ارشدسلہری

جنسی بے راہ روی  مذاہب کی لغت میں کبیرہ گناہ ہے۔ اسلام میں اس کو بدترین فعل قراردیا ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں جس قدر مذہب کا رجحان پایا جاتا ہے اس سے زیادہ جنسی بے راہ روی کی بہتات ہے۔ مذہبی مقامات  ہم جنس پرستی کے محفوظ ٹھکا نے ہیں۔ جس میں دینی مدرسے، مساجد، خانقاہیں، مذہبی جماعتوں کے وہ مراکزجہاں شب بیداریاں یا عبادات کے لیئے اجتماعات ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں مدارس کے ہاسٹل اور دوسری جانب جدید اور فیشن ایبل نجی تعلیمی ادارے اور کئی این جی اوز اس کار میں مصروف ہیں۔

خیال تھا کہ جنسی بے راہ روی  کی وبا دیہاتی علاقوں میں ہے لیکن بعد ازاں تحقیق کرنے پہ انکشاف ہوا کہ یہ وبا شہروں میں تو بہت ہی زیادہ ہے۔ شہروں میں تو منظم طریقے سے جسم فروشی اور جنسی بے راہ روی ہو رہی ہے۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے بے شمارگروہ ہیں۔ ہم جنس پرستوں، ہیجڑوں، زنخوں اور  زنانوں کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ جبکہ ہم جنس پرست مردوں کی تعداد کے بارے میں فیس بک اور ویب سائٹس  کے ذریعے معلوم ہوا کہ ان کی تعداد بھی کروڑوں میں ہے۔ عورتیں بھی اس معاملہ میں پیچھے نہیں ہیں۔ جسم فروشی کادھندہ بھی دن دگنی رات چوگنی ترقی کررہا ہے۔ ہم جنس پرست عورتوں کی تعداد بھی قابل ذکر ہے۔ سیکس ورکرز کی تعداد ایک سروے کے مطابق اس وقت 3لاکھ کے قریب ہے۔ جس میں میل اور فی میل دونوں ہیں۔ ہم جنس پرستی کے حوالے سے ایک سروے اور تحقیق کے مطابق ایسے ایسے لوگوں کے بارے  میں انکشاف ہوا ہے کہ جن کے بارے سوچا بھی نھیں جا سکتا تھا اور اگر ان کے نام لیئے جاتے ہیں تو شاید کفرکے  فتوے شروع ہو جائیں اور بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے بھی ہوں۔ اعلی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں رہائش پذیر بڑے بڑے نام والے معززین اور ان کے بچے اور بچیاں نہ صرف ہم جنس پرستی کی دلدادہ ہیں بلکہ جنسی بے راہ روی  کے فروغ کے لیئے بھی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ جنسی جنون و ہیجان کا یہ عالم ہے کہ معصوم بچوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انٹرنیٹ میں ننگی فلمیں اور تصاویر دیکھنے والے دنیا بھر میں پاکستانیوں کی تعداد غیر معمولی اور چونکا دینے والی ہے۔ بچوں سے زیادتیاں، کم عمرلڑکیوں کے ساتھ  زنا بالجبر جیسے واقعات سے اخبارات بھرے ہوتے ہیں۔

ایسا سماجی ناہمواری اور مذہبی جبر کے باعث ہے۔ ماہرین کے مطابق جنسی فاقہ کشی بھی جنسی بے راہ روی کا سبب ہے، فلموں میں ہیجان انگیزمناظراور انٹرنیٹ تک رسائی ،رہنمائی نہ ہونا اور سیا سی عدم استحکام جیسی صورتحال اور مذہبی جاہلیت کے باعث بھی جنسی بے راہ روی کو فروغ حاصل ہوا ہے۔ ایسی صورتحال سے بچنے یا نجات حاصل کرنے کے لیئے پاکستان کو سیکس فری ملک قرار دیاجاسکتا ہے اور سیکس کی تعلیم عام کرنے سے  لوگ سیکس کے تجسس سے باہر نکل سکتے ہیں۔ مگر مذہبی طبقے نے سیکس کانام لینا بھی کفر قرار دے رکھا ہے۔ سیاسی طبقات مذہبی جتھوں سے خوف زدہ رہتے ہیں اور بات نہیں کرتے ہیں۔ حکمران اقتدار کےلیئے خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔ریاست کے ادارے اپنے فرائض انجام دینے سے گریزاں نظر آتے ہیں۔ اس حالات کی مکمل نشاندہی سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ  ملک کی حکومت، اپوزیشن، پولیس، صحافی اور دیگر بالا طبقات میں انسانوں کی شکل میں عجیب و غریب قسم کے درندے چھپے بیٹھے ہیں، جنہیں اس ملک کے عام انسان کے مسائل سے دور کا بھی کوئی انسانی واسطہ نہیں ہے۔ اس صورتحال کے تناظر میں ازحد ضروری ہے کہ اہل فکر طبقات سوشل میڈیا اور نرم بستروں سے باہر نکلیں اور اصلاحِ احوال، سیاسی بے راہ روی اور جنسی بے راہ روی کے خاتمے کےلیئے مؤثر اور جامع حکمت عملی ترتیب دیں۔

Previous articleافغان سہ فریقی مذاکرات، کس کی جیت کس کی ہار؟
Next articleڈی۔ایل۔ایس۔آر کے ساتھ میری پہلی پہلی آوارگی