کامران امتیاز

گزشتہ حکومت کے پانچ سالوں میں عمران خان اور ان کی حکومت نے جہاں ایک جانب ماضی کے حکمرانوں اور حکمرانوں کے رائج نظام پر سخت ترین تنقید کے تیر برسائے ساتھ ساتھ ہی انہوں نے اپنی جماعت کو اس حثیت میں پیش کیا کہ برسراقتدار آتے ہی ان کی ٹیم 90 دن میں ملکی حالات تبدیل کر دے گی۔ 90 دن ختم ہوئے تو قوم سے چھ ماہ کا وقت مانگا گیا، پھر دو سال میں چمن میں بہار لانے کا وعدہ ہوا،  اور اب تو ٹائم فریم سے باہر نکل کر اللہ پر توکل کی باتیں ہو رہی ہیں۔ یہ حقیقت ہے  کہ کامیابی اور ناکامی کا تعین آسان نہیں ہے۔ بقول عمران خان، ” انہیں مزید وقت چاہیے کیونکہ ماضی میں برسراقتدار طبقے نے ملک کو کھوکھلا کر دیا اب اسے دوبارہ ٹریک پر لانا  ایک مشکل مرحلہ ہے  جس کے لیے طویل وقت درکار ہے۔“

چند لمحات کے لیئے اگر ڈوبتی معیشت، منفی گروتھ ریٹ، مسلسل قرضہ جات، روز بروز پھیلتا ہوا کشکول،  ان سب کو بھول بھی جایا جائے، اور اگر حکومتی امور جن کو عموماً  گڈ گورنینس کہا جاتا ہے، کو پرکھا جائے تو کامیابی اور ناکامی کا تعین کیا جا سکتا ہے۔ تبدیلی کے نعرے سے عام عوام کی جو توقعات تھیں، حکومت کے اقدامات ان سب کے برعکس ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ ملک میں ایسی قانون سازی ہو گی، جہاں جرائم  اپنی موت آپ مرجائیں گے۔ ہر شہری کو انصاف میسر ہوگا۔ ایسا پاکستان بنے گا،  جہاں ادارے آزاد مگر اپنی آئینی حدود میں رہ کرکام کریں گے۔ پولیس ریفارمز جو تحریک انصاف کی ”تبدیلی“ کا ایک اہم جزو تھا، آج بھی ہر شہری کا دیرینہ مطالبہ ہے۔ احتساب اب انتقام کے سوا کچھ نہیں۔ عدالتی فیصلوں اور جگتوں میں کوئی فرق نہیں۔ انصاف اسی کو میسر ہے جو اسے خرید  سکے۔ گویا ہر طرح سے یہ حکومت اب تک ایک ناکام حکومت ثابت ہوئی ہے۔

جمہوری نظام میں اپوزیشن کا کردار حکومتی پالیسیوں میں کمزوری اور خامیوں کے علاوہ عوامی مسائل کی نشاندہی اور اس کے حل کے لیئے قابل عمل تجاویز دینے کا ہوتا ہے۔ مضبوط اپوزیشن کے ہوتے ہوئے حکومت کبھی بھی غلط اور کمزور پالیسیاں ترتیب نہیں دے سکتی۔ تاہم بدقسمتی سے یہ بس خواب و خیال ہے کہ کبھی پاکستان میں اصولوں کی سیاست ہوگی اور اختلافات بھی اصولوں کی بنیاد پر ہی ہوں گے۔  بائیس سالوں سے اپوزیشن کے صحرا میں بھٹکتے لوگوں کو جب آبِ اقتدار میسر آیا، تو آتے ہی سب سے پہلے سینٹ کو فتح کیا۔ سیاسی حلقوں کا خیال تھا کہ ملکی سلامتی اور بہتری کے لیئے حکومت کو سینٹ میں چیئرمین کی اشد ضرورت تھی، اس لیئے اسٹبلشمینٹ کی مدد سے ایک معروف کمپنی کے غیر معروف چیئرمین منتخب ہوئے۔ اس انتخاب میں حکومت اور اپوزیشن کے بجاۓ اپوزیشن بمقابلہ اپوزیشن رہی، اور بوٹوں کے خوف سے وفاداریاں تبدیل ہوتی رہیں، لیکن کسی کو جمہوریت کا خیال نہیں آیا۔

