ماریا رضوی

ہماری ایک کنسلٹنٹ دوست نے پچھلے دنوں ہمیں اپنی “پہلی”   شادی پر مدعو کیا۔ عمر ٥٢ سال، پہلے تعلق سے دو بچے، بیٹی ١٨ کی ہو گئی تو اب ماں کی ذمہ داری نہیں ہے اور دوسری بیٹی ہائی اسکول میں پڑھتی ہے اور کچھ سال بعد وہ بھی “انڈیپنڈنٹ”  ہو جائے گی۔ تقریباً ١٢ سال پہلے ایک بینکر سے محبت ہوئی دونوں ساتھ رہنے لگے۔ پارٹنر کا ایک گھر تھا جس کا مورگیج آدھا ادا ہو چکا تھا۔ وکیل کے مشورے پر ایک ایگمریمینٹ کے تحت مورگیج ہماری سہیلی کے نام منتقل کیا گیا اور فیصلہ ہوا کہ شادی تب کرینگے جب خاتون باقی کی قسطیں دے کر گھر میں برابر کی شراکت دار ہو جانے۔  جیسا آج کل یہاں انگلستان میں ہوتا ہے نہیں تو دونوں اپنا اپنا حصہ لے کر جب چاہیں چلے جائیں۔ دسمبر میں الله کے فضل سے قسطیں پوری ہوئیں اور پھر شادی ہو گئی۔ اب طلاق کی صورت میں دونوں کو آدھا آدھا حصہ ملے گا۔ محبت سچی ہے لیکن توقع کے مطابق بیٹیوں کا خرچہ (کھانا پینا) خاتون کے ذمے ہے اور خاتون میری طرح “وجیٹیرین”  ہے اس لیئے گوشت کی خریداری میں وہ حصہ نہیں ڈالتیں۔ 

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ تہذیب میں  “پک اینڈ چوز” نہیں ہوتا۔ یہ ایک پورا پیکج ہوتا ہے۔  آپ کھینچتے دم ہیں اور ہاتھ پورا کتا لگتا ہے۔ انگلستان میں بے شمار اچھائیاں ہیں لیکن وہ یہاں کی برائیوں کے ساتھ بیلنس ہوتی ہیں ناکہ پاکستان کی۔  یہاں کی انسانیت اس معاشرے کی انفرادیت، کھوکھلے پن اور باہمی عدم اعتماد کے ساتھ ایک عجیب سے توازن میں ہیں۔ یہاں جسم پر مرضی ملنے سے “ریپ” ختم نہیں ہوے،  جنسی ہراسانی ختم نہیں ہوئی۔ ہمارے آکسفورڈ سے پڑھے اور دنیا گھومے وزیر اعظم بورس جونسن پر بھی الزامات لگے۔ استثنیات ہر جگہ ہوتی ہیں جو یہاں بھی ہیں۔ یہاں تو یہ عام بات ہوگئی ہے صرف انگلینڈ میں ہر تین میں سے ایک  “پراسٹی ٹیوٹ” ڈگری ہولڈر ہے جو “مجبوراً” جسم بیچنے پر آمادہ ہے۔ ہر پانچ میں سے ایک کم عمر لڑکی “شوگر ڈیڈی” کی تلاش میں ہے۔ ہر چار میں سے ایک لڑکی نفسیاتی مسائل کا شکار ہے اور ذہنی دباؤ سے نپٹنے کے لیے طبی مدد لیتی ہے۔ یورپ میں پندرہ اور سولہ سال کی پینتیس فیصد  لڑکیاں “کلاس-اے” ڈرگز استعمال کر چکی ہیں یا انکی عادی ہیں (منشیات کے اعداد و شمار ٢٠٠٥ کے ہیں)۔ اب حالات مزید خراب ہیں۔ 

