عطاءاللہ نصری خیل

پاکستانی سیاست میں اسلام، غداری اور کفر کے فتوؤں کا اہم کردار رہا ہے۔ جہاں اور جب بھی اس کی ضرورت پیش آتی حکومتِ وقت اور اسٹیبلیشمنٹ نے دل کھول کر سیاست دانوں اور مخالفین کو تھما دئیے جاتے ہیں۔ ہماری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی حزب اختلاف کی جماعتوں یا دوسرے سیاسی و سماجی قائدین نے مفاہمتی سیاست سے کنارہ کشی کر کے (مجبوراً) مزاحمتی سیاست کا راستہ چن لیا ہو تو مقتدر قوتوں اور حکمران جماعت( بشمول پس پردہ طاقتور ترین قوتیں) نے غداری، حب الوطنی اور کفر کے کارڈ کا استعمال زبردست طریقے سے کیا ہے۔ طاقت کی مثال نشے کی سی ہے۔ ایک بار جب کوئی جماعت اقتدار کے ایوانوں پر قابض ہو جاتی ہے یعنی اقتدار میں آ جاتی ہے تو چاہتی ہے کہ وہ قابض ہی رہے۔ کسی نے خوب کہا ہے کہ Once in power stay in power جب اس کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو پھر وقت کی ضرورت سمجھتے ہوئے غداری کے سرٹیفکیٹس اور حب الوطنی کے تمغے بانٹنا شروع کر دئیے جاتے ہیں۔

تاریخ کے اوراق پر نظر دوڑائیں تو جن لوگوں نے بھی پاکستان کے استحکام کی بات کی، پاکستان کے اتحاد کی بات کی، عدلیہ کی آزادی کی بات کی، آئین اور قانون کی بالادستی کی بات کی، اداروں کو اپنے حدود کے اندر کام کرنے کی درخواست کی، صوبائی خودمختاری کی بات کی، ووٹ کو عزت دو کی بات کی، فوج اور اسٹیبلیشمنٹ کو سیاست سے دور رہنے کی تلقین کی، میڈیا کی آزادی اور آزادی رائے کی تائید کی، انسانی حقوق کی تحفظ کی بات کی، تو اس کو غدار کے لقب سے نوازا گیا ہے۔ پاکستان مخالف، ملک دشمن عنصر، بھارتی ایجنٹ اور مودی کا یار جیسے القابات سے نوازا گیا ہے۔ پچھلے دنوں وسعت اللہ خان نے اپنے ایک کالم میں بڑی خوبصورت بات لکھی تھی کہ اسٹیبلیشمنٹ نہ تو کسی کی مستقل حریف ہوتی ہے اور نہ مستقل حلیف، اس سے اتفاق کرنا بجا ہوگا کیونکہ اسٹیبلیشمنٹ کا کام کام کروانا/نکلوانا ہوتا ہے۔ آج اگر وہ آپ کو اقتدار میں لا کر اپنا کام نکلواتی ہے تو کل یہ عمل پچھلے کے برعکس بھی ہوسکتا ہے۔

میں یہ نہیں کہتا کہ صرف اسٹیبلیشمنٹ ہی یہ کام کرتی ہے یا کرواتی ہے بلکہ کوئی بھی حکمران جماعت بلکہ یوں کہیں کہ ہماری سیاست کا یہی وطیرہ رہا ہے۔ ہر وہ لیڈر یا حکمران جس نے عوامی شہرت اور مقبولیت حاصل کی، جمہوریت کو مضبوط بنانے کی کوشش کی اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا تو غداری اس کے حصّے میں آئی۔ اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ وہ تمام لوگ جو پاکستان کی تاریخ میں غدار قرار دئیے گئے ہیں اصل میں وہ جمہوری اور محب وطن پاکستانی تھے۔ مثال کے طور پر حسین شہید سہروردی،  جو ایک بنگالی لیڈر تھے ان کی قربانیوں کو کوئی فراموش نہیں کر سکتا۔ تحریک پاکستان کے وقت اور قیام پاکستان کے بعد اس کی قربانیوں کی ایک لمبی داستان موجودہے۔ پاکستان کے دونوں دھڑوں یعنی مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کو یکجا رکھنا ان ہی کی مرہون منت تھا، مگر حکومت وقت نے غدار قرار دے دیا۔ اس کے بعد ساٹھ کی دہائی میں جب الیکشن کا زمانہ تھا تو سیاسی مخالفت اور پاکستان کو توڑنے کی جھوٹی سازش میں جرنیلی حکومت کی طرف سے بابائے قوم کی بہن فاطمہ جناح کو بھی غداری کا تمغہ ملا۔ ایسا ہی کچھ خان عبدالوالی خان کے ساتھ بھی ہوا۔ غداری کے الزامات کا یہ سلسلہ کبھی تھما ہی نہیں۔ جب شیخ مجیب الرحمن کو   سیاست کے میدان سے باہر کر دیا گیا اور جمہوری فیصلوں میں مشرقی پاکستان کے لوگوں کا خیال نہیں رکھا گیا تو آخر کار وہ مزاحمتی سیاست پر اتر آئے اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ شیخ مجیب الرحمٰن کو غدار قرار دیا گیا۔ آخر کار مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کی صورت میں آزاد ہوا۔

اس کے ذمہ دار ذوالفقارعلی بھٹو اور یحییٰ خان دونوں تھے۔ پھر ایک وقت آیا کہ ذوالفقار علی بھٹو جو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے باپ تھے، کو نام نہاد علماء نے کافر قرار دے دیا اور بعد میں شاہی محل والوں نے پھانسی بھی دے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو اگر ایٹمی پروگرام کے باپ تھے تو اس کی بیٹی محترمہ بینظیر بھٹو میزائل پروگرام کی ماں تھی۔ محترمہ کے دور اقتدار میں ٹیکس ریونیو دوگنا جبکہ ملکی معاشی استحکام میں تین گنا اضافہ ہوا اور پاکستان دس بڑی تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا، ان کو بھی غدار کے مبارک لقب سے نوازا گیا۔ نواز شریف جس نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنا دیا بھارتی ایجنٹ قرار پایا۔ اگر عوامی لیڈروں کی بات کی جائے تو شیخ مجیب کی طرح جب اکبر بگٹی نے مزاحمتی سیاست کا راستہ اختیار کیا اور اپنے صوبے کے وسائل پر بلوچوں کے حق کی بات کی تو غدار قرار دے دیا گیا۔ صرف غدار ہی نہیں بلکہ بڑی بے رحمی سے شہید بھی کر دیا گیا۔ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والا بابا جان اور اس کے ساتھی آج بھی جیل کے سلاخوں کے پیچھے پڑے ہیں کیونکہ ان کا قصور یہ تھا کہ وہ اپنی عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہے تھے۔

حالیہ دنوں میں اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے حکومت کے خلاف پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا اعلان ہوتے ہی غداری کے سرٹیفیکیٹس بانٹے جانے لگے اور مقتدر جماعت تحریک انصاف کے اہم رکن نے مسلم لیگ کے قائد میاں نواز شریف، سمیت چالیس لوگوں کے خلاف غداری کی ایف آئی آر درج کروادی۔ وجہ یہ ہے کہ اب مسلم لیگ اور اپوزیشن جماعتوں نے مل کر حکومت کے خلاف مزاحمت کا فیصلہ کرلیا ہے۔ دوسرا راستہ چونکہ بچا نہیں اس لیئے پہلے شہباز شریف کو جھوٹے کیسز میں گرفتار کرلیا گیا تاکہ اپوزیشن کو کمزور کیا جاسکے۔ اس سے مقصد پورا نہیں ہوا تو میاں نواز شریف کے بیان کو نشر کرنے پر پابندی لگا دی گئی اور بعد میں غداری کا ٹھپہ لگا کر بھارتی ایجنٹ بھی قرار دے دیا گیا۔ صرف یہی نہیں آزاد کشمیر کے منتخب وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے خلاف بھی ایف آئی آر کاٹی گئی ہے۔ اگر حقیقی معنوں میں دیکھا جائے تو فاروق حیدر کے خلاف ایف آئی آر درج کروانا بھارتی عزائم کو تقویت بخشنے کے مترادف ہے، وہ وزیراعظم جو لوگوں نے منتخب کیا ہے اس کے خلاف ایف آئی آر درج کروانا باعث ندامت ہے۔

یہاں ایک بات ضرور یاد رکھنی چاہیے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے آج اگر آپ کسی کو غدار قرار دیتے ہیں تو کل کوئی اور آپ کی جگہ لے کر آپ کو بھی غدار قرار دے دے گا۔ 

Previous articleجو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے
Next articleگلگت بلتستان اور سقوط کشمیر