب کرنے کی کوشش ہرگز نہیں کروں گا۔ 

اب زبان دان نا ہونے کا ایک نقصان یہ ہے کہ مجھے اس ایک لفظ کے معنی بیان کرنے کے لیے مثالوں سے بھرا پورا مضمون لکھنا پڑ رہا ہے۔ عام زبان میں سمجھیں تو “مغالطہ”  اور “غلط فہمی” ایک دوسرے کے ہم معنی ہیں اور اس معنی کو سمجھنے کے لیے ہم کچھ مثالیں سامنے رکھتے ہیں۔ مثلاً یہ ایک مغالطہ ہے کہ “میں” عقل کل ہوں جبکہ عمومی طور پر یہ دعویٰ بذات خود جہالت کی نشانی ہے۔

ایک سوشل میڈیائی مغالطہ آج کل یہ ہے کہ  “میں” اصلی اور سچا محب وطن ہوں باقی سب غدار ہیں۔ کم از کم میں تو طرح طرح کے لوگوں کو چھان کر جن میں پٹواری، یوتھیے، پپلیے اور نجانے کون کون شامل ہیں، اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ پاکستان سے پیار سبھی کرتے ہیں اور کوئی بھی دیدہ دانستہ پاکستان کا برا نہیں چاہتا۔ ہاں بس سوچنے کا انداز جدا جدا ہے۔ مغالطے کی ایک قسم مذہبی مغالطہ بھی ہے۔ “میں”  سچا اور پکا مسلمان ہوں اور خدا نے مجھے گمراہ مسلمانوں کو راہِ راست پر لانے کے لیے فوجداری اختیارات دیئے ہیں۔ عمومی طور پر ایسے لوگ مغالطے کے بجائے کسی شدید دماغی خلل کا شکار ہوتے ہیں۔ چند مغالطے کچھ عام مستعمل الفاظ و تراکیب کے معنوں کے میں ہمارے ہاں مشہور ہیں. مثلاً اگر آپ اسلام پسندی کو شدت پسندی، لبرل ہونے کو فحاشی، سیکولرازم کو لادینیت، جمہوریت کو کفر، خلافت کو مسائل کا حل، کمزوری کو پارسائی، اور طاقت کو اصول سمجھتے ہیں تو یقیناً آپ بھی کافی ہولناک مغالطوں کا شکار ہیں۔

کچھ تاریخی مغالطے ہوتے ہیں جو زبردستی آپ کے دماغ میں اس دھمکی کے ساتھ بھر دیئے جاتے ہیں کہ اختلاف رائے کی صورت میں آپ غدار قرار دیئے جاسکتے ہیں مثلاً یہ ایک مقبول عام مغالطہ ہے کہ اگر  “فلاں” نا ہوتا تو پاکستان مصر، شام اور لیبیا بن جاتا حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ “فلاں” ہی کے ماضی کی چند کرتوتوں کے باعث پاکستان کو مصر، شام اور لیبیا سے زیادہ خونریزی اور زیادہ مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ابھی تک پڑ رہا ہے۔

ایک مغالطہ یہ ہے کہ “فلاں”  نے پاکستان کو ایک اکائی میں باندھا ہوا ہے ورنہ “دشمن” ہمارے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا۔ حقیقت یہ ہے کہ “فلاں”  کی بھرپور موجودگی میں ہمارے ایک سے دو ٹکڑے پہلے ہی ہوچکے ہیں۔ بلکہ یار لوگ تو کہتے ہیں کہ اگر “فلاں” رہا تو مذید تین چار ٹکڑے ہونے کا شدید احتمال ہے۔ اب اگر آپ اوپر والے “یار لوگوں” میں مجھے شمار کریں تو یہ ایک اور مغالطہ ہے۔

کچھ میڈیائی مغالطے ہوتے ہیں۔ یہ عوام کی رگوں میں ڈرپ کے ذریعے آہستہ آہستہ انجیکٹ کیے جاتے ہیں۔ مثلاً میں لفظ  “کرپٹ” بولوں تو آپ کے ذہن میں اپنی پسند نا پسند کے حساب سے فوراً کسی نا کسی سیاستدان کی شبیہ ابھرے گی حالانکہ مزے دار آن ریکارڈ بات یہ ہے کہ نیب کی 2007  میں کی گئی ایک چھان بین کے مطابق پاکستان میں کرپشن کے میگا اسکینڈلز میں کل وقتی مین اسٹریم سیاست دانوں کا حصہ ایک فی صد سے بھی کم ہے۔ ہے ناں پھر مغالطہ!