بعدازاں جب حکومت سے احسانات کے بدلے کی فرمائش ہوئی تو سارا آئین چھان مارا، آئین کے آرٹیکلز آرمی ایکٹ اور آرمی ریگولیشن رولز کہیں سے بھی مدت ملازمت میں  توسیع یا دوبارہ تعیناتی کا ذکر نہیں ملا تو حکومت نے آقا کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے فرد واحد کے لیئے قانون سازی کا فیصلہ کیا تو سوائے جماعت اسلامی اور چند قوم پرست جماعتوں کے سب نے شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری دکھائی۔ تب بھی جمہوریت خطرے سے باہر رہی۔ قومی اسمبلی میں جب ایک غیر مسلم رکن اسمبلی نے شراب پر پابندی کا بل پیش کیا تو مدینہ کی ریاست کے دعویداروں نے اسے سستی شہرت قرار دیا اور اپوزیشن نے تب بھی بل کی مخالفت میں حکومت کا بھرپور ساتھ دیا۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ ریپ کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔ صرف پنجاب میں گزشتہ 6 ماہ میں 1500 سے زائد ریپ کیسز سامنے آئے ہیں۔ نہ ہمیں ننھی زینب کی چیخ و پکار جگا سکی اور نہ موٹروے درندگی کیس پہ ہم شرمندہ ہوئے۔ سراج الحق کی جانب سے پیش کردہ زینب الرٹ بل کی حکومت اور سیکولر اپوزیشن دونوں نے مخالفت کی اور ثابت کیا کہ وہ عوامی مسائل سے بے نیاز عالمی استعمار کے مفادات کے تحفظ کے لیئے اسمبلیوں میں موجود ہیں۔ ایوان میں اگر کوئی اسلامی قوانین کی بات کرتا ہے تو حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کا بھی سیکولرازم جاگ اٹھتا ہے۔ اسی طرح کی صورتحال گزشتہ دنوں، جب قومی اسمبلی میں ایف اے ٹی ایف کے حکم پر قانون سازی کر کے ایوان کی توہین کی گئی، جوعوام کی نظر میں منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیئے ہے لیکن حقیقت میں یہ جہاد کے خاتمے، مساجد اور مدارس کی تعمیرات اور فنڈنگ کی راہ میں رکاوٹ اور قادیانیوں کے تحفظ کےلیئے ہے۔ اس سب میں  حکومت نے غلامی کا طوق بڑے شوق سے پہنا۔ مگر ساتھ ساتھ اپوزیشن نے بھی اپنے 37 ارکان غائب کرکے حکومت کا بھرپور ساتھ دیا۔ آپسی اقتدار کی جنگ اپنی جگہ مگر مغربی آقاؤں کا حکم نامہ دونوں کے لیئے یکساں قابلِ احترام ہے۔

جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد اکیلے ہی ایوان میں چیختے رہے کہ چند ٹکوں کی خاطر اپنے نظریے اور غیور قوم کا سودا مت کریں لیکن ان کی پکار کسی نے نہ سنی۔ جماعت اسلامی اپنے اصولی مؤقف پر تنہا مگر ڈٹی رہی بل  کی مخالفت بھی کی اور  اعتراضات بھی  دلیل کے ساتھ اٹھائے۔ ان سب حوادث  کے بعد اب اپوزیشن نے نیب کی طلبیوں سے تنگ آکر حکومت پر پریشر ڈویلپ کرنے  کے لیئے آل پارٹیز کانفرنس بلائی، مگر اپوزیشن کوئی  واضح مؤقف نہیں پیش کرسکی اور نہ ہی کسی ایک بیانیے پر اتفاق ہو سکا۔ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کو جہاں کرپشن کے خلاف کیسز میں یکساں مشکلات پیش آرہی ہیں، وہیں  ماضی قریب کی تلخیاں بھی موجود ہیں۔ اسمبلیوں سے استعفے، اٹھارویں ترمیم اور اسٹبلشمینٹ کے خلاف بظاہر سخت مؤقف میں دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں میں اختلافات واضح ہیں۔ اس کے برعکس جماعت اسلامی کے نزدیک اپوزیشن اور  حکومت دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ حکومت اگر چوروں کی آماجگاہ ہے تو اپوزیشن بھی ابا بچاؤ مہم میں مصروف ہے۔ جماعت اسلامی کسی کرپٹ خواہ  حکومت میں ہوں یا  اپوزیشن میں ان کے تحفظ کی تحریک کا حصہ ہر گز نہیں بنے گی۔ جبکہ مولانا فضل الرحمن ماضی قریب میں ایک تلخ تجربہ کرچکے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو وقتِ قیام، اپوزیشن سجدے میں گر جائے اور مولانا کو سجدہ سہو کرنا پڑ جائے۔

Previous article”شارٹ کٹ“ کا معاشرہ
Next articleکوہِ دامان میں مسائل کے انبار اور سیاسی نمائندگان کی عدم توجہی