سچ، جھوٹ اور سراب
عاطف توقیر
سچ بولنا کبھی آسان نہیں ہوتا اگر سچ بولنا آسان ہو جائے یا آسان لگنے لگے تو اس سچ کے سچ ہونے پر شک کرنا چاہیے۔ سچ کی پاداش میں کئی پیغمبروں کی گردنیں کاٹی گئیں، کئی مفکر تختہ دار پر چڑھے، کئی مورخ اپنے ہاتھ کٹوا بیٹھے، کئی عالم اپنی زندگیاں کال کوٹھریوں میں بسر کرتے مر گئے۔ کاش کہ سچ بولنا آسان ہوتا۔
اس دنیا کا عجیب معاملہ ہے کہ یہاں ہر کوئی یہی چاہتا ہے کہ لوگ سچ بولیں لیکن سچ سننا کوئی نہیں چاہتا۔ دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ ہمیشہ دنیا کے سب سے بڑے سچ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
یہ بات ہے سن 2007 کی ہے۔ میں ان دنوں پاکستان میں ایک ٹی وی پر کام کرتا تھا اور وہاں میری ذمہ داری شارٹ فارمیٹس کی ویڈیوز بنانے کی تھی۔ جب مارچ 2007 میں تب کے چیف جسٹس افتخار چوہدری نے جنرل مشرف کا حکم ماننے سے انکار کرتے ہوئے مستعفی ہونے کا مطالبہ نہ مانا، تو ہم جوش میں آگئے۔ ہم نے کہا ایسا جی دار آدمی کوئی کیسے ہوسکتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ وکلا تحریک شروع ہوئی تو میں صبح سویرے دفتر پہنچ جایا کرتا تھا اور وہاں چالیس پچاس سینکنڈ کے انتہائی طاقتو ر جملوں اور فوٹیج والے ویڈیو کلپ بنا کر شعبہ نیوز کو دے دیتا اور وہ اسے سارا دن ہزاروں بار نشر کیا کرتے تھے۔
یوں وہ انتہائی اوپینینٹڈ قسم کے پروموز سارا دن چلتے رہتے۔ ہم یوں مطمئن تھے کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ کسی نے کسی جرنیل سے یوں ٹکر لینے کی جرات کی ہے، تو ہمیں ساتھ کھڑے ہونا چاہیے۔ یہی اس وقت کا سب سے بڑا سچ تھا۔ مگر دیکھا تو تمام ٹی وی چینلز، تمام صحافی ہر کوئی جرنیل کے خلاف اور جج کے حق میں بول رہا تھا۔
اس لمحے یہ بات ذہن سے نکل ہی گئی کہ سچ بولنا آسان کیسے ہو سکتا ہے؟
خیر برسوں بعد ایک سیاسی رہنما نے بتایا کہ مشرف نے انہیں فون کرکے مدد مانگی تھی کہ انہیں فوج کے اندر ان کے مخالف جرنیلوں سے بچا لیا جائے۔
جب کوئی فوجی سربراہ ایکسٹینشن لیتا ہے، تو اس کی وجہ سے فوج کے نظام میں ترقیوں کا پورا راستہ نیچے تک رک جاتا ہے۔ اس کے بدلے میں یہ دباؤ کم کرنے کے لیے فوجیوں کو نیچے تک، افسروں کو زبردست مراعات دی جاتی ہیں۔ پلاٹس، آسانیاں اور جانے کیا کیا۔ حتیٰ کہ پبلک اوپنین سے دور رکھنے کے لیے ریٹائرڈ جرنیلوں تک کو نوازا جاتا ہے۔
مشرف کے مارشل لا کی وجہ سے نیچے تک ترقیاں رکی رہیں اور اسی وجہ سے مشرف نے کیانی کو وائس چیف آف آرمی اسٹاف تک بنایا، لیکن اس سے مسائل حل نہ ہوئے۔
بعد میں پتا چلا کہ اچانک وکلا، صحافی، میڈیا، جج ایسے ہی بہادر نہیں ہو گئے تھے، بلکہ چابی گھومائی گئی اور فوج کے اندر سے گھومی ہوئی یہ چابی ہی اصل میں یہ سارے معجزے کروا رہی تھی۔
آپ کو یاد ہو گا کہ ایوب خان کے دور کے آخری حصے میں ’ایوب کتا ہائے ہائے‘ کے نعرے لگتے نظر آتے تھے۔ اس وقت کے لوگ یہی سمجھے ہوں گے کہ یہ حقیقی جمہوریت کی جہدوجد ہے۔ ضیاالحق کے دور کے آخری حصے میں لوگ یہی سمجھ رہے تھے کہ سویلین جدوجہد اتنی مضبوط ہو گئی ہے اور قوم ایسی کھڑی ہو گئی ہے کہ ضیاالحق انتخابات کروا کے اقتدار سویلین کو منتقل کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔ تاہم ایسا تھا نہیں۔
وہ ایوب خان تھے یا ضیا یا پھر مشرف یہ تمام اپنے دور کے آخر میں اپنے ہی پیٹی بھائیوں سے پناہ مانگا کرتے تھے۔