سال ٢٠١٩ میں صرف انگلینڈ میں ٥٨ ہزار جنسی زیادتی کے جرائم رپورٹ  ہوئے، جو اس معاملے میں امریکا اور کافی سارے ممالک سے بہتر ہے۔ اس میں نشے کی حالت میں کی جانے والی جنسی زیادتی کے کیس شامل نہیں ہیں۔ ریپ کرائسس سینٹر کے مطابق ٣١ فیصد خواتین بچپن میں “سیکشول ایبیوز”  کا شکار ہوئی ہیں۔ یہاں ہر گھنٹے میں گیارہ rape attempts ہوتے ہیں۔ یہاں گھریلو تشدد کے تیرا لاکھ کیس رپورٹ ہوئے، جن میں ایک لاکھ اقدام قتل یا سنگین تشدد کے تھے۔ اب تو نصابی مباحثوں میں بھی “ماں، بیٹا، بہن، سوتیلےوالد، بیٹی، abuse and punishment  اور دیگر واہیات “جنسی رجحان” کے معاشرتی مضمرات پر باتیں ہوتی ہیں۔ انٹرنیٹ واچ فاونڈیشن کے مطابق امریکا میں “چائلڈ پورن” سب سے تیز ترین انڈسٹریز میں سے ایک ہے اور مغرب چائلڈ پورن کا سب سے بڑا کنزیومر ہے۔ چھ لاکھ سے زائد چائلڈ پورن ٹریڈرز کی نشان دہی ہوئی ہے اور صرف ٢٠١٩ میں ٣٧٧١ گرفتاریاں ہوئیں۔ ایک تھنک ٹینک  ناف -از-انف کے مطابق دنیا کا ٩٢ فیصد چائلڈ پورن کانٹینٹ بلترتیب پانچ ممالک: ہالینڈ، امریکا، کینیڈا، فرانس اور رشیا سے آتا ہے۔

لکھا تو بہت کچھ جا سکتا ہے لیکن یہ موضوع نہیں ہے۔ بتانا یہ تھا کہ  یہ لوگ تو آزاد ہیں، باشعور ہیں، دنیا کی چھٹی بڑی اکانومی ہے، سب سے پڑھی لکھی اور آزاد قوموں میں ان کا شمار ہوتا ہے پھر یہاں اتنی بری حالت کیوں ہے؟  اگر یہ نجات کا راستہ ہے تو گوروں کو اس ظلم سے نجات کیوں نہیں ملی؟ مجھے مرض کی موجودگی سے اختلاف نہیں لیکن جو دوا تجویز کی جارہی ہے اور جس طریقے سے علاج کی کوشش ہو رہی ہے وہ شاید کارگر نہیں ہے۔ یوں لگتا ہے مرض مزید  پیچیدہ ہوگیا ہے۔ انقلاب سڑکوں پر چیخیں مارنے سے نہیں آتا۔ یہ بچکانہ پن ہے۔ یہ مضبوط فکر، انتھک محنت اور لوگوں کو اپنے قریب لانے سے آتا ہے۔ دنیا میں حقوق کی کئی تحریکیں ہیں جنہیں خاطر خواہ کامیابیاں ملیں، ان میں سے عورتوں کے حقوق کی تحریک suffragette  بھی ہے، اسے ضرور پڑھیے (لیکن اس کا موازنہ چیچہ وطنی سے نہ کیجے گا کیونکہ پوسٹ وکٹورین انگلینڈ بہت مختلف تھا۔ جو قدران تحریکوں میں یکساں ہے وہ “عام” لوگوں سے ریلیٹ کرنا ہے. ورنہ تو ان تحریکوں کے نتائج توقع کے برعکس ہی ہوتے ہیں۔ اس سے معاشرے کے پسے ہوئے طبقے کو نقصان پہنچتا ہے۔  suffragette کی تحریک کا مطالعہ کریں، پڑھیں کہ برطانیہ میں عورتوں کو ووٹ کا حق کیسے ملا۔ ہمارے ہاں یوں لگتا ہے جیسے اپر مڈل اور اربن کلاس کی عورتوں نے عورت مارچ کے ذریعے لبرلزم اور وومن رائٹس کو ہائی جیک کر لیا ہو۔ جیسے یہ انکی جاگیر اور ور ثہ ہو۔ یا تو آپ عورت مارچ کو سپورٹ کرتے ہیں یا پھر آپ خلیل قمر اور مولویانہ سوچ کے ساتھ ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے اسرائیل پر تنقید کو اینٹی- سیمٹزم ( یہودی مذاہب مخالف) مانا جائے یا پھر پاکستانی اسٹبلشمنٹ  پر تنقید کرنے والے کو “را” کا ساتھی۔ حال یہ ہے کہ اچھے بھلے لوگ “اوبسیسیو کمپلسیو ڈس آرڈر (OCD)” کا شکار ہو رہے ہیں۔ یعنی مجھے مخالفت یا تائید ضرور کرنی ہے نہیں تو فلاں فلاں ہونے کا ٹیگ نہ لگ جائے۔ لوگوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کچھ کہیں، ہر مدعے پر بولیں اور وہ بولیں جو انکا ٹولہ ان کا گروہ سننا چاہتا ہے۔ نہیں تو ” فلاں لوگ میری فرینڈ لسٹ سے نکل جائیں” کے اشتہارات لگنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ہم متبادل بیانیے کیوں برداشت نہیں کر سکتے؟ ہمیں یہ کیوں لگتا ہے کہ اگر کسی کو ہماری سوچ یا رویے پر اعتراض ہے تو وہ جاہل ہے؟   ہم جناح سے منظور پشتین تک اور اقبال سے ملالہ تک کسی پر بھی تنقید کا حق کیوں نہیں رکھتے؟ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم لبرلز کے نام پر منافقت کا شکار تو نہیں ہیں؟ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہو گا کہ گوشت پکانا اور سوشل چینج لانا، دونوں کے لیے صبر اور حوصلہ چاہیے ورنہ تو گوشت جل جاتا ہے اور سوشل چینج کی تحریک معاشرے سے ٹھکرائے جانے کے بعد کسی بڑے ہوٹل کی چھوٹی پیالی میں طوفان کا سبب بنتی ہے۔ 

ہمیں اپنے اچھے سماجی اقدار  کی قدر کرنی چاہیے اور جو کمزوریاں ہیں، برائیاں ہیں،  انھیں مل بیٹھ کے دور کرنا چاہیے۔ بھائی، باپ، بیٹا تو الگ، چچا اور ماموں کے رشتے بھی میٹھے ہوتے ہیں۔ کیا بوڑھے، کیا بچے پاکستان میں  ہر کوئی زینب کے لیے رویا۔ پاکستان میں چوکیداروں کی، مزدوروں کی بیٹیوں کی تصویریں اپنے ماں باپ کے ساتھ اخباروں میں چھپتی ہیں۔ کوئی ڈاکٹر بن رہی ہے،  کوئی کہیں ٹاپ کر رہی ہے اور ان کے باپ بھائی فخر سے پھولے نہیں سماتے لیکن ان لڑکیوں کو کامیاب کسی مارچ نے نہیں اپنی محنت نے بنایا۔ ان کے ابا بینر پڑھ کے بیدار نہیں ہوئے۔ انہوں نے اپنی نیندیں قربان کر کے بیٹیوں کے خواب پورے کیئے۔ پسینے میں ٹپکتی ہوئی محبت، سینے میں دبی مبجبوری، اور ان سنی سسکیاں!  کس کے لیئے؟

بیٹیوں کی خوشیوں کے لیئے! ہم تو باپ کے بعد بھائی کو  باپ کی جگہ سمجھتے ہیں۔ اب یہ نہیں معلوم کہ یہ بھائی سے بےتحاشا محبت ہے یا باپ سے۔ باقی رہی بات آزادی کی تو زندگی میں سنجیدہ تعلقات کا مشاہدہ بھی کیا، اپنےجسم  پر اپنی مرضی کا اختیار بھی ملا، اچھی جامعات میں تعلیم بھی حاصل کی، کیریئر بنایا، خودمختار ہوئے لیکن اخوت اور مروت کے وہ جذبے جو ایک روایتی گھر سے ملے، نیم خواندہ ماں کی چپل اور تہجد گزار دادا کی شفقت میں ملے کہیں اور نہیں دیکھے۔  یوں تضحیک اور تفریق کر کے آپ اور تو کچھ حاصل نہیں کر سکتے، لیکن ان عورتوں کے آگے بڑھنے، روشن مستقبل اور آزادی کے راستے ضرور بند کر دینگے جو مہمند ایجنسی، لورالائی، تھر اور ڈیرہ غازی خاں کے رور دراز علاقوں میں رہتی ہیں۔ محض اپنی انا کے زعم میں ایسے کام نہ کریں کہ مرد تو مرد، پاکستان کی عورتوں کو بھی “عورت کی آزادی”  کے نعروں سے گھن آنے لگے۔