احسن بودلہ

حال ہی میں چیف جسٹس آف پاکستان جناب آصف سعید کھوسہ نے آسیہ بی بی کی سزائے موت معطلی کے فیصلے کے خلاف دائر کردہ نظرِثانی کی اپیل مسترد کر دی ۔ اپیل کی سماعت کے دوران چیف جسٹس صاحب نے اپیل دائر کرنے والے قاری اسلام کے وکیل مصطفےٰ ملک سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ “جو اسلام کا چہرہ ہم دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں، اس پر وہ بہت افسردہ ہیں۔ جس کے مطابق کسی بھی شخص پر جھوٹی شہادتوں کی بنیاد پر توہینِ مذہب کا مقدمہ بنا دیا جاتا ہے ۔ آسیہ بی بی کے کیس میں بھی جھوٹی شہادتیں دی گئی ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ ہم ان کی بنیاد بناکر اس کو موت کی سزا سنادیں؟ ہم ایسا نہیں کر سکتے اس لیے میرٹ پر نظرِثانی کی یہ اپیل خارج کی جاتی ہے۔” اس فیصلہ کے بعد اطلاعات کے مطابق آسیہ بی بی کو کینیڈا میں ان کے بچوں کے پاس منتقل کر دیا گیا ہے جو وہاں پہلے سے موجو د ہیں ۔کیونکہ یہاں پر ان کی جان کو خطرہ تھا۔

آسیہ بی بی کو 2010 میں توہینِ مذہب کے ایک جھوٹے الزام میں شیخوپورہ کی عدالت کی طرف سے سزائے موت سنائی گئی، جسے ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا۔ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر اور پیپلز پارٹی کے دور میں اقلیتی وزیر شہباز بھٹی کو آسیہ بی بی کے حق میں آواز اٹھانے پر شہید کیا گیا ۔ مگر اسیہ بی بی کو اتنے سال انصاف نہ ملا۔ بالاآخر 30 اکتوبر 2018 کو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے آسیہ بی بی کی سزائے موت کو معطل کر دیا اور ان کو رہا کرنے کا حکم دیا۔ مگر تحریک ِلبیک پاکستان اور دیگر مذہبی جماعتوں کے دباو کی بناء پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرِثانی کی اپیل دائر کی گئی۔ جس کے اب خارج ہونے سے آسیہ بی بی کو آٹھ سال جیل میں رہنے کے بعد رہائی نصیب ہوئی۔ اس وقت ہمارے ملک میں ستر سے زائد لوگوں پر آئین کے آرٹیکل 295 سی کے تحت توہین مذہب کے مقدمات قائم ہیں۔ ان میں زیادہ تعداد آسیہ بی بی کی طرح غیر مسلموں کی ہے۔ جن کو اپنی ذاتی مخالفتوں کی بناء پر ان مقدمات میں پھنسا دیا جاتا ہے اور وہ چاہ کر بھی اپنی بے گناہی ثابت نہیں کر پاتے ۔

ایسے ہی ایک بد نصیب انسان جنید حفیظ ہیں ۔ جن کو 13 مارچ ، 2013 کو توہینِ مذہب کے الزام میں گرفتار کیا گیا ۔وہ اُس وقت بہاوالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں انگلش لٹریچر کے لیکچرار تھے۔ جنید کا تعلق جنوبی پنجاب کے شہر راجن پور سے ہے۔ وہ شروع سے ہی پڑھائی میں بہت اچھے تھے۔ انھوں نے انٹرمیڈیٹ کے امتحان میں گولڈ میڈل لینے کے بعد لاہور کے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں ڈاکٹر بننے کے لیے داخلہ لیا ۔مگر دو سال وہاں پڑھنے کے بعد ان کا دل بھر گیا اور انھوں نے ملتان کی بہاوالدین زکریا یونیورسٹی میں لٹریچر ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ لے لیا۔ اپنی ڈگری کے دوران سال 2009 میں وہ فل برائٹ سکالرشپ پر امریکا کی جیکسن برڈ اسٹیٹ یونیورسٹی چلے گئے ۔ وہاں سے لٹریچر میں ڈپلومہ پورا کرنے کے بعد سال 2011 میں جنید واپس بہاوالدین یونیورسٹی آگئے ۔اور وہاں اپنی ڈگری پوری کرنے کے فوراً بعد انھوں نے بطور لیکچرار لٹریچر ڈیپارٹمنٹ میں پڑھانا شروع کر دیا۔