پھر اچانک دیکھا کہ ان دنوں جنرل باجوہ کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں، ٹی وی پر اچانک تمام صحافیوں کو سیاست میں فوجی مداخلت کی تباہ کاریوں کا بھی پتا چل گیا ہے، اچانک سے ججوں نے آئین کی بالادستی کے لیے کام بھی شروع کر دیا ہے۔ حتیٰ کہ سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی اور دیگر جماعتوں کے کارکنان جو ماضی میں مجھے اور مجھ سے درجنوں لکھنے والوں کو فوج کی سیاست میں مداخلت پر تنقید پر وطن دشمن، غدار اور جانے کیا کیا کچھ کہتے رہے ہیں، وہ اچانک فوج کی سیاست میں مداخلت کے خلاف ہو گئے ہیں۔
مجھے یاد ہے کہ کچھ برس قبل فیس بک پیچ کے ایک فالور نے میرے پیج پر لکھا کہ عاطف صاحب آپ پاکستان کے خلاف لکھتے ہیں۔ میں نے کہا صاحب میرا تو ایک ایک لفظ اپنے لوگوں کی امانت رہا ہے، میں پاکستان کے خلاف لکھنے کا سوچ بھی نہیں سکتا لیکن اگر میرے لکھے کسی لفظ یا جملے سے یہ تاثر ملا ہے، تو براہ مہربانی حوالے کے طور پر مجھے میرا وہ جملہ یاد کروائیے تاکہ آئندہ مزید احتیاط برتی جائے۔ انہوں نے جواب میں لکھا کہ پاکستان تو نہیں مگر آپ فوج کے خلاف لکھتے ہیں۔ میں نے کہا صاحب ویسے تو ملک کی فوج ایک محکمہ ہے اور ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ فوج پر بات کر سکے تاہم سچی بات تو یہ ہے کہ میں نے فوج کے خلاف بھی کبھی کچھ نہیں لکھا۔ کیا آپ مجھے میرا کوئی جملہ حوالے کے طور پر تحریر فرمائیں گے، جو آپ کو فوج کے خلاف نظر آیا ہو؟
اس کا جواب تھا آپ کہتے ہیں فوج دستور کے نیچے کام کرے۔ میں اس کے بعد بہت دیر تک یہ سوچتا رہ گیا کہ اب اس کے جواب میں میں کیا لکھوں؟ کیا یہ لکھوں کہ فوج دستور سے اوپر کام کرے؟ کیا یہ لکھوں کہ فوج دستور توڑے اور اس کے اس غلط اقدام پر تنقید کوئی نہ کرے؟ کیا یہ لکھوں کہ فوج کو کسی بھی جرم کا حق حاصل ہے؟
مزے کی بات یہ ہے کہ کل اسی نوجوان کے پیج پر جنرل باجوہ کی تصویر کے ساتھ ایک گندی گالی لکھی ہوئی تھی۔
مجھے یاد ہے کہ دو ہزار انیس کے دسمبر میں میرا بارسلونا جانا ہوا۔ وہاں پتا چلا کہ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے دوستوں نے میرا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔
وہاں ایک زبردست تقریب منعقد ہوئی تاہم مجھے میزبان سمیت دیگر شرکاء نے بتایا کہ آپ کے خلاف تو یہاں ایک خوف ناک مہم چلائی گئی ہے کہ کوئی اس پروگرام میں شریک نہ ہو کیوں کہ عاطف توقیر پاکستان دشمن ہے۔
کچھ دن پہلے اس پروگرام کے بائیکاٹ کرنے والوں میں شامل اور تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے بارسلونا کے ایک دوست سے بات ہوئی، جو فوج کی سیاست میں مداخلت پر زبردست جملے لکھ رہے تھے۔ میں نے کہا صاحب یہی کچھ لکھنے پر تو آپ صرف دو ڈھائی برس قبل میرے پروگرام میں نہیں آئے تھے۔ تو بولے کہ ہمیں ایک فہرست ملی تھی، جس میں پاکستان دشمنوں کے نام تھے اس میں آپ کا بھی نام تھا۔
میں نے کہا صاحب فہرست ملی تھی، تو کم از کم یہ تو پوچھتے کہ انہوں نے پاکستان مخالف کہا یا کیا کیا ہے؟
یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک طرف آپ کا دماغ ایسا زبردست چلے کہ اپنے رٹے رٹائے مطالعہ پاکستانی جملوں سے اختلاف کرنے والے ہر شخص کے سامنے آپ جملوں، مثالوں اور سوالوں کا ڈھیر لگا دیں، دنیا جہاں کی دلیلیں، دلیلیں کم پڑیں تو گالیاں تک لکھ دیں اور کوئی منطقی حتیٰ کہ سادہ سی بات ماننے یا سمجھنے سے بھی انکار کر دیں اور دوسری جانب آپ کو کوئی فہرست ملے تو آپ یقین کر لیں، کوئی لیڈر کوئی بات کہہ دے تو سوال تک نہ کریں۔ یہ ممکن کیسے ہے؟
