حیدر راجپر

گزشتہ ماہ ایک دوست کے ساتھ کسی برطانوی فنکار کی مزاحیہ وڈیو دیکھی جو اپنی قوم کے بارے میں لطیفے سناتے ہوئے لوگوں کو ہنسا رہا تھا ۔ میں نے دوست سے پوچھا کہ یہ اپنی قوم اور نسل کے بارے میں لطیفے سنا رہا ہے اور سننے والے بھی اسی قوم سے تعلق رکھتے ہیں ، تو ان کو برا نہیں لگتا ؟ اس دوست نے جواب میں کہا کہ بالکل نہیں ان لوگوں کے پاس فن اور ٹیلنٹ کی بڑی اہمیت ہے اس لئے وہاں کے فنکاروں کو یہ آزادی حاصل ہے ، اور یہ فنکار بھی اپنی قوم سے بڑی محبت کرتے ہیں یہ صرف لوگوں کو ہنسانے کے لئے ہوتا ہے اور چونکہ یہ لوگ مہذب قوم سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے اگر کوئی عام شخص قوم پر تبرہ کرے تو بھی ان کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔ یہ تو پھر بھی ایک فنکار ہے۔

اس کے برعکس ہمارے سماج میں ان فنکاروں کی کیا عزت ہے یہ دیکھنا ہے تو آج کل سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی نتالیہ گل کی وڈیو اور اس وڈیو پر لوگوں کے کمینٹس دیکھ لیں۔

نتالیہ گل جو بذات خود ایک سندھی ہے نے سندھیوں کے بارے میں ایک مزاحیہ پروگرام کیا تو فوراً سماجی ویب سائٹس پر موجود چند نام نہاد دانشوروں نے اس پروگرام کو سندھی قوم کی توہین سمجھ کر ، اجتماعی غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے عام سندھی کو یہ بتایا کہ اس لڑکی نے تہذیب یافتہ سندھی قوم کو گالی دی ہے ۔ پھر ایک عام سندھی نے اس فنکارہ کو گالیاں اور دھمکیاں دینے میں کوئی رعایت نہیں کی ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ وہ لوگ بھی اس فنکارہ کو گالیاں دے رہے تھے جو خود دیگر قوموں کے بارے میں لطیفے شیئر کیا کرتے ہیں ۔ اس فنکارہ نے بالآخر ایک وڈیو پیغام کے ذریعے سندھیوں سے معافی مانگ لی اور کہا کہ برائے مہربانی مجھے ریپ اور قتل کی دھمکیاں مت دیں۔ کچھ عرصہ قبل انور مقصود کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوا تھا۔

اب سوال یہ ہے کہ ایسے مزاحیہ پروگراموں پر احساس کمتری کا شکار ہو کر فنکاروں کو گالی دینے یا ان سے معافی کا مطالبہ کرنے سے کیا ہماری تہذیب و ثقافت بلندیوں تک نہیں پہنچ جائے گی ؟ یا کسی کے مزاحیہ پروگرام سے ہماری پانچ ہزار سالہ قدیمی تہذیب کو نقصان ہوجائے گا ؟

حقیقت یہ ہے کہ ہم مردہ دل ہوگئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے یہاں فنکاروں سے زیادہ انتہاپسندوں اور خودکش بمباروں کی تعداد زیادہ ہے۔