ایک مغالطہ اور بھی ہوتا ہے جسے میں مغالطہ بالجبر کہتا ہوں۔ مغالطہ بالجبر کا وہی مفہوم ہے جو زنا بالجبر کا ہوتا ہے کیونکہ دونوں میں مغالطہ اور زنا کے متاثرین کی اپنی رضامندی اس میں شامل نہیں ہوتی۔ اس کی مثال کچھ یوں سمجھیں کہ اگر راہ چلتے کسی شخص کو روک کر کرپشن کی تعریف پوچھیں تو چاہتے نا چاہتے وہ سیاستدانوں کو اپنی بات میں جبراً گھسیٹ لے گا۔ الفاظ کچھ یوں ہوں گے کہ “جناب آپ نواز شریف یا زرداری یا عمران یا فضل الرحمان یا کسی بھی اور سیاستدان کے اقتدار میں آنے سے پہلے کے اثاثوں کو اقتدار میں آنے کے بعد والے اثاثوں میں سے منفی کریں تو درمیان کا فرق کرپشن کہلاتا ہے” (آپس کی بات ہے کہ یہ حسابی فارمولا بھی ایک حد تک مغالطہ ہی ہے) لیکن اگر شرارتی یار لوگ انہی کے اس حسابی فارمولے کا اطلاق کچھ یوں کریں کہ “فلاں” کے 1958 میں پہلی بار اقتدار میں آنے سے پہلے کے اثاثوں کو (اور پھر مسلسل اقدار میں رہنے کے بعد) ان کے موجودہ اثاثوں سے منفی کیا جائے تو کیا درمیان کا وہ فرق بھی کرپشن کہلائے گا تو یہ فوراً سائیں لوگ نما جھلے بن کر ایسا ظاہر کریں گے جیسے اپنے ہی فارمولے میں انہیں کچھ مغالطہ ہوا تھا۔ یہ بات میں دوبارہ دہرا دوں کہ اگر آپ کا خیال ہے کہ میں ان شرارتی یار لوگوں میں شامل ہوں تو آپ کو پھر مغالطہ ہوا ہے۔

ایک مغالطہ روحانی مغالطہ ہوتا ہے۔ اس مغالطے میں اکثر نفسیاتی امراض کے شکار لوگ ہی مبتلا ہوتے ہیں۔ ان  کو ایسا مغالطہ لگتا ہے کہ جیسے ان کو روحانی اشارے یا رب تعالیٰ سے کوئی ڈائیریکٹ ہدایات مل رہی ہیں۔ آپ کو پاکستانی میڈیا میں رپورٹ ہوا وہ ظالم شخص شاید یاد ہوگا جس نے ایسے کسی شیطانی اشارے پر اپنے بیٹے کو ذبح کردیا تھا۔ آپ کو وہ بیوقوف شخص بھی یاد ہوگا جسے کسی نے یہ کہہ کر شادی پر تیار کیا تھا کہ پاکستان کی بقا کے لیے ان دونوں کی شادی ضروری اور منشائے الٰہی ہے۔ بعد میں وہ شخص مختلف مغالطوں میں مبتلا ہوکر چھت پر گوشت پھینکنے اور جسم پر کالی دال ملنے کا کام بھی کرچکا ہے۔ اس شخص کا ایک مشہور عام مغالطہ یہ بھی تھا کہ “خدا میری پیغمبروں والی تربیت کر رہا ہے”۔

ایک مغالطہ دائرے کا مغالطہ ہوتا ہے۔ اس مغالطے میں مبتلا لوگ دائرے میں سفر کرکے یہ امید رکھتے ہیں کہ اس بار وہ کسی نئی منزل پر پہنچ جائیں گے۔ یا پھر کچھ ایسے سائینسدان مارکہ لوگ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی 70 سالہ آزمودہ ناکام  “انجنئیرنگ”، “فارمولہ” یا “ڈاکٹرائن” کو دہرا دہرا کر امید کرتے ہیں کہ اس دفعہ نتیجہ مختلف آئے گا۔

نوٹ: یہ مضمون اس مغالطے میں لکھا گیا ہے کہ شاید یہ مختلف مغالطوں میں مبتلا لوگوں کو مغالطوں سے نکلنے میں مدد دے گا۔ صاحب مضمون کو بھرپور ادراک ہے کہ مغالطے سے باہر نکلنا کافی مشکل کام ہوتا ہے کیونکہ اس میں  “میں” مارنی پڑتی ہے تو ہم ایسے مار کٹائی کے کام کیوں کریں؟ اپنے اپنے مغالطوں میں اسوقت تک مبتلا رہتے ہیں جب تک زمانے کی لاتیں پڑ کر طبیعت صاف نہیں ہوجاتی۔