ظالمان
مہناز اختر
بچپن میں ہمیں بتایا جاتا تھا کہ ”طالبان اچھے ہیں۔“ بعد ازاں کہا گیا کہ ”طالبان برے ہیں۔“ پھر سنا کہ ”کچھ طالبان اچھے ہیں اور کچھ طالبان برے ہیں۔“ ہم نے یہ بھی مان لیا تھا۔ مگر اب کہتے ہیں کہ سارے طالبان اچھے ہیں۔
میں کیسے مان لوں کہ طالبان اچھے ہیں؟
دیکھیں! طالبان نے فتح مکہ کی یاد دلا دی اور بغیر خون بہائے افغانستان فتح کرلیا۔ کیا آپ کے یقین کے لیئے یہ کافی نہیں کہ انہوں نے عام معافی کا اعلان کردیا ہے اور تمام مخالفین کو معاف کردیا ہے۔
اگر طالبان نے واقعی فتح مکہ کی یاد دلا دی ہے اور وہ خود صحابہ کرام کے پیروکار ہیں تو افغانی عوام ان سے خوف زدہ کیوں ہیں؟ کیوں دوسرے ممالک میں پناہ کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں؟ کیوں لوگ جوق در جوق افغانستان سے زندہ بھاگنے کی جدوجہد کررہے ہیں؟
دیکھیں! بھاگنے والے مغربی نظام کے پیروکار اور بھگوڑے ہیں۔ وہ سب امریکی ایجنٹ ہیں۔
کیا واقعی؟ یعنی آپ کہنا چاہ رہے ہیں کہ سارے لوگ بھگوڑے اور منکر شریعت ہیں؟
جی ہاں! ورنہ شرعی نظام کے نفاذ سے سوائے شیطان کے اور کس کو مسئلہ ہوسکتا ہے۔
یعنی جو طالبانی شریعت کو نہ مانے وہ شیطان کا ساتھی ہے؟
جی ہاں!
آپ اور آپ کے ہم خیال افراد مجھ سے کہتے ہیں کہ شریعت کا نفاذ اور طالبان کا سیاسی احیاء تو افغانستان میں ہوا ہے تو آپ جیسے پاکستانیوں کو یہاں کیا مسئلہ ہے؟
مجھے اس بات کا خوف ہے کہ کہیں یہ بے رنگ شریعت اور بے روح ظالمانی اسلام پھر سے پاکستان کی فضاؤں کو بارود سے نہ مہکا دے۔ مجھے مولانا جلال الدین رومی کا اسلام چاہیے نہ کہ عبد الوہاب کا۔ بطور خاتون مجھے یوں بھی طالبانیوں کے اسلام سے خوف آتا ہے۔ کیونکہ یہ جبر پر مبنی اسلامی پدرشاہی کو فروغ دیتا ہے۔ اس نظام کا سہارا لے پاکستانی مرد بھی خواتین سے ان کی زندگی کے سارے رنگ چھین لیتے ہیں۔
مجھے طالبان کے خدا سے ڈر لگتا ہے۔ ان کا خدا خواتین کی مسکراہٹ سے نالاں رہتا ہے۔ مجھ پر کفر یا توہین کے فتوے نہ لگائیں میں بس ایک مثال دے رہی ہوں کہ مجھے تو طالبان کا خدا بھی سخت گیر مرد لگتا ہے۔ جسے خواتین کے نرم و نازک احساسات کا احساس تک نہیں۔ ایک ایسا خدا جو مردوں کی قتل و غارت، غیر قانونی دھندوں اور جنسی زیادتیوں جیسے بڑے بڑے گناہ بھی اپنی رحمت سے نظرانداز کرتا رہتا ہے لیکن خواتین کو آرائش اور بناؤ سنگھار پر، کھل کر ہنسنے پر، خوشبو لگانے اور خواب دیکھنے پر سخت سے سخت سزا کی وعید سناتا ہے۔
خاتون! طالبان اب کافی بدل چکے ہیں وہ مشاورت سے باقاعدہ حکومت کے قیام کی تیاری کررہے ہیں اور شرعی حدود میں رہتے ہوئے دنیا کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کے خواہش مند ہیں۔ یہ بھی دیکھیں کہ طالبان نے حجاب کے ساتھ خواتین کو تعلیم جاری رکھنے تک کی اجازت دے دی ہے اور پھر افغانستان میں طالبان مخالف احتجاج میں بھی خواتین پیش پیش ہیں۔ اگر طالبان پہلے جیسے ”ظالم!“ میرا مطلب ہے کہ سخت گیر ہوتے تو کیا یہ مظاہرے ممکن تھے؟
کیا واقعی طالبان بدل چکے ہیں؟ مگر کیسے؟
قابض طالبان عوامی حق رائے دہی کے بغیر طاقت کی بنیاد پر اپنی حکومت قائم کرنے جارہے ہیں۔ آپ کا کہنا ہے کہ طالبان اب کافی نرم رویے کے ساتھ آئے ہیں تو اس نرمی اور لچک کی اجازت انہیں کہاں سے ملی۔ صرف دو دہائیوں میں عقائد میں آنے والا واضح فرق یہ بتا رہا ہے کہ یا تو پہلے انہوں نے مذہب کا نام لے کر ظلم کیا تھا حالانکہ نرمی اختیار کی جاسکتی تھی۔ یا اب مذہب ہی کے نام پر قدرے روشن خیالی اور کشادہ دلی ان کی منافقت ہے۔ مجھے بالکل یقین نہیں آتا کہ ظالمان اب واقعی انسان بن چکے ہیں۔