عمران خان نے نے کہا کہ امریکا نے سازش کر دی، تمام انصافی دوستوں نے گانا گانا شروع کر دیا امریکا نے سازش کر دی۔
شہباز شریف نے کہہ دیا کہ ملک کو مشکل دور سے نکالنے کے لیے حکومت لی ہے، تو ن لیگی دوستوں نے منتر پڑھنا شروع کر دیا کہ حکومت نہ لیتے تو ملک باقی ہی نہ بچتا۔
حیرانی اس بات پر ہوتی ہے کہ ایک طرف آپ کو یہ شکایت ہے کہ سچ نہیں بولا جاتا تو دوسری طرف سچ بولنے والوں کو گالی، پتھر اور دشنام کے تیر بھی آپ سے کھانے کو ملتے ہیں۔
کل یہی تحریک انصاف فوج پر تنقید کرنے والوں پر لاکھوں روپے جرمانے اور قید کی سزاؤں کے قانون بنا رہی تھی۔ کیا ان کے فالوروز میں سے کسی نے یہ سوال کیا کہ کل غلط کام کر رہے تھے یا آج غلط کام کر رہے ہو؟ اگر پہلے غلط کام کیا تھا تو اس کی معافی مانگی؟
کل یہی عمران خان جنرل باجوہ کو پاکستانی تاریخ کا سب سے جمہوریت پسند قرار دے رہے تھے، آج ان کے خلاف ٹرینڈ چلوا رہے ہیں۔ کیا ان کے فالوورز میں سے کسی نے پوچھا کہ کل غلط کام کر رہے تھے یا آج غلط کام کر رہے ہو؟ اگر پہلے غلط کام کیا تھا تو اس کی معافی مانگی؟
کل یہی عمران خان امریکی صدر کی کال کے لیے کبھی شاہ محمود قریشی کو بھیج رہے تھے، کبھی معید یوسف کو روانہ کر رہے تھے، کبھی سوشل میڈیا پر فلاں نے کال کرلی امریکی صدر نے کال نہیں کی، کی مہم چلا رہے تھے کبھی امریکا میں پاکستانی سفیر کو سرگرم کرکے فون کال کے لیے لابینگ کر رہے تھے۔ کال نہیں آئی تو امریکا نے سازش کر دی کا نعرہ لگا دیا۔ کیا ان کے فالوورز میں سے کسی نے پوچھا کہ کل غلط کام کر رہے تھے یا آج غلط کام کر رہے ہو، اگر پہلے غلط کام کیا تھا تو اس کی معافی مانگی؟
ایسی ہی لسٹیں آپ دیگر سیاست دانوں کی بھی بنا سکتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ کوئی بھی رہنما اپنے سیاسی مفادات سے باہر نکل کر قوم کا نہیں سوچ رہا۔
اس وقت پاکستان بارشوں کی تباہ کاریوں کا شکار ہے۔ بلوچستان سے وہ وہ ویڈیوز اور تصاویر آ رہی ہیں کہ آپ یقین تک نہ کریں، مگر آپ نے کیا کسی ٹی وی چینل پر اس کا ماتم دیکھا؟
کسی بابا رحمتے کو سو موٹو کا خیال آیا؟ کسی سیاسی رہنما نے اپنے دیگر دھندے چھوڑ کر وہاں کے لوگوں کے ساتھ کھلے آسمان تلے رات بسر کی؟
جب آپ سوال نہیں کرتے تو سیکھتے ہیں اور سوال کرتے ہیں تو سمجھتے ہیں۔ ہم نے اپنے معاشرے کو سیکھنے کا معاشرہ بنا دیا ہے۔ ہر شخص نے ہر بات کا جواب سیکھ لیا ہے۔ ہر مشکل کا حل یاد کر لیا ہے۔ ہر مسئلے کا مقابل گھول کر پی لیا ہے مگر سمجھا کچھ نہیں۔ نہ مسئلہ، نہ سوال، نہ مشکل، نہ جواب۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم میں سے ہر شخص کی یہ خواہش ہے کہ سامنے والا شخص سچ بولے، مگر ہم میں کتنے ہیں جو واقعی سچ سننا چاہتے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ سچ وطن دشمن اور غدار ہے۔ سچ یہ ہے کہ جب تک سچ ہماری مرضی کا نہیں ہو گا، ہم اسے سچ تسلیم نہیں کریں گے۔
سچ یہ ہے کہ جتنا سچ ہمیں نظر آ رہا ہے، وہ ایک خوف ناک جھوٹ ہے کیوں کہ جو سچ ہے، وہ بولنا آسان نہیں ہے۔ اس وقت ٹی وی، سوشل میڈیا، عدلیہ اور سیاستدانوں کو اچانک یاد آنے والا سچ بہت جلدی مکمل جھوٹ نکلے گا۔