جنید نے اپنی محنت اور قابلیت کی بناء پر بہت تھوڑے وقت میں یونیورسٹی انتظامیہ اور طلبہ کے دل میِں گھر کر لیا تھا۔ ان کی اس قابلیت کی وجہ سے یونیورسٹی انتظامیہ ان کو مستقل پوسٹ پر نوکری دینے کا عندیہ دے چکی تھی۔ اس پوسٹ پر اسلامی جمعیت طلبہ کے لوگ اپنا بندہ رکھوانا چاہتے تھے۔ وہ لوگ پہلے ہی جنید کی قابلیت اور ان کے روشن خیالات سے خائف تھے ۔ اس لیے انھوں نے جنید پر توہینِ مذہب کا جھوٹا الزام لگا کر ان کے خلاف مقدمہ درج کروادیا۔ جس کی بناء پر جنید حفیظ کو گرفتار کر لیا گیا ۔ جیسے ہی ان پر یہ الزام لگا تو باقی سب کے ساتھ یونیورسٹی انتظامیہ نے بھی ان کی مدد کرنے سے انکار کر دیا۔ اور حالات یہ تھے خوف کی وجہ سےکوئی بھی وکیل ان کا کیس لڑنے کےلیے تیار نہیں تھا۔ بالآخر انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان ، ملتان کے صدر اور وکیل راشد رحمان نے جنید کو انصاف دلانے کا بیڑہ اٹھایا۔

راشد رحمان بہت محنتی اور قابل وکیل تھے ۔ اس کے ساتھ وہ غریب اور مستحق لوگوں کی ہر طرح سے رہنمائی اور مدد بھی کرتے تھے۔ انھوں نے بہت محنت سے جنید کا کیس تیار کیا اور عدالت میں پیش ہونا شروع کر دیا۔ اس پر جنید کے مخالفین کی طرف سے ان کو دھمکیاں دی گئیں کہ۔ وہ جنید کے مقدمہ سے دستبردار ہو جائیں ورنہ ان کو جان سے مار دیا جائے گا۔ راشد رحمان نے ان دھمکیوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بھی جیند کے مقدمہ کی پیروی جاری رکھی۔ جس پر جنید کے مخالفین نے عدالت میں سماعت کے دوران ، جج اور اتنے لوگوں کے سامنے ان کو آخری وارننگ دی کہ وہ کیس کی پیروی سے باز آجائیں ۔ اس کے کچھ دن بعد ہی8 مئی 2014 کے دن راشد رحمان صاحب کو ان کے دفتر میں فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا۔ مگر ستم ظریفی دیکھیئے کہ بھری عدالت میں سرِعام ان کو جان سے ماردینے کی دھمکیاں دینے کے باوجود کسی کے خلاف بھی کوئی کاروائی نہ کی گئی۔ اس سے ہمارے سماج کی بے حسی، خوف اور ریاست کی کمزوری واضح ہوتی ہے ۔

راشد رحمان صاحب کی شہادت کے بعد ملتان میں وکلاء کے چیمبرز میں پمفلٹ تقسیم کیے گئے ، جن میں راشد صاحب کے شہید کیے جانے کا دفاع کیا گیا تھا۔ اور باقی وکلاء کو جنید کا مقدمہ لڑنے سے روکا گیا تھا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کوئی بھی وکیل ان کا کیس لڑنے کو تیار نہیں ہو رہا تھا۔ اور اگر کوئی اگر حامی بھرتا بھی تھا تو کچھ عرصہ کے بعد وہ مارے جانے کے خوف سے مقدمہ سے الگ ہو جاتا تھا۔ یہی وجہ پے کہ راشد رحمان صاحب کی شہادت سے لیکر اب تک جیند کےمقدمہ میں چھ وکیل تبدیل ہو چکے ہیں۔ اور وہ تقریباً چھ سال سے جیل میں اپنی زندگی گزارنے پر مجبور ہے ۔ آسیہ بی بی کی رہائی کے موجودہ فیصلے کے بعد اس کے لیے بھی امید پیدا ہوئی ہے کہ اس کی طرف بھی دیکھا جائے کیونکہ وہ بھی اتنے سالوں سے انصاف کا منتظر ہے۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے بطور چیف جسٹس حلف اٹھانے کے بعد اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ وہ بے جا از خود نوٹس کا استعمال نہیں کریں گے جو کہ بہت خوش آئند بات ہے ، مگر ان سے اپیل ہے کہ وہ جنید حفیظ کے کیس میں ضرور از خود نوٹس لیں۔ تاکہ آسیہ بی بی کی طرح جنید حفیظ کو بھی انصاف مل سکے۔ رہا ہو کر بھی شائد آسیہ بی بی کی طرح یہاں تو نہ رہ پائے لیکن کم از کم اس کی طرح باہر کے کسی ملک میں اپنی زندگی آزادی سے تو گزار پائے گا۔۔۔!!

Previous articleگلگت بلتستان کا دوسرا رُخ’
Next articleمخصوص مذمت کیوں؟ یہ مذمت نہیں منافقت ہے