عاطف توقیر

کہتے ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان سن 1947 میں برطانوی قبضے سے آزاد ہو گئے تھے۔ ان دونوں ملکوں میں ہر سال چودھویں اور پندھرویں اگست کو یوم آزادی بھی  منایا جاتا ہے۔ مگر کاش کہ یوم آزادی منانے یا غیرملکی نوآبادیاتی طاقت کے چلے جانے سے کوئی قوم حقیقی معنوں میں آزاد بھی ہو سکتی۔

کچھ دن پہلے میں دہلی میں تھا اور وہاں ایک شدت پسند ہندو نوجوان کی تصویر اخبارات کے صفِ اول پر تھی، جس نے ہاتھ میں پستول اٹھا رکھا تھا۔ اس نوجوان کی فائرنگ کی نتیجے میں جامعہ ملیہ اسلامک یونیورسٹی کے احتجاجی کیمپ میں موجود ایک شخص زخمی ہو گیا۔ فائر کرنے والے نوجوان کا نعرہ تھا، ’’یہ لو آزادی‘۔

اس نعرہ کی وجہ یہ تھی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں طلبہ بھارت میں نئے شہریت قانون کے خلاف مظاہروں میں مصروف ہیں اور ان کا نعرہ ہے کہ وہ شہری آزادی کے حصول تک اجتجاج جاری رکھی گے۔

اس سے قبل پاکستان میں سوشلسٹ طلبہ کے مظاہروں میں ’ہم لے کے رہیں گے آزادی‘ جیسے نعروں پر بھی عوام میں کچھ ایسا ہی پروپیگنڈا پھیلانے کی مہم جاری رہی، جس میں لوگوں کو بتایا جاتا رہا کہ آزادی کا مطالبہ کرنے والے اصل میں ملک توڑنے کی بات کر رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ہم لفظ آزادی کا مطلب فقط ریاست سے آزادی کیوں سمجھتے ہیں؟ یا آزادی سے ہمیں اتنی چڑ کیوں ہے؟

کہتے ہیں اس قیدی کو آزاد کرانا دنیا کا سب سے مشکل کام ہوتا ہے، جسے اپنی زنجیروں سے محبت ہو جائے۔ کچھ یہی صورت حال ہمارے معاشرے کی بھی ہے۔

ایک پرندہ جو ایک مدت سے کسی پنجرے میں قید رہے، اسے پنجرے کا دروازہ کھلا بھی مل جائے، تو وہ باہر نہیں نکلتا۔ اس کے لیے پنجرے کے باہر کی دنیا غلامی ہوتی ہے۔ اسے اپنی آزادی کے خیال سے بھی خوف آنے لگتا ہے۔

آپ نے دیکھا ہو گا کہ ہمارے ہاں احتجاج کے وقت سرکاری عمارتوں، پولیس گاڑیوں، بجلی کے کھمبوں، اہلکاروں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچانے کا رویہ دیکھا جاتا ہے۔ یہ تباہی کرتے وقت کسی کے دماغ میں نہیں آتا کہ یہ تمام چیزیں تو خود اس کے اپنے ٹیکس کے پیسوں سے حاصل کردہ ہیں؟ یعنی وہ خود اپنے ہی پیسوں سے خریدی گئی چیزوں کو توڑ پھوڑ رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ جب گورا ہم پر حکومت کرتا تھا، تب ہمیں بتایا گیا تھا کہ سرکار کی چیزیں توڑو۔ یہ چیزیں ٹوٹیں گی، تو گورے کو لندن سے مال لا کر یہاں خرچ کرنا پڑے اور اس طرح وہ یہاں سے بھاگے گا۔ ملک آزاد ہو جانے کے باوجود ہم اس غلامانہ سوچ سے باہر نہیں نکلے۔ ہمیں آج بھی یہی لگتا ہے کہ جیسے کوئی غیرملکی ہمارا حاکم ہے اور یہ چیزیں اسی کی ہیں اور ہمارا ان املاک سے کوئی لینا دیتا نہیں۔

ایسی ہی حالت ہماری آزادی کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر غلام ہی رہنا تھا، سوچ کو غلام ہی رکھنا تھا۔ تو پھر آزادی لی کیوں تھی؟

آزادی کا لفظ سامنے آتے ہیں آپ کے دماغ میں کیوں نہیں آتا کہ ہمیں استحصال سے آزادی لینا ہے، ظلم سے آزادی لینا ہے، جبر سے آزادی لینا ہے، حقوق غصب کرنے والوں سے آزادی لینا ہے، غربت اور جہالت سے آزادی لینا ہے؟

اس سے بھی بڑھ کر یہ سوال کہ ریاست ہے کیا؟ کیا دنیا کی کوئی بھی ریاست انسانی تکریم سے زیادہ افضل ہو سکتی ہے؟ یہ ریاست تو آج کل کا افسانہ ہیں۔ مگر انسان تو صدیوں سے زمین پر موجود ہیں۔ پرسوں تک ہمارے باپ دادا ہندوستان کی جے ہو کے نعرے لگا رہے تھے، ان سے پہلے ہمارے ہی آباؤاجداد مغلوں کی سلطنت کے گیت گا رہے تھے، ان سے پہلے کوئی اور ہم پر حاکم تھا اور آج ہم پاکستان زندہ باد کہہ رہے ہیں، مگر پاکستان زندہ باد کے اس نعرے کی لفاظی اہم ہے یا اس کا حقیقی رنگ دیکھنے کی بھی ضرورت ہے؟ پاکستان اس خطے پر بسنے والی مختلف قوموں کی فیڈریشن ہے، جو اس بنیادی معاہدے پر قائم کی گئی تھی کہ یہاں بسنے والے تمام انسانوں کی زندگیوں کو بہتر بنایا جائے گا۔ یہاں انسانوں کی تعلیم، صحت، خوراک اور دیگر بنیادی ضرورتیں پوری کی جائیں گی اور اس ملک میں مساوی رویوں کے ذریعے تمام انسانوں کو ترقی دی جائے گی اور ان کے معیار زندگی کو بہتر بنایا جائے گا۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہماری حالت برطانوی دور کی غلامی میں بہتر تھی یا آج ہم بہتر ہیں؟

اس سوال کے جواب میں کوئی منچلا ضرور پکارے گا کہ آپ ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت نہیں دیکھ رہے؟ ایسے لوگوں سے پوچھیے کہ تقسیم سے تو برصغیر کے مسلمان تین حصوں میں بٹ گئے۔ اس تقسیم کو اگر ہم ایک منٹ کے لیے تصور سے ہٹائیں تو کیا آپ جانتے ہیں کہ اس خطے میں مسلمانوں کی مجموعی تعداد کتنی ہے؟ اور اگر یہ مسلمان تقسیم نہ ہوئے ہوتے، تو اس وقت حالات ایسے نہیں ہو سکتے تھے؟