عائشہ سلیم

ویلنٹائن ڈے ایک غیر اسلامی اور غیر شرعی تہوار ہے۔ اس کو منانا حرام ہے اور ایسے افراد سزا کے مستحق ہیں، جو اس حرام دن کو حرام طریقے سے مناتے ہیں۔یہ جملہ اور اسی طرح کے کئی جملے ہماری سماعت سے گذرتے ہیں۔ لیکن پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حرام دن حرام طریقے سے منانا غلط ہے تو یقینا” حلال طریقے سے منانا جائز ہوگا۔ یا پھر یہ کہہ لیں کہ پبلک مقامات پر منانا غلط لیکن پرائیویٹ مقامات پر منانا صحیح ہے۔لیکن نہیں اس دن کی مخالفت کے طور پر تو ہمیں حیا ڈے منانا چاہئے، کیونکہ ہم تو مسلمان قوم ہیں اور اسلامی ثقافت کے پیروکار ہیں ۔ کیونکہ ہم اسلامی روایات کے امین ہیں ۔

میرا سوال ان تمام مکتبہ فکر کے افراد سے ہے کہ حیا ہمیں صرف حیا ڈے پر ہی کیوں آتی ہے؟ کیوں ہم بےحسی اور بےغیرتی کا لبادہ اوڑھےاپنے مکانات میں دبک کر بیٹھ جاتے ہیں، جب کوئی6 سالہ بچی درندگی کا شکار ہوجاتی ہے یا جب کسی 15 سالہ لڑکی کو کاروکاری کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے؟ ہماری حیا کہاں سوجاتی ہے، جب ایک جواں سال بیوہ کے جسم کو کسی چوہدری کے کتے بھنبھوڑتے ہیں جو اُسی چوہدری کی درندگی کا نشانہ تین دن تک بننے کے بعد نیم مردہ ہوجاتی ہے؟

اس دن ہم حیا کیوں نہیں مناتے، جس دن کسی خاندان کا واحد کفیل نامعلوم افراد کا نشانہ بن جاتا ہے، یاکسی گھر کی واحد پڑھی لکھی لڑکی حق کی آواز بلند کرنے کی پاداش میں اپنے رکھوالوں کے ہاتھوں خون میں نہلا دی جاتی ہے؟کس دھرم شالہ میں حیا کے علم بردار سوئے ہوتے ہیں، جب کوئی بوڑھا پنشن حاصل کرنے کی لائن میں گھنٹوں انتظار کے بعد دم توڑ دیتا ہے؟ اس دن ہم حیا کیوں نہیں کرتے جب سڑک سے گذرنے والی کسی لڑکی کا ہم آنکھوں سے ایکسرے کرتے ہیں؟ کہاں مر جاتی ہے ہماری غیرت جب ہم کسی کی بہن کے ساتھ تو ویلنٹائن ڈے منانا چاہتے ہیں لیکن اپنی بہن کو چھپا کر رکھتے ہیں ۔

پھر منافقت کی انتہا تو یہ کہ “سے نو ٹو ویلنٹائن ڈے” کا ٹیگ لگا کر مشرقی روایت کے نام نہاد امین بن جاتے ہیں۔ نیو ائیر ڈے، برتھ ڈے، مدرز ڈے ،فادرز ڈے ،وومن ڈے، چلڈرن ڈے، ڈس ا یبیلٹی ڈے، کینسر ڈے اور اسی طرح کے کئی دن منائے جاتے ہیں، یہ بھی تو کسی فرنگی کے در کی خیرات ہیں، جو بہت ہنستے مسکراتے تقسیم کی جاتی ہے ۔ لیکن جہاں بات محبت کی آئے ہمیں حیا آجاتی ہے۔ ویلنٹائن کیا تھا اور کیوں یہ دن منایا جاتا ہے یہ ہم سب جانتے ہیں۔ لیکن اس دور میں جہاں حیات مشکل ہے وہاں محبت کا دن اپنے پیاروں کے ساتھ بھی تو منایا جا سکتا ہے۔ان بوڑھے ماں باپ کو محبت سے نواز کر جو آپ کے گھر کے کسی کونے میں عرصے سے آپ کی ایک جھلک کے لئے بے تاب رہتے ہیں، سڑک پر بھیک مانگتے ملک کے مستقل کے ساتھ بھی تو محبت کا دن منایا جا سکتا ہے۔ زندگی اور موت کی کشمکش میں الجھے افراد کے ساتھ بھی تو یہ دن منایا جا سکتا ہے،  جو سطحی حرکتیں پارکوں ،کلبوں اور تفریحی مقامات پر محبت کے نام پر کی جاتی ہے وہ کچھ بھی ہو سکتی ہے کم از کم محبت نہیں۔ہم کوئی انسانیت کا دن کیوں نہیں منا سکتے، کیوں کوئی روٹی دے ڈے منایا نہیں جا سکتا کوئی کپڑا ڈے کیوں نہیں منایا جا سکتا اور جب اس نفسا نفسی کے دور میں جہاں نفرت تقسیم کرنے میں ہم تن آسان ہیں لیکن محبت بانٹتے ہمیں حیا آتی ہے۔

ہمیں ہر لمحہ جاگنے کے لئے مغرب کی بے ساکھیوں کی ضرورت کیوں پڑتی ہے، آخر کب تک ہمیں حیا مغرب دلاتا رہے گا ؟ آئیے ایک عہد کرتے ہیں کہ اس نفرت کے بازار میں محبت بانٹیں گے،اس بے حیائی کے دور میں حیا تقسیم کریں گے اس مشکل وقت میں آسانیا ں پھیلائیں گے۔
نفرتوں کے دیس میں
بانٹتی محبتیں
پھر رہی ہوں ایک میں
ایک سر پھری ہوا

42 COMMENTS

Comments are closed.