مہنازاختر

خدا خدا کرکے عورت مارچ کا دن اس مرتبہ تقریباً و نسبتاً خیریت سے گزر گیا سوائے ایک انتہائی ناخوش گوار واقعے کے۔ گزشتہ برس کی نسبت اس برس سارے ڈھول باجے،  فتوے بازیاں، گالم گلوچ اور الزامات کی پٹاریاں مارچ سے پہلے ہی کھلی پڑی تھیں اور دونوں پارٹیاں سارا شوروغل مچا چکیں تھیں۔ پچھلے سال کا تمغہ “غیرت و جسارت”  اوریا مقبول جان کے نام رہا تھا تو اس بار کا میلہ خلیل الرحمن قمرصاحب نے لوٹ لیا۔ افسوس مگر اس بات کا ہوا کہ جمیعت علماء اسلام کے کارکنوں کی جانب سے اسلام آباد میں عورت مارچ کے شرکاء پر پتھراؤ کیا گیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ دارالحکومت کی انتظامیہ سے سوال کیا جاتا کہ مذہبی شدت پسندی کے ماحول میں دو انتہائی نظریات کے نمائندہ گروہوں کو صرف ایک قنات کی آڑ رکھ کر ایک وقت میں ریلی کی اجازت کیوں دی گئی؟   کیا ہم نہیں جانتے کہ پاکستان میں فکری اور نظریاتی یا انفرادی آزادی کی بات یا مطالبے کو اسلام اور نظریہ پاکستان سے بغاوت تصور کیا جاتا ہے اور ایسی بات کرنے والوں کو یہودی یا را کا ایجنٹ ثابت کرکے ملک دشمن قرار دے دیا جاتا ہے۔ ویسے بھی اس بار تو 8 مارچ سے پہلے ہی ایڑی چوٹی کا زور لگایا جارہا تھا کہ کسی طرح عورت مارچ یا حقوق نسواں کی حمایت کرنے والے تمام افراد کا تعلق الحاد سے جوڑ دیا جائے پھر ایسے ماحول میں دونوں ریلیوں کو اتنا قریب رکھنے کہ پیچھے منصوبہ آخر تھا کیا یہ بات قابل غور ہے۔ 

مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ اس بار عورت مارچ کی انتظامیہ نے زیادہ سنجیدہ اور محتاط رویہ کا مظاہرہ کیا۔ واضح رہے کہ ماروی سرمد عورت مارچ کی منتظم یا کرتا دھرتا نہیں ہیں بلکہ اس مارچ کی حمایت کرنے والی مضبوط آوازوں میں سے ایک ہیں۔ آپ ماروی سرمد کو سنجیدگی سے لیتے ہیں یا نہیں یہ آپ کی صوابدید ہے۔ میرے لیئے بھی ماروی سرمد اس مارچ کی حمایت میں اٹھنی والی ایک کرخت اور تلخ آواز ہیں بالکل خلیل الرحمن قمر جیسی اور مجھے ذاتی طور پر سنجیدہ گفتگو یا مباحثوں میں تلخ اور کرخت آوازیں اصل موضوع یا مقصد کو سبوتاژ کرنے کی دانستہ کوشش لگتی ہے کیونکہ ان کی وجہ سے معاشرے میں سنجیدہ مکالمت کے لیئے گنجائش کم ہونے لگتی ہے، نظریاتی ٹھگ متحد ہوجاتے ہیں اور سارا زور ایک دوسرے کو ملعون ثابت کرنے میں لگایا جاتا ہے۔ ایک دکھ والی بات ضرور ہے کہ ہمارے یہاں حقوق اور انفرادی آزادی کی بات کرنے والی ہر خاتون کو بدکردار، بے غیرت،  رنڈی یا طوائف کہنے کا چلن عام ہوچکا ہے۔ معذرت مگر اب ہم بہ حیثیت مجموعی صرف اور صرف خاتون اول بشرٰی عمران خان جیسی وضع و قطع رکھنے والی خاتون کو ہی باحیا، پروقار مسلمان عورت سمجھتے ہیں وگرنہ کبھی محترمہ فاطمہ جناح جیسی پروقار خاتون ہماری آئیڈیل تعلیم یافتہ پاکستانی خاتون تھیں جو نسوانی خودارادیت اور فکری آزادی کی منہ بولتی تصویر ہوا کرتی تھیں مگر اب وہ زمانے گئے۔ 

پاکستان کا روایتی مشرقی معاشرہ دراصل جدید اور قدیم معاشرت کے   اتصال یا ٹکراؤ کے مقام پر کھڑا ہے جہاں جدید اور قدیم فکر ایک دوسرے کے عین سامنے سینہ تانے مدمقابل ہیں، گویا اتنی ہلچل، اتنا اضطراب بالکل فطری ہے لیکن بہ حیثیت خاتون مجھے تھوڑا اضطراب و اختلاف وہاں محسوس ہوتا ہے جہاں پاکستانی مرد نے اسلام کا انضمام دورِ جدید کی ہائی ٹیک طرز زندگی سے کرلیا ہے اور بڑی خاموشی سے پاکستان کا اسلام اپنے لیئے ماڈریٹ کرچکا ہے لیکن اس کے برعکس اپنی خواتین کے لیئے قرون اولی کا اسلامی طرز زندگی ہی تجویز کرتا ہے بلکہ ان پر مسلط کرنا چاہتا ہے۔ میرے نزدیک “میرا جسم میری مرضی”  میرے حق خودارادیت کا سلوگن ہے اور میں اسکی مخصوص وضاحت کرنے والے نظریہ خلیل الرحمان قمر اور نظریہ ماروی سرمد سے اختلاف رکھتی ہوں کیونکہ میں ایک انفرادی سوچ رکھنے والا دماغ ہوں۔ میں جس طرح قدامت پسند اسلامی معاشرے کے تصور سے اختلاف رکھتے ہوئے ماڈریٹ مسلم سوسائٹی کی حامی ہوں وہیں میں حقوق نسواں اور لبرل ازم کی بنیادی اقدار کو ایک روایت پسند معاشرے کے مزاج و ماحول میں دوستانہ طریقے سے گھل مل جانے کے حق میں بھی ہوں، یہی میری فکری و انفرادی آزادی ہے کہ میں سوچنے، سمجھنے اور سوال کرنے کی آزادی چاہتی ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ مرد میرے اور خدا کہ درمیان یہ کہہ کر چھلانگ نا لگائے کہ  “میرا جسم اللہ کی مرضی” کیونکہ خواتین کا ٹکراؤ خدا سے نہیں بلکہ پدرشاہی سماج سے ہے۔ مکالمت خواتین اور مردوں کے مابین ہونی ہے پر کچھ فیصد مرد اچھل کر خواتین اور خدا کے درمیان آبیٹھے ہیں جو خواتین کو بتاتے ہیں کہ سوچنا، سمجھنا اور سوال کرنا میرا domain ہے تمہارا کام بلا چوں چرا میری توضیح پر لبیک کہنا ہے اور بس۔ 

8 مارچ سے چند روز قبل معروف سنجیدہ ہزارہ سماجی کارکن اور وومن ڈیموکریٹک فرنٹ کی روح رواں جلیلہ حیدر نے فیس بک پر تحریر کیا کہ ہماری چند سہیلیاں عورت مارچ میں سینٹری نیپکنز اٹھا کر پدرشاہی کے خلاف احتجاج کرنا چاہتی تھیں لیکن میں نے ان سے معذرت کرلی کہ ہم ان سینٹری نیپکنز کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے آپ کے اس قدم سے ہماری تحریک کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔ سچ پوچھیں مجھے جلیلہ جیسی سنجیدہ  سماجی کارکن کی جانب سے اس سنجیدہ طرزعمل کے مظاہرے سے دلی خوشی ہوئی۔ حقیقت یہی ہے کہ ہمیں یہ فراموش کیئے بغیر نئی بات کو مکالمت کے لیئے سماجی دھارے میں نہیں لانا چاہیے کہ بہرحال ہم ایک قدامت پسند معاشرے کے باسی ہیں۔ پاکستان جہاں تعلیم کی شرح بے حد پست اور سطحی ہے وہاں منفرد اور آزاد، سوچ رکھنے والے دماغ آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ یہاں menstruation کا موضوع اب بھی ٹاپو ہے اور کسی خاتون کا اس موضوع پر کھلے عام بات کرنا بے حیائی سمجھی جاتی ہے تو ایسے پوسٹرز یا نعرے واقعی حقوق نسواں کی جدوجہد کو فائدے کے بجائے نقصان پہنچاتے ہیں۔ یوں بھی میں کیسے ریاست سے سستے یا مفت سینٹری نیپکنز کے حصول، کا مطالبہ کرسکتی ہوں جب پاکستانی عوام کی اکثریت بنیادی ضروریات اور خوراک سے ہی محروم ہے۔ 

 نظریات کی کھینچا تانی اب بھی زور و شور سے جاری ہے اور مرد و زن ایک دوسرے کو برتر و بہتر ثابت کرنے کے لیئے ایک سے بڑھ کر ایک بوسیدہ دلیل دیتے نظرآتے ہیں لیکن ایک بات بہ حیثیت فریقین مرد و خواتین دونوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ قدرتی اور طبعی جواز کی بنیاد پر آپ آج کے دور میں خود کو برتروبہتر ثابت نہیں کرسکتے۔ خواتین اس بنیاد پر خود کو مردوں سے افضل قرار نہیں دے سکتیں کہ قدرت نے انہیں زندگی کو جنم دینے کے لیئے منتخب کیا اور مرد خواتین کو حیض کی بنیاد پر خود سے ادنیٰ اور ناپاک قرار نہیں دے سکتے۔ عورت مارچ کو چند بے باک نعروں یا پوسٹرز کی بنیاد پر رد کرنا یا خواتین کی فکری آزادی کو گناہ سے تشبیہ دینا ایک اجتماعی معاشرتی بے وقوفی ہوگی اگر آپ کے خیال میں عورت مارچ کی حمایت کرنے والی لبرل خواتین ایک مراعت یافتہ طبقے سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کا پاکستان کی عام خواتین کے مسائل سے کچھ لینا دینا نہیں تو مان لیجیے کہ مذہبی جماعتوں کی نمائندہ خواتین بھی اسی مراعت یافتہ مذہبی طبقے سے تعلق رکھتی ہیں جنہیں شہروں اور دیہاتوں میں رہنے والی عام خواتین کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں۔ آپ خود سے سوال کریں کہ جماعت اسلامی،  جمیعت علماء اسلام یا کسی بھی مذہبی تنظیم نے کب پاکستان کی عام خواتین کے مسائل پر آواز اٹھائی ہے، کب گھریلو تشدد یا کم عمری کی جبری شادی، خواتین کی صحت اور روزگار کے مواقع ان کا موضوع رہے ہیں؟