مہناز اختر

’’امّی اس مہینے جیسے ہی ابّو کو تنخواہ ملے مجھے عبایا خرید کر دیں، دو مہینوں سے کہہ رہی ہوں آخر آپ سمجھتی کیوں نہیں‘‘، نوشین یونیورسٹی سے گھر لوٹی  تو امّی سے سامنا ہوتے ہی جھنجلاتے ہوئے کہا، اس کی جھنجلاہٹ میں بے بسی کا رنگ نمایاں تھا۔ انّیس سالہ نوشین کراچی کے ایک مضافاتی علاقے میں اپنے والدین اور تین چھوٹے بھائی بہنوں کے ساتھ رہتی ہے۔ گھر سے متصل ابّو کی ایک چھوٹی  سی کتابوں کی دکان سے زندگی کی گاڑی چل رہی ہے ۔ نوشین اپنے خاندان اور محلّے کی یونیورسٹی جانے والی پہلی لڑکی ہے۔ ہر وقت خوش رہنے والی صابر اور پراعتماد نوشین محلّے کے تقریباً سارے ہی بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی ہے۔ جب یونیورسٹی کے داخلوں کی میرٹ لسٹ میں اس کا نام آیا تو اسے لگا کے اس کے سارے خواب پورے ہو گئے۔ سیمسٹر امتحان میں پہلی پوزیشن لینے کے بعد تو امّی ابّو کو بھی اس کے خوابوں پر یقین ہونے لگا۔

امّی کا ذہن مستقل نوشین میں اٹکا ہوا تھا۔ نوشین دو تین مہینوں سے چپ چپ سی تھی، کچھ بتاتی نہیں اور عبایے کی فرمائش الگ۔ امّی سوچ رہی تھیں کہ ہم نے تو کبھی اپنی بیٹی پر کسی قسم کی کوئی بندش نہیں لگائی اورگھر سے باہر نکلتے ہوئے نوشین ہمیشہ ہی سلیقے سے سر پر ڈوپٹہ رکھتی ہے۔ نوشین کے بجھے ہوئے چہرے اور عبایے کی فرمائش پر امّی کے ذہن میں طرح طرح کے خیال آنے لگے کہ ایسا تو نہیں کے راستہ میں کوئی اوباش اسے تنگ کرتا ہو یا یونیورسٹی میں کوئی شدّت پسند لڑکی اس کے دماغ میں ایسی باتیں ڈال رہی ہو۔ ٹی وی پر دکھائی جانے والی خبریں ان کے  ذہن میں گردش کر رہی تھیں اور ان کی پریشانی بڑھتی جارہی تھیں۔

خیر نوشین کے ابّوکو تنخواہ ملتے ہی امّی اسے مارکیٹ لے گئیں اور اس کی پسند کا عبایا اور اسکارف دلا ہی دیا۔ اگلی صبح جب نوشین عبایا لے کر یونیورسٹی جانے کے لیے تیار ہوئی تو کافی مطمئن اور پراعتماد دکھائی دے رہی تھی۔ امّی نے خوش ہوتے ہوئے دعا دی اور کہا، ’’بیٹا ہم تو تمھیں اس پابندی سے بچانا چاہتے تھے لیکن اگر تم خوش ہو تو ہم بھی خوش ہیں۔‘‘ امّی نے حسرت سے کہا،’’عبایے میں زندگی قید سی ہو جاتی ہے‘‘۔  تب نوشین نے امّی کا ہاتھ پکڑ کر خاموش نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا، ’’امّی مگر سفید پوشی کا بھرم رہ جاتا ہے۔‘‘ نوشین اپنی چیزیں سمیٹتے ہوئے کہتی جا رہی تھی ، ’’اب کون روز اچھے اچھے کپڑے لائے اور پوزیشن ہولڈر ہونے کے باوجود بھی خوش حال گھرانوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کی تحقیری نگاہوں سے بھی بچت ہوگئی ہے امّی‘‘۔

یہ کہتے ہوئے نوشین گھر سے باہر نکل گئی اور امّی سوچنے لگیں کہ اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لیے ان کی بیٹی نے کتنا مناسب اور درمیانہ راستہ نکالا ہے اور مطمئن ہوکر گھر کے کاموں میں مصروف ہوگئیں۔

11/9 کے بعد سے اسلامی اقدار کے حوالے سے دنیا بھر میں شدّت پسندی میں اضافہ ہوا ہے اور اسلام میں خواتین کے لیے حجاب کا حکم  اسلام کے حامی اور مخالف دونوں گروہوں کے درمیان موضوع بحث ہے۔ حجاب کی حمایت و مخالفت یا فقہی معاملات سے قطع نظر حجاب کی چند نفسیاتی، معاشی اور سماجی جہتیں بھی ہیں، جنہیں ہمیشہ نظرانداز کیا جاتا ہے۔ برصغیر میں مسلمان خواتین ہمیشہ سے حجاب کے لیے برقعے یا چادر کا استعمال کرتی رہی ہیں مگر گزشتہ دہائی سے یہ حجاب پاکستان میں قدامت پسند اور لبرل طبقے کے انتہا پسندانہ رویوں کی بدولت اپنی اصل تعریف اور مقصد کو کھونے لگا ہے۔ ایک جانب مولوی متاثر طبقہ ہر اس عورت کو بے حیا مانتا ہے اور جنّت کی خوشبو سے محرومی کی وعید سناتا ہے، جس نے روایتی حجاب نا کیا ہو پھر چاہے وہ کتنے ہی سلیقے سے گھر سے نکلتی ہو ۔ دوسری جانب لبرل طبقہ ہر با حجاب لڑکی کو مردوں کا بے بس قیدی سمجھتا ہے اور بالفرض اگر خواتین  یہ دعویٰ کریں کہ حجاب انہوں نے اپنی مرضی سے لیا ہے تو چڑ کر ان کا موازنہ سگنلز پر کھڑی عبایا پوش کال گرلز سے کر دیا جاتا ہے۔

حجاب افغانستان میں طالبان کے ظلم جبر کی علامت ہے، تو فرانس میں خواتین کے آزادیء حقّ انتخاب کی بھی۔ اگر آپ گوگل پر لفظ برقع یا حجاب لکھ کر سرچ کریں تو نتائج بھی انتہا کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہیں خوبصورت باحجاب گڑیا نما ماڈل تو کہیں طالبان کے ہاتھوں کوڑے کھاتی برقع پوش عورتیں اور کہیں حجاب کا مذا‍ق اڑاتی پورن ماڈلز۔

اگر آپ کراچی میں رہتے ہیں اور آپ کو عمیق مشاہدے کی بیماری ہے تو آپ نے گزشتہ دہائی کے دوران کراچی میں ہونے والے آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ کراچی کی خواتین میں حجاب کے بڑھتے ہوئے رجحان کو ضرور محسوس کیا ہوگا۔ اس کی ایک وجہ تو یقیناً مذہبی انتہا پسندی میں اضافہ ہے لیکن اس کی دوسری وجہ سماجی رویّے اور معاشی کشمکش بھی ہے۔ غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی وہ خواتین جو تعلیم یا کسب معاش کے حصول کی خاطر گھر سے باہر نکلتی ہیں اکثر تین وجوہات کی بنا پر حجاب لیتی ہیں، نوشین کی طرح اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لیے ، ہوس ناک نظروں سے کسی حد تک بچاؤ کے لیے اور اپنی عزت نفس کی حفاظت کے لیے۔

حجاب اللہ کی خوش نودی کے لیے کیا جائے یا محرم کی خواہش کے احترام میں یا اپنا بھرم رکھنے کے لیے یہ فیصلہ کرنے کا اختیار صرف اور صرف عورت کے پاس ہونا چاہیے۔ جس طرح خواتین کو زبردستی حجاب میں قید کرنا ظلم ہے، اسی طرح  خواتین کو زبردستی حجاب سے روکنا بھی ظلم ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں انسانی حقوق  کے آرٹیکل 18 کے تحت خواتین کے حق انتخاب کو تسلیم کرتے ہوئے سال 2013 میں ایک قرارداد پاس کی گئی اور یکم فروری کو عالمی یوم حجاب قرار دیا ہے ۔ یہ مضمون ان خواتین کے نام ہے جو اپنی خوشی اور رضامندی سے حجاب لیتی ہیں اور دنیا بھر میں حجاب مخالف تشدّد اور نفرت کا سامنا کررہی ہیں۔

1852 COMMENTS

  1. [url=http://sildenafilepill.com/]sildenafil cost 100mg[/url] [url=http://tadalafilntab.com/]discount brand cialis[/url] [url=http://viagranexx.com/]generic viagra sale[/url] [url=http://apicialis.com/]can i buy cialis without a prescription[/url] [url=http://cialisilab.com/]tadalafil 20mg price[/url] [url=http://worxpharmacy.com/]polish pharmacy online uk[/url] [url=http://axcialis.com/]cialis online australia[/url] [url=http://onlinexpharmacy.com/]reputable overseas online pharmacies[/url] [url=http://asiviagra.com/]order cheap viagra[/url] [url=http://sildenafilvi.com/]where can i order real viagra[/url]

  2. Koh Samui is an ideal place for exploring yoga due to the outstanding natural beauty of the island. Most of Koh Samui is still considered unspoiled and unpolluted. Time on Koh Samui is an opportunity to relax, unwind, explore and focus on yourself. Enjoy the natural energy of palm trees, white sand, purple sunsets, turquoise waters, dense jungle, and exotic waterfalls. Despite being so easily accessible, Samui remains an idyllic island in the sun. Koh Samui is easily reached via an increasing number of direct international flights and over a dozen daily 1-hour flights from Bangkok. Arrive easily with a direct flight from any Asian hub on Bangkok Airways. Our award winning airport will receive you with a selection of shopping and eating options making flying in or out of Samui a breeze. If you’re traveling on a budget, and feeling brave, you can also reach the island via ferry from the mainland Thai city of Surat Thani. Be sure to check ferry times as the schedules are sometimes limited. Vikasa is just a fifteen minute drive from the Samui Airport. Airport pick-up is provided but not complementary for all guests, please for more information get in contact with us. https://vikasayoga.com/ Vikasa Yoga retreat in Thailand is much more than just a hotel with yoga. Vikasa Yoga Re­treat is a transformational, inspiring, and life-changing experience and one of the most reputable places to learn and practice yoga in Thailand. Our rooms are modest, yet comfortable and clean. The landscape and the surroundings are absolutely stunning, there are no words to describe them. You will have to climb a lot of stairs, but the view from the top is so worth it. You might make discoveries here that will create a major shift in your consciousness and even be the beginning of a major change in your lifestyle. And you will definitely meet some amazing people and make some new friends for life.

  3. hello!,I like your writing so so much! share we be in contact extra approximately your article
    on AOL? I require an expert on this area to resolve my
    problem. Maybe that’s you! Having a look ahead to see you.

  4. I’m amazed, I must say. Seldom do I encounter a
    blog that’s both educative and entertaining, and without a doubt, you have
    hit the nail on the head. The problem is an issue that too few
    men and women are speaking intelligently about. I am very happy I came
    across this in my search for something concerning this.

  5. magnificent submit, very informative. I ponder why the opposite specialists of
    this sector do not understand this. You must proceed your writing.

    I’m sure, you’ve a huge readers’ base already!

  6. I’m impressed, I must say. Rarely do I encounter
    a blog that’s both equally educative and engaging, and without a doubt, you’ve hit the nail on the head.
    The problem is something that not enough
    people are speaking intelligently about. I am very happy that I came across
    this during my search for something relating to this.

  7. [url=https://cialisstep.com/]tadalafil order online[/url] [url=https://cialisdpill.com/]generic cialis online india[/url] [url=https://buyrxtablets.com/]how much is clomid in mexico[/url] [url=https://opivermectin.com/]where can i buy stromectol[/url] [url=https://dbpills.com/]where to buy metformin in canada[/url]

  8. [url=http://viagrafmed.com/]sildenafil 5343[/url] [url=http://viagraxbuy.com/]price for viagra in canada[/url] [url=http://ivermectinpn.com/]where to buy ivermectin[/url]

  9. I loved as much as you will receive carried out right
    here. The sketch is tasteful, your authored material stylish.
    nonetheless, you command get bought an nervousness over that you wish be delivering the following.
    unwell unquestionably come more formerly again as exactly the same
    nearly very often inside case you shield this hike.

  10. This Pokemon Duel Hack mechanical meeting is to an superior diploma straightforward to utilize in order that youon the demand of speaking getting
    infinite Gems, for no effort the least bit.

  11. It’s the best time to make some plans for the future and it’s time to be happy.
    I’ve read this post and if I could I desire to
    suggest you some interesting things or tips. Maybe you can write
    next articles referring to this article. I desire to read even more things about it!

  12. I have been surfing online more than 4 hours today, yet I never found any interesting article like yours.

    It is pretty worth enough for me. In my view, if all web owners and bloggers made
    good content as you did, the net will be a lot more useful than ever before.

  13. It’s appropriate time to make a few plans for the long run and it is time
    to be happy. I have read this post and if I could I desire to recommend you some
    fascinating issues or advice. Maybe you can write subsequent articles relating to this article.
    I desire to learn more issues approximately it!

  14. I was curious if you ever considered changing
    the layout of your website? Its very well written; I love
    what youve got to say. But maybe you could a little more in the way of content so people could connect with it better.
    Youve got an awful lot of text for only having one or two images.
    Maybe you could space it out better?

  15. Definitely believe that which you stated. Your favorite reason appeared to
    be on the web the simplest thing to be aware of. I say to you, I definitely get annoyed while people consider worries that they
    plainly don’t know about. You managed to hit the nail upon the top and also defined out
    the whole thing without having side-effects ,
    people can take a signal. Will likely be back to get more.

    Thanks

  16. Do you mind if I quote a few of your articles as long as I provide credit
    and sources back to your site? My blog is in the exact same niche as yours
    and my users would genuinely benefit from some of the information you provide here.

    Please let me know if this okay with you. Appreciate it!

  17. I like the helpful information you supply to your articles.
    I will bookmark your weblog and test again right
    here frequently. I’m reasonably certain I’ll learn many new stuff right right here!
    Best of luck for the next!

  18. Hey I know this is off topic but I was wondering if you knew of any widgets I could add to my blog that automatically tweet my
    newest twitter updates. I’ve been looking
    for a plug-in like this for quite some time and was hoping maybe you would have some experience with something like
    this. Please let me know if you run into anything. I
    truly enjoy reading your blog and I look forward to your new updates.

  19. May I simply just say what a relief to find somebody who really knows
    what they are talking about on the net. You certainly understand how
    to bring a problem to light and make it important.

    More and more people have to read this and understand this side of your story.
    It’s surprising you aren’t more popular since
    you surely possess the gift.

  20. Its like you read my thoughts! You appear to grasp a lot
    approximately this, such as you wrote the book in it or something.

    I think that you could do with some percent to pressure the message house a bit, but other than that, this is fantastic blog.

    An excellent read. I will certainly